159

قید ہے قیامت کی!؟

22 مارچ 2013ء کے روز گورنر پنجاب نے صوبے کی 36 جیلوں میں فراہم کئے جانے والے کھانے پینے کی مقدار اور معیار بہتر بنانے کا حکم نامہ جاری کیا‘ جسکے تحت کلاس بی اورکلاس سی کے قیدیوں کیلئے ایک جیسے ہفتہ وار کھانے کی منظوری دی گئی۔ نظرثانی شدہ مینیو کے مطابق فی قیدی ایک وقت کے کھانے کے اخراجات 50 روپے سے بڑھا کر 59.61 روپے کر دیئے گئے اور کھانے کا معیار غذا میں شامل اجزاء کی بنیاد پر طے کیا گیا۔ قبل ازیں پاکستان پریزن رولز 1978ء کے رول 260 کی شق ون لاگو تھی جس کے تحت ایک قیدی کو فی ہفتہ‘ 583 گرام آٹا‘ 117گرام دال‘ 175 گرام بڑا گوشت‘ 233 گرام دودھ‘ 29 گرام گھی‘ 58 گرام چینی‘ 29 گرام چائے‘ 117گرام دودھ برائے چائے‘ 117 گرام سبزی اور اگر کوئی قیدی صرف سبزی خور ہو تو اسے گوشت کی بجائے 233 گرام سبزی‘ 117گرام آلو‘ ذائقے کے لئے مرچ مصالحے 15گرام‘ نمک 15 گرام اور سردی کے موسم میں1.886 گرام سوختہ لکڑی فراہم کی جاتی تھی‘ بائیس مارچ دوہزار تیرہ کے روز نئے حکم نامے کے تحت قیدیوں کے کھانے میں چھوٹا گوشت اور مرغی بھی شامل کر دی گئی جبکہ دوپہر کے کھانے میں سبزی اور دال کو لازم کر دیا گیا جبکہ تہواروں کیلئے الگ سے کھانے پینے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔

خاص قیدیوں کیلئے اضافی سہولیات میں ائرکنڈیشن‘واٹر ڈسپنسراورذاتی خدمت گار رکھنے کی بھی اجازت دے دی گئی قابل ذکر ہے کہ دوہزار تیرہ میں جب صوبہ پنجاب کے جیل خانہ جات میں فراہم کئے جانیوالے کھانے پینے کی اشیاء کی مقدار اور معیار کو تبدیل کرتے ہوئے بہتر بنایا جا رہا تھا تو یہ 2 سال کے عرصے میں ہونیوالی دوسری ایسی تبدیلی تھی‘پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں سے امتیازی سلوک کم کرنے اور قیدیوں کو ایک جیسی سہولیات کی فراہمی کی جانب پیش قدمی تھی اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے پنجاب کی جیلوں میں اصلاحات 2013ء تک غیرمعمولی تھیں‘ جن کا جواب تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نے بڑھ چڑھ کر دیا‘ لیکن یہ ایک الگ موضوع ہے جس کا کسی اور مرحلہ فکر و ذکر پر احاطہ کیا جائے گا۔6 جولائی 2018ء: احتساب عدالت نے نواز لیگ کے رہنماؤں نواز شریف ‘ مریم نواز اور کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کو ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں قید بامشقت و جرمانے کی سزائیں سنائیں‘ نواز شریف اور مریم چونکہ بیرون ملک تھیں اس لئے انکی گرفتاری تاحال نہیں ہوئی تاہم پاکستان میں موجود کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کی گرفتاری بھی 8 جولائی تک ممکن نہ ہو سکی اور انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق گرفتاری کیلئے دن‘ وقت اور مقام کا انتخاب کر کے پوری قوم کو حیران کردیا۔

مذاق نہیں تو کیا ہے کہ نیب کی 3 ٹیمیں ہری پور‘ ایبٹ آباداور مانسہرہ میں کیپٹن صفدر کو تلاش کرتی رہیں اور وہ اتوار کی سہ پہر راولپنڈی میں نمودار ہوئے۔ قانون کو چکمہ دیکر گرفتاری سے بچنے اور راہ فرار اختیار کرنے والے بااثر سیاسی خاندان کے داماد نے ثابت کر دیا کہ پاکستان میں قانون کا اطلاق امتیازی ہے‘09 جولائی 2018ء: کیپٹن صفدر کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے چند گھنٹوں بعد ہی انہیں بی کلاس دے دی گئی‘ جسکے تحت ان کے کمرے میں ائرکنڈیشن‘ ٹھنڈے پانی کی فراہمی اورمشقتی رکھنے جیسی سہولیات فراہم کر دی گئیں۔ کیپٹن صفدر ذاتی طور پر کچن بھی رکھ سکتے ہیں تاہم چند ہفتوں تک ان کیلئے ہر روز اشیائے خوردونوش باہر سے جایا کریں گی جن کی مقدار اس قدر زیادہ ہوگی کہ جیل کا پورا عملہ اس سے استفادہ کرسکے کون نہیں جانتا کہ جیل کے اندر ہر ایک سہولت کی ایک خاص قیمت مقرر ہوتی ہے اور پھر صوبہ پنجاب میں طاقت کا مرکز رکھنے والی سیاسی جماعت کے قائد کو پنجاب ہی کی جیل میں رکھا جاتا ہے تو کیا عجب ہے کہ انہیں موبائل فون‘انٹرنیٹ‘سیٹلائٹ ٹیلی ویژن‘ اخبارات اور سوئمنگ پول بھی فراہم کر دیئے جائیں عجیب سزا ہے۔ تاثر ہے کہ جیسے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کی سزا ملزموں کو نہیں بلکہ پاکستان کو دی گئی ہے۔