161

مشترکہ بہبود

ہماری خوش قسمتی ہے کہ رہائش کے قریب ہی ایک اچھا سپورٹس سنٹر موجود ہے‘ اس میں سوئمنگ سے لیکر جم اور ٹینس تک کی سہولیات موجود ہیں‘گزشتہ روز میں نے حسب معمول اپنے کپڑے دیوار پر ہُک سے لٹکائے‘ سوئمنگ سوٹ پہنا‘اپنا بٹوہ‘ موبائل وغیر ہ اپنے بیگ میں رکھا اور پُول میں ڈبکی لگادی۔ تیس چالیس منٹ بعد نماز کا وقت ہوا تو میں نکل آیا اور شاور کی طرف روانہ ہوا کہ کپڑے بدل لوں‘ اپنے کپڑے دیکھے تو ان میں سے جانگیا غائب‘یا خدایہ کیا ہوا‘ انسٹرکٹر کو دوڑایا تو معلوم ہو کہ کسی لڑکے نے پہن کر سوئمنگ شروع کردی تھی۔ خیر اسے کیا کہتا لیکن اب سب نے فیصلہ کیا کہ سارا سامان لاکرز میں رکھیں گے‘ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو پورے معاشرے پر پورا اترتی ہے‘ اگر ایک کمیونٹی آپس کے اعتماد پر یکجا ہو تو ہر فرد بے فکر رہ سکتا ہے ‘تاہم ایک شخص کی بددیانتی پورے معاشرے کے ارکان کو ایک دوسرے سے بدظن کردیتی ہے۔

مشترکہ بہبود کیا ہے؟ بنیادی طور پر یہ وہ آداب زندگی ہیں جو ایک معاشرے کو جوڑے رکھتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ قوانین کی شکل میں موجود ہوں لیکن ہر شخص لاشعوری طور پر ان سے باخبر رہتا ہے اور ایک ان لکھے قانون ہی طرح سے پورے معاشرے پر لاگو رہتے ہیں‘ ان آداب میں بنیادی طور پر آزادی‘ انصاف‘ قانون کی نظر میں برابری‘ زندگی کی ہر دوڑ میں برابر کا موقع‘دوسروں کی نہ صرف ذاتی عزت بلکہ انکے خیالات کو بھی برداشت کرنا‘ معاشرے کی ذمہ داری قبول کرنا اور پبلک اداروں ‘جیسے یونیورسٹی‘ پولیس اور دوسرے محکموں کی تکریم شامل ہیں‘بنیادی طورپرتمام مذاہب بھی ہمیں یہی سکھاتے ہیں‘ البتہ وہ اسے خدائی احکام مان کر اور اگلی دنیا میں بھی اسکے ثمرات پر زیادہ زو ر دیتے ہیں۔

ذاتی خود غرضی خواہ کسی بھی سطح پر ہو‘ اس مشترکہ بہبود کو نقصان پہنچاتی ہے‘ خواہ وہ اپنے گھر کا گند باہر گلی میں پھینکنا ہو‘ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرنا ہو‘ کسی سرکاری افسر کی کرپشن ہو یا کسی سیاستدان کی اپنی طاقت بڑھانے کیلئے جوڑ توڑ ہو‘ معاشرے کی اس یکسوئی کو صرف ایک شخص بھی اس طرح سے نقصان پہنچا سکتا ہے جیسے ہمارے جم میں صرف ایک لڑکے کی حرکت سے سب لوگوں کو اپنے اپنے لاکرز کو تالہ لگانا پڑا‘امریکہ جدید تہذیب کا سب سے بڑا نمونہ ہے‘ دیہات میں اب بھی لوگ اپنے گھروں کے دروازوں کو کھلا چھوڑ کر باہر جاتے ہیں دکانوں میں گاہکوں پر کوئی کیمرہ نہیں لگا ہوتا ‘تاہم شہروں میں دولت کی ہوس‘ ہل من مزید کی دوڑ اور زندگی کے مواقع کی فراہمی میں تعصب سے معاشرے کا وہ بنیادی اعتبار کھو گیا ہے‘ اس میں اونچے درجے پر کانگریس کے ممبران ہیں جو ریٹائر ہوکر لابی فرم میں نوکری شروع کردیتے ہیں اور کثیر معاوضے پر مختلف کمپنیوں اور ممالک کو فائدہ پہنچانے والے قوانین کی ترتیب میں مدد دیتے ہیں باراک اوباما نے پہلے تو صدارتی امیدواروں کو ملنے والے عطیات شائع کرنے پر رضامندی ظاہر کی لیکن جب ان پر عطیات برسنے لگے تو انہوں نے بھی اپنے وعدے سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

