199

سازشوں کا جال

اللہ اس ملک کو بدخواہوں سے محفوظ رکھے مگر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ سیاسی مفادات کے غلام ایک نیا کھیل کھیلنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں میاں نوازشریف اور انکے بچوں کو ناجائز ذرائع سے جائیدادیں بنانے اور دھوکہ دہی میں سزا کے بعد انکی کوشش ہے کہ اسکو سیاسی انتشار کا ذریعہ بنائیں گزشتہ روز نوازشریف کے داماد کیپٹن(ر) صفدر نے گرفتاری دینے سے پہلے راولپنڈی میں پارٹی امیدواروں کو بلا کر کئی گھنٹے جلوس نکالا اور شہریوں کو پریشانی میں مبتلا رکھنے کے بعد گرفتاری دی یہ چند دن بعد نوازشریف اور مریم نواز کی واپسی کے موقع پر اپنائے جانیوالے پروگرام کی ایک جھلک سمجھی جاسکتی ہے پنجاب میں پولیس سمیت انتظامی مشینری ابھی تک ن لیگ اورشہباز شریف کے زیر اثر ہے اور راولپنڈی میں دیکھا گیا کہ مقامی پولیس اور انتظامیہ نے کیپٹن صفدرکو بروقت گرفتار کرنے اور ریلی کو روکنے میں جان بوجھ کر سستی دکھائی اور نیب حکام کیساتھ تعاون نہیں کیا اب جمعہ کے دن استقبال کے نام پر کیا کیا کچھ ہو سکتا ہے یا کیا جاسکتا ہے یہ ابھی سے معلوم ہے اور نگران حکومت جسکے سربراہ ایک عمر رسیدہ پروفیسر اور دانشور ہیں وہ بیورو کریسی اور مسلم لیگ کے گٹھ جوڑ کے آگے بے بس نظر آتے ہیں اگر بات صرف سیاسی کارکنوں اور انکے استقبال تک محدود ہوتی تو یہ بھی اتنی تشویش کا باعث نہیں تھی مگر یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ بھارتی اور افغان ایجنٹ ملک میں کئی شکلوں میں موجود ہیں اور انکے سہولت کار بھی بیسیوں ہیں یہ لوگ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں چند سو مشتعل افراد جمع ہوں چند سال پیشتر مال روڈ پر ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران ہی خودکش حملے میں ایک سینئر پولیس آفیسر سمیت کئی افراد شہید ہوگئے تھے سیاسی احتجاج میں توڑ پھوڑ اور بلوے کا زیادہ امکان ہوتا ہے ہمارے ہاں کئی بار مذہبی معاملات پر پرامن احتجاج کو بھی پرتشدد بنانے والی قوتیں کامیاب ہوچکی ہیں ۔

اور یہ تو ایک ایسا سیاسی ایشو ہے جس کو جذباتی بنانے کی کوشش ہو رہی ہے اسکے پیچھے دو اہم مقاصد ہیں ایک تو مسلم لیگ ن کے مایوس ورکروں کو جگانے اور ہمدردی کے ووٹ حاصل کرنا ہے اور دوسرا مقصدطاقتور اشرافیہ کے مالی معاملات کھنگالنے کے عمل کو روکنا ہے دوسرے مقصد میں مشترکہ مفاد کیلئے پیپلز پارٹی بھی مسلم لیگ کے شانہ بشانہ ہے اور دونوں پارٹیوں کی قیادت نے انتخابی مہم کیلئے جو اختلافات ظاہر کئے تھے وہ بھی اب ختم ہو رہے ہیں اور بقائے باہمی کے تحت بے لاگ احتساب کی راہ روکنے کیلئے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق پایا جاتا ہے اگرچہ اس حوالے سے پہلے بھی زیادہ دوریاں نہیں تھیں مگر گزشتہ چند روز کے دوران زرداری کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری اور 29 جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی ٹرانسفر کی چھان بین سے دونوں سابق حکمرانوں کے درمیان درد مشترک کا رشتہ استوار ہوگیا ہے اب پیپلز پارٹی کی بھی کوشش ہوگی کہ نوازشریف کی لاہور آمد اور متوقع گرفتاری کو زیادہ سے زیادہ اشتعال اور تشدد کا مظاہرہ بنانے میں مدد دی جائے اور اگر الیکشن کے موسم میں یہ اشتعال پھیل گیا تو احتساب سے فرار چاہنے والوں کو خوشی ہوگی شاید ایسی ہی صورتحال سے بچنے کیلئے نیب نے اعلان کیا تھا کہ25 جولائی تک کسی سیاسی ملزم کو گرفتار نہیں کیاجائیگا ۔

مگر اب عدالتی فیصلے پر عملدرآمد بھی ضروری ہے جو اب نیب سے زیادہ انتظامیہ اور پولیس کی ذمہ داری ہے اب فواد حسن فواد اور حسین الائی جیسے افسران کی گرفتاری کو بھی نوازشریف اور زرداری اپنے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری کہہ رہے ہیں تو پھر کرپشن کا اور کیا ثبوت چاہئے ہوتا ہے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس نے جعلی اکاؤنٹس اور اربوں کی غیر آئینی ٹرانزکشن کی پانامہ کیس جے آئی ٹی طرز کی انکوائری کروانے کی بات کرکے کرپٹ مافیا کو خبردار کردیا ہے اور اب انکے پیش نظر ملک یا جمہوریت نہیں بلکہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کیلئے کسی بڑے ہنگامے کی بنیاد ڈالنا ہے یہ تو پہلے ہی ہو رہاہے کہ جس سیاستدان سے کرپشن کا حساب مانگا جائے تو وہ اسے جمہوریت کیخلاف سازش قراردیتا ہے اور کرپشن پر سزا ہو تو یہ عوام کے حقوق کیلئے قربانی کہی جاتی ہے اس ماحول میں بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے سے یہ خطرہ بہرحال موجود رہتاہے کہ اس سے بچنے کیلئے ہیومن شیلڈ استعمال کی جائیگی یعنی عوام کو سڑکوں پر لاکر ہنگامہ آرائی کرکے انارکی پھیلائی جائے یہ ایک عام سی سمجھ میں آنے والی بات ہے نگرانوں کو بہت چوکنا ہو کر ایسی سازش کو ناکام بناناہوگا۔