188

تحریک انصاف کا منشور اور عمل کی توقع

بالآخر تحریک انصاف نے بھی اپنے منشور کا اعلان کر ہی دیا، حالانکہ اصل منشوروہی ہوتا ہے جو پارٹی چیئرمین گزشتہ چند ماہ سے جاری انتخابی مہم کے دوران بیان کرتے رہے، اب بھی شاید اصل منشور وہی ہو مگر چونکہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی اپنا منشور کتابی شکل میں لاچکی ہیں اسلئے تحریک انصاف نے بھی یہ شرط پوری کرنا ہی تھی مگر اس میں زیادہ تر وہی باتیں ہیں جو ایک ماہ قبل عمران خان تفصیل سے بیان کرچکے تھے اور ان کے مخالفین اس پر تمسخر اڑا چکے تھے، سب سے ز یادہ ایک کروڑ ملازمتوں کے بارے میں اعتراض اٹھائے گئے تھے کہ حالانکہ اس کی اسد عمر نے ایک بریفنگ میں وضاحت بھی کی تھی کہ یہ سرکاری نوکریاں نہیں ہونگی بلکہ ایسا ماحول استوار کیاجائیگا کہ صنعت وتجارت میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے کروڑوں مواقع پیدا ہونگے، مگر ہمارے ہاں نوکری اور ملازمت کا مطلب صرف ایک ہی لیاجاتا ہے کہ سفارشوں پر سرکاری اداروں میں بھرتی کیاجائے اور ایسی نوکری کو لوگ کام کرنے کیلئے نہیں بلکہ سرکاری وظیفہ لینے کیلئے استعمال کرتے ہیں‘ عمران خان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگانے کے اعلان سے لیکر عملدارآمد تک کا مخالفین مضحکہ اڑاتے رہے مگر اقوام متحدہ اور ورلڈ اکنامک فورم نے اس شجرکاری کی نہ صرف تصدیق کی ہے بلکہ اس پر بہت خراج بھی پیش کیا ہے، اب عمران خان نے ملک بھر میں10ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور سچی بات ہے کہ اگر پانچ سال میں 5ارب درخت ہی لگائے جاسکتے ہیں ۔

تو یہ ایک ایسا انقلاب ہوگا جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی قسمت بدل سکے گا، ہمارے ہاں کھڑے درخت کی اتنی قدر نہیں ہے جتنی اس کے کٹنے کے بعد ہوتی ہے، ہماوری قوم تو زرخیز اور شاداب زرعی اراضی سے اناج اگانے سے زیادہ منافع بخش کام اس زمین پر پلاٹ بناکر بیچنے اور پھر ان پیسوں سے کوٹھیاں اور پلازے بنانے کو سمجھتی ہے، اس کو زندہ درخت کی اہمیت کیسے معلوم ہو، مگر یہ درخت جوان ہوکر لکڑی کی صورت میں نقد منافع تو دیتے ہی ہیں جب تک سرسبز رہتے ہیں، ہر جاندار کیلئے زندگی تقسیم کرتے رہتے ہیں، اب تو ماحولیات کی تباہی سے موسمیاتی تبدیلیوں کا جو عنصریت دنیا پر چھایا ہوا ہے اس سے بچنے کی واحد صورت بھی زیادہ سے زیادہ شجرکاری ہے، عمران خان نے اس اہم مسئلہ کو منشور کا حصہ اور اپنے مشن کا جزو بنا کر یہ بتا دیا ہے کہ یہ ایک وژنری لیڈر ہے اور اگر ایک ہی بات تکمیل تک پہنچ گئی تو پھر قوم کی تقدیر بدل جائیگی، اس کے علاوہ پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا تجربہ بھی خیبرپختونخوا میں کامیابی کیساتھ ہوگیا ہے، اگر پنجاب اور سندھ کی پولیس اپنے آقاؤں کی بجائے ریاست کی پولیس بن سکے تو یہ بھی ایک انقلابی قدم ہوگا اور سب سے زیادہ 50لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ ہے، ہماری سیاسی اور حکومتی تاریخ میں سستے مکانات کی تعمیر اور بجلی پیدا کرنیکی تراکیب ایسے ’’کماؤ‘‘کھاتے رہے ہیں کہ دونوں سابق حکمران جماعتوں نے ان سے کمائی کا راستہ نکالا اور پرائیوٹ پاور پروڈیوسرز کو پہلی بار پیپلزپارٹی لائی جب بجلی ایک روپے سے سات روپے یونٹ تک آگئی۔

پھر دوسرے دور میں رینٹل پاور پلانٹس لاکر خزانے کو خسارہ دیاگیا ہے، مسلم لیگ حکومت نے بھی اس جواز کو ہر طرح سے استعمال کیا اور پنجاب میں سستے مکان بنا کر دینے کے پروگرام میں جو کچھ ہوا وہ آج کل قسطوں میں سامنے آرہا ہے اور کئی چہیتے افسراس کی تفاصیل بیان کررہے ہیں، اگر عمران خان اس وعدے کوکرپشن سے پاک اور شفاف طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچا سکے تو یہ اس ملک میں ایک معجزہ ہوگا، مگر ہمیں معلوم ہے اور تلخ تجربہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹوجیسے عوامی رہنما کو بھی مخصوص جاگیردار اور سرمایہ دار ٹولہ اپنے نرغے میں لیکر اپنے نظریے اور منشور سے دور لے گیا تھا ، اگر ان کو پھانسی نہ ہوتی تو عوام خود ان کو کھڈے لگا دیتے، اب ان جیسے کئی لوگ بھی عمران خان کے گرد جمع ہیں جو ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی حاوی نظر آئے، اگر حکومت بنانے کے بعد اس منشور پر عمل بھی ان ہی کی ذمہ داری میں دیاگیا تو پھر عمران خان کی بھی خیر نہیں مگر امید ہے کہ جس طرح کرکٹ کی کپتانی میں عمران خان نے جاوید میانداد اور دیگر کئی کھلاڑیوں کو کھڈے لائن لگادیاتھا اسی طرح سیاسی میچ پر بھی اپنی صلاحیتوں پر ہی بھروسہ کریں گے اور مالی منصوبوں پر کڑی نگاہ رکھیں گے، تحریک انصاف کا منشور اگر مخالفین کیلئے چشم کشا ہے تو عوام کیلئے امید افزا ہے۔