247

کیا ہم بھی اپنے رویوں پر غور کر سکتے ہیں؟

من جیت وِرک اور سمن وِرک کا دکھ ہجرت کا سفر کرنے اور ان دکھوں کو سہنے والوں میں سب سے بڑا تھا‘ وہ جنہوں نے کینیڈا کی طرف ہجرت کرنے کو اپنا سب سے بڑا سکھ گردانا تھا وہ ان کی زندگی کا روگ بن گیا‘ انکی نوجوان بیٹی رینا ورک صرف 14سال کی عمر میں ہی اپنی کلاس فیلوز کی بُلیbully کا شکار ہو گئی‘ سمن ورک کہتی ہے رینا جب بھی سکول سے واپس آتی تھی انتہائی پریشان اور دکھی ہوتی تھی‘ وہ رنگت میں سانولی تھی اور صاف نظر آتا تھا کہ اس کی رنگ ونسل گوروں سے مختلف ہے‘ کلاس کی لڑکیاں اسکو قبول نہ کرتی تھیں اور اس کو لڑکیوں کا ایک گروپ ہر وقت تضحیک کا نشانہ بناتا تھا‘ اکثر اسکے بالوں میں چیونگم چبا کر ایسے چپکا دی جاتی تھی کہ وہ کسی طرح اترتی نہ تھی‘ وہ جب بھی سکول کے گیٹ سے داخل ہوتی تھی اس پر آوازے کسے جاتے اور اس کو آتے جاتے کبھی کندھے سے کبھی ٹانگ سے اس طرح دھکا دیاجاتا کہ وہ ضرور ہی گر جاتی‘ یہ سلسلہ اسکی پرائمری کلاسوں سے شروع ہوا اور ہائی سکول تک جاری رہا اور آخر ایک دن اس گروپ کی سرغنہ لڑکی جسکی عمر بھی صرف 16سال تھی اور رینا اسوقت 14سال کی تھی‘ اس نے ایک تنہا سڑک پر ایک ویران ندی کے پاس کچھ اور لڑکیوں کیساتھ رینا کو پکڑ لیا‘ پہلے تو اس کو دھکے دیئے بعد میں اسکو ندی میں گرانے میں کامیاب ہو گئیں‘ یہ برٹش کولمبیا کے سب سے مشہور شہر وکٹوریہ کا ایک مشہور زمانہ پل کریگ فلاور تھا‘ اسکے دامن میں یہ شور کرتی ہوئی ندی بہتی تھی‘ رینا نے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن زور آور لڑکی کیلی ایلدرڈ نے باہر نکلنے کی اس کی ہر کوشش ناکام بنا دی اور وہ پھر زندگی کی دوڑ ہار بیٹھی اور مر گئی‘ کیلی ایلدرڈ کو پولیس نے پکڑ لیا اور اس کو بعد میں عمر قید کی سزا سنادی گئی‘ یوں کینیڈا میں رہنے والے ہزاروں لاکھوں بچوں میں رینا ورک بھی شامل ہو گئی جن کو روزانہ پرائمری اور ہائی سکولوں میں بُلی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

‘وکٹوریہ میں ہونیوالا یہ قتل بین الاقوامی خبروں کی سرخی بنا لوگوں نے اصرار کیا کہ جس پل کے نیچے رینا کا قتل ہوا تھا اسکا نام رینا (Reena)پل رکھ دیاجائے لیکن سمن اور من جیت نے اپنی پیاری بیٹی کی موت کو ایک پل کی حد تک سمٹ جانے کی اجازت نہ دی سمن ورک اور من جیت ورک نے یہ صدمہ آنسوؤں سے پی لیا اور بُلی کیخلاف اپنی مہم کاآغاز کیا‘ من جیت ورک نے اپنی بیٹی کے دکھ میں کتاب ’’رینا اے فادر سٹوری‘‘لکی اور سمن نے قومی اور علاقائی سطح پر سکول کے بچوں میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے آرگنائزیشن بنائی‘ سمن ورک نے کہا کہ میں اپنی بیٹی کو زندہ رکھوں گی‘ اس نے ملک کے کونے کونے میں پھر کر سکولوں میں‘ یوتھ کیمپوں میں‘ بچوں کیساتھ کرمنالوجی کی کلاسز کے ذریعے bully سے آگاہ کیا کہ جب آپ کو آپ کے ساتھی بچے تنگ کریں‘ ماریں‘ زچ کریں‘ گالی دیں تو پھر اس کو مت چھپاؤ‘اپنے ماں باپ کو بتاؤ‘ اپنے ٹیچر کو بتاؤ‘ اپنے وائس پرنسپل‘ کونسلر‘ پرنسپل اور پولیس کو بتاؤ ایک ویڈیو کلپ میں سمن ورک کہتی ہے کہ میری بیٹی دوستی کرنا چاہتی تھی لیکن کچھ ایسے خود غرض متعصب اور چالاک بچے تھے جو ہر وقت اس کا مذاق اڑاتے تھے‘ وہ جب بھی سکول سے آتی پریشان رہتی‘ سمن ورک اپنی پرامید باتوں سے تمام طالب علموں کو بُلی کے اس کلچر کو تبدیل کرنے کا سبق پڑھاتی رہی‘ اکثر پولیس ڈیپارٹمنٹ کے کلب سکولوں کیلئے اسکی تقاریر کا اہتمام کرتے‘وہ ہمیشہ معاف کرنے کی بات کرتی اور پریشانیوں کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانے کی بات کرتی‘۔

