190

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ افواج پاکستان کا انتخابات میں کوئی براہ راست تعلق نہیں‘ گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فوج کو انتخابی عمل میں بے ضابطگی خود دور کرنے کااختیار نہیں تاہم اگر فوجی اہلکاروں نے کسی جگہ بے ضابطگی نوٹ کی‘ ان کاکام الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنا ہے‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان اور جمہوریت دشمن عناصر الیکشن سے خوش نہیں لیکن انتخابات اپنی تاریخ پر ہی ہونگے‘ میجر جنرل آصف غفور کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کا مقصد ہے کہ افواج پاکستان کو دہشت گردی کیخلاف جنگ سے دور کرکے عام نوعیت کے مسائل میں گھسیٹا جائے‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جیپ ہماری نہیں‘ انتخابی نشان الاٹ کرنا افواج پاکستان کا نہیں الیکشن کمیشن کا کام ہے‘ پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس میں بہت سارے معاملات پر فوج کا شفاف اور واضح موقف سامنے آگیا ہے۔

‘ فوج نے واضح کردیا ہے کہ عوام الیکشن میں جسے بھی منتخب کریں ہمارے لئے وہی وزیراعظم ہوں گے‘ جہاں تک انتخابات کیلئے فوج کی ڈیوٹی کا سوال ہے تو یہ پہلی بار نہیں‘ اس سے پہلے بھی پاک فوج انتخابات کے موقع پر فرائض سرانجام دے چکی ہے‘ الیکشن کمیشن نے اس باربھی فوج کو مختلف کام دیئے ہیں جن میں امن وامان کیساتھ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران سیکورٹی کے فرائض اور انتخابی سامان کی ترسیل بھی شامل ہے‘ اس کیساتھ پولنگ سٹیشنز پر سیکورٹی بھی فراہم کرنا پاک فوج کی ذمہ داری ہے‘ پاک فوج کا نظم وضبط ہمیشہ کسی بھی ذمہ داری کو پورا کرنے میں مثالی رہا ہے‘ اس اہم مرحلے پر جب قوم ایک مرتبہ پھر اپنے لئے قیادت کاانتخاب کرنے جارہی ہے‘ قومی اداروں کیساتھ ساتھ خود سیاسی قیادت اور ورکرز کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں‘ انتخابی مہم اور بعد ازاں پولنگ سے لیکر نتائج کے اعلانات تک ہر مرحلے میں ورکرز کو ڈسپلن کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور ساتھ ہی ذمہ دار اداروں کے اہلکاروں کیساتھ بھرپور تعاون بھی ضروری ہے‘ یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہر حلقے میں خود امیدوار اپنے ورکرز کو ذمہ داریاں تفویض کریں اور نظم وضبط کا پابند رکھیں۔

آبی ذخائر

پانی کی قلت سے متعلق عدالت عظمیٰ کے سٹینڈ نے ہلچل مچا دی ہے بعد از خرابی بسیار وطن عزیز میں آبی ذخائر کی ضرورت کا احساس اجاگر ہو رہا ہے ‘ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کیلئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے ‘ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس ساری صورتحال میں ڈیموں سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانے کا نوٹس لے لیا ہے ‘ چیئرمین واپڈا کا کہنا ہے کہ دیامر بھاشا اورمہمند ڈیم پر کام مالی سال 2018-19 میں شروع ہو جائیگا ‘ دنیا میں بڑے گلیشیئر کے حامل ملک میں پانی کی قلت اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ یکے بعد دیگرے حکومتیں سنبھالنے والوں نے اس اہم ترین معاملے پر مطلوبہ توجہ مرکوز نہیں کی ماہرین کی جانب سے بار بار یہ اشارے ملتے رہے ہیں کہ ملک میں فی کس پانی کی دستیابی کم ہو رہی ہے یہ درست ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں پانی سے متعلق نیشنل واٹر پالیسی بنائی گئی تاہم اس پر قابل ذکر عملدرآمد دیکھنے کو نہ مل سکا عدالت عظمی کی جانب سے دو ڈیموں کی تعمیر سے متعلق اعلان اور فنڈز کا قیام ہر حوالے سے قابل اطمینان ہے تاہم ماہرین کی جانب سے قلت آب سے متعلق وارننگ حکومتی سطح پر مزید بہت کچھ کرنے کی متقاضی ہے۔