دوسری امریکی مثال مارٹن شکریلی کی ہے‘ موصوف نے ایک فارماسیوٹکل سے ایک دوا کے حقوق خریدے جو بہت ہی پرانی دوا ہے لیکن ان ماؤں کیلئے جو ٹاکسوپلازموسس کے مرض میں مبتلا ہوتی ہیں اور حمل سے بھی ہوتی ہیں‘ کیلئے دستیاب واحد دوا تھی‘ اسکی قیمت تیرہ ڈالر فی گولی تھی‘ شکریلی نے حقوق خریدتے ہی گولی کی قیمت ساڑھے سات سو ڈالر کردی‘ وہ تو اچھا ہوا شکریلی دوسرے جرائم میں پکڑا گیا اور اس دوا کی قیمت کم ہوگئی ورنہ یہ مشترکہ بہبود کو نقصان پہنچانے کی بڑی مثال ثابت ہوتی۔

آج بھی ایک ڈاکٹر جب دواکے لکھنے میں اپنے کمیشن کو مد نظر رکھتا ہے تو وہ اپنے ساتھ تمام ڈاکٹر کمیونٹی پر اعتماد کو دھچکا پہنچاتا ہے‘ ایک سرکاری ملازم جب کسی سائل کا کام کرنے کیلئے رشوت طلب کرتا ہے توپورے محکمے کی عزت کم ہوجاتی ہے‘ایک پولیس کے نچلے درجے کے سپاہی کا ظلم پورے محکمے کی دیانتداری پر سوالیہ نشان بنا لیتا ہے‘ سرمایہ دارانہ نظام نے خصوصاً اس خودغرضانہ روئیے کو پروان چڑھایا ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں کی یہی کوتاہیاں ہمارے درمیان اعتماد کی کمی پر منتج ہوئی ہیں۔ مشترکہ بہبود کے نظریئے کو واپس معاشرے میں لانے کیلئے انصاف پسند لیڈروں کی شدید ضرورت ہے‘یہ لیڈر نہ صرف سیاست میں چاہئیں بلکہ بزنس‘ حکومت‘ مذہب اور صحافت میں بھی ان کی موجودگی ناگزیر ہے‘ ان کو قوت فراہم کرنے کیلئے ہم میں سے ہر ایک کو سیاست‘ پارٹی‘ مذہب‘ برادری‘نسل اور جنس سے بڑھ کر کام کرنا ہوگا‘ اس وقت پوری دنیا میں کرپٹ سیاستدانوں‘ جرنیلوں‘ مذہبی رہنماؤں اور سرکاری ملازمین کیخلاف عوامی تحریکیں شروع ہوچکی ہیں‘ حال ہی میں مختلف ممالک کے کرپٹ سربراہوں کو نہ صرف برطرف کیا گیا بلکہ ان کو جیل اور جرمانوں کی سزاؤں کے علاوہ ان کی دولت بھی ضبط کرلی گئی ہے ‘ان میں نکاراگوا‘ یوکرین‘ پیرو‘ ہیٹی‘ سربیا‘ تیونس‘ نائجیریا‘کانگو‘ فلپائن‘ انڈونیشیا‘ ملائشیا‘ برازیل اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

مشترکہ بہبود کو معاشرے میں دوبارہ پنپنے کیلئے سب سے زیادہ زور تعلیم اور جھوٹ سے گریز پر دینا ہوگا‘ ہر شخص سچ بولے تو کسی پر جھوٹا الزام نہیں لگے گا جھوٹ ہر برائی کی جڑ ہے‘ اسلئے گھر کی دہلیز سے شروع کرکے سیاست تک اسے ممنوع اور قابل نفرت عمل بنانا ہوگا‘ووٹ ایک اور مقدس امانت ہے جسے صحیح طریقے سے استعمال کرکے معاشرے کی بلند ترین سطح کو صاف کیا جاسکتا ہے۔