وہ غم کو مثبت انداز سے تبدیل کرنے کا درس دیتی وہ بچوں کو ان کے سکول جمنازیم میں اکٹھا کرکے مخاطب کرتی اور کہتی چپ نہ رہو‘ بولو‘ بولو‘ اپنی آواز بڑوں تک پہنچاؤ اور سمن ورک کے سامنے ایک دن وہ بھی آیا جب 2007ء میں bullyکی سزا یافتہ مجرم بچی ایک دن کی ضمانت پر آنسوؤں اور ہچکیوں کیساتھ سمن ورک کے بازوؤں میں رو رہی تھی‘ اس نے بتایا کہ وہ غصے سے بھری ہوئی ایک لڑکی تھی‘ ہر وقت منفی انداز میں سوچا کرتی تھی‘اس وقت سمن ورک نے کہا آج میں ایک نوجوان کو اپنے غلط قدم کو سدھارنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں‘ سمن ورک 58سال کی عمر تک اپنی بیٹی کی موت کے دکھ میں مثبت انداز میں زندہ رہنے کی کوشش کرتی رہی اور اسی مہینے اس کا انتقال ایک حادثے میں ہوا‘ لوگوں نے اس کی موت کی خبر کو غم اور دکھ کے ساتھ سنا وہ کئی طالب علموں کے دلوں کی دھڑکن تھی اور انکی جان بچانے کا موجب بنی‘ آپ کے ذہن میں ضرور یہ خیال آرہا ہوگا کہ بُلی کس کو کہتے ہیں‘ بُلی کا مطلب ہے طاقت کا استعمال‘ گالیاں‘ غصہ‘ دوسروں کے اوپر حاوی ہونے کی کوشش کرنا‘ ذہنی تشدد کرنا‘ کمزور پر ظلم کرنا‘اپنے سے کم عمر پر رعب جمانا‘ بار بار شرمندہ کرنا‘ ایک کمرے میں رہ کر اپنے آپکوطاقتور سمجھنا اور دوسروں کو کمتر سمجھنا‘ اپنے آپ کو برتر سمجھتے ہوئے دوسرے کو حقیر جاننا‘ کسی ایک انسان کو آتے جاتے ٹارگٹ بنانا‘مسلسل کوسنے دینا‘ تنگ کرنا‘ اذیت دینا اور خوشی محسوس کرنا‘ مذہب‘ نسل پرست‘ رنگ کی بنیاد پر برتری کا شکار ہونا‘ مرد اور عورت کا تضاد‘ اپنی بدن بولی سے دوسروں کو اذیت دینا‘ یہ بُلی انفرادی اور گروپ کی صورت میں ہوسکتی ہے‘ مغرب کے سکولوں میں ایک عام وباء ہے۔

بڑی کلاسوں کے بچے چھوٹی عمر کے بچوں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں‘ آن لائن بُلی کا رواج بھی بڑھتا جارہا ہے‘ بچے کبھی کبھار خودکشی کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں بُلی میں تین طرح سے لوگ یا بچے یا طالب علم شامل ہوتے ہیں جو بُلی یا اس اذیت کا شکار ہوتے ہیں‘ وہ جو اذیت دیتے ہیں اور وہ جو اس اذیت یا تکلیف کے گواہ ہوتے ہیں‘سکولوں میں بچے دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر ہنستے ہیں خوش ہوتے ہیں یا پھر اس سارے تکلیف دہ عمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور یا پھر اس میں خود بھی شامل ہوجاتے ہیں کچھ طالب علم غیر جانبدار رہتے ہیں‘ کچھ بچے مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ کیسے مدد کریں وہ خوفزدہ ہوتے ہیں‘ مغرب کے سکولوں میں بُلی کے شکار بچوں کی تعداد 70%فیصد تک پہنچ چکی ہے‘ جب تک والدین اساتذہ یا پولیس کو خبر ملتی ہے بات بہت دور تک جانکلتی ہے‘ کبھی میں سوچتی ہوں طالب علموں پر کیا موقوف ہے ہم ٓج بھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں ہم میں سے کتنے ہی لوگ طاقت کا زعم رکھتے ہوئے اپنے سے کمزوروں کو اذیت کا نشانہ بناتے ہیں‘ ان کو حقیر سمجھتے ہیں‘ کسی کو خوش دیکھ کر ان کو تکلیف دینے کا سوچتے ہیں‘ گالی دینا بھی ہمارا شعار ہے‘ کسی معذور کو دیکھ کر ہم مذاق اڑاتے ہیں‘ دھمکی دیتے ہیں‘کمزور کو دھکا دیتے ہیں برے ناموں سے پکارتے ہیں‘طعنے دیتے ہیں اور ایسا ذہنی تشدد کہ انسان بظاہر تو ٹھیک نظر آتا ہے لیکن وہ پاگلوں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے‘ کیا ہم بھی اپنے رویوں پر غور کرسکتے ہیں!۔