153

انتخابات: سب جھوٹ ہے!؟

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہنماؤں کی مثال ’ہاتھی‘ جیسی ہے‘ جس کے کھانے اور دِکھانے کے دانت الگ الگ ہوتے ہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو عام اِنتخابات کے لئے جمع کروائے گئے ’اثاثہ جات‘ کی تفصیلات پر نظر کریں‘ جہاں جھوٹ ہی جھوٹ تحریر ملے گا کہ کس طرح اَربوں کی جائیدادوں کی قیمت کروڑوں نہیں بلکہ لاکھوں میں ظاہر کی گئی ہے!پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے مرکزی صدر‘ شہباز شریف نے اپنی ’’مری روڈ رہائشگاہ‘‘ پر واقع 9 مرلے گھر کی قیمت 34ہزار اور اِسی مقام پر دوسرے گھر کی قیمت 27ہزار روپے ظاہر کی ہے۔ شہباز شریف 38 لاکھ روپے کے مقروض بھی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ملکیت میں ’طلائی زیورات‘ کا نہ ہونا قابل فہم ہے لیکن اگر عمران خان یہ کہتے ہیں کہ اُن کے پاس ذاتی کوئی گاڑی بھی نہیں تو اِس بات پر کوئی ’’اَندھا پاکستانی‘‘ ہی یقین کر سکتا ہے کیونکہ لینڈکروزر (V8) گاڑیوں کے سبھی جدید اور نئے ماڈل سیاستدانوں کے زیراستعمال ہیں۔ ظاہر ہے کہ کاغذات نامزدگیوں کی جانچ پڑتال کے عمل میں کوئی (ناشائستہ) سوال نہیں پوچھا جاتا جیسا کہ آپ جناب کی ملکیت اور زیراستعمال گاڑیوں کی تفصیلات کیا ہیں؟ ایسی تفصیلات طلب کی جائیں تو صرف تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ ملک کی سبھی سیاسی جماعتیں مشکل میں پھنس جائیں جنہیں اپنے اپنے مالی سرپرستوں (اے ٹی ایم مشینوں) کے نام ظاہر کرنا پڑیں جو دراصل سیاسی جماعتوں کے ذریعے انتخابات میں سالہا سال سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

بہرحال تحریک انصاف کے سربراہ کے پاس ذاتی گاڑی نہ ہونے پر اُن کے حامی پریشان نہ ہوں کیونکہ عنقریب ’’جیپ گروپ‘‘ کے ذریعے ’سیاسی زندگی‘ کا باقی ماندہ سفر آرام و سہولت سے گزر جائے گا۔ جان لیجئے کہ عمران خان کے اثاثوں میں 2 لاکھ روپے مالیت کے جانور شامل ہیں اور وہ ایسے واحد سیاسی قائد ہیں جنہیں تفریح طبع کے لئے پالتو جانوروں سے لگاؤ ہے لیکن الیکشن کمیشن کو 2 لاکھ روپے کے جانوروں کے نام اور تفصیلات نہیں دی گئیں یقیناًیہ قیمت اُن کی خریداری کے وقت کی تھی اور اب جبکہ ان جانوروں کو پال پوس کر بڑا کر دیا گیا ہے تو اُن کی قیمت کسی بھی طرح دس لاکھ سے کم نہیں ہوگی۔ کیا عمران خان کے پاس ’’سونے کا انڈہ‘‘ دینے والی مرغی بھی ہے؟ اِس سوال کا جواب وہ خود ہی بہتر دے سکتے ہیں‘ لیکن بہرحال عمران خان کے پاس جو بھی جانور ہیں اُن کی خوراک معمولی اور عمومی نہیں ہوگی۔ الیکشن کمیشن اگر باریک بینی سے جانچ پڑتال کرتا تو عمران خان کی آمدنی نہ سہی لیکن اُن کے اخراجات کے ذریعے حقیقت کی بڑی حد تک کھوج نکالی جا سکتی تھی! پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی شہباز شریف کی طرح مقروض ہیں‘ جن کے اثاثہ جات کی تفیصلات میں 35 لاکھ روپے کا قرض بھی شامل ہے لیکن 6 لگژری گاڑیاں جن کی مالیت اربوں روپے ہے تو یہ گاڑیاں شمسی توانائی سے چلتی ہیں؟ ایندھن کی مد میں اِن گاڑیوں کا ماہانہ اور سالانہ خرچ کتنا ہے‘ ۔

اگر یہ معلوم ہو جائے تو سب پر بھاری ’قائد‘ کی آمدن کا ایک پہلو تو معلوم ہو سکتا ہے!؟ دنیا جانتی ہے کہ زرداری کو صرف جانور پالنے کا ہی نہیں بلکہ اُن کے مقابلوں کا بھی شوق ہے اور اُن کے اعلی نسل گھوڑے تو عالمی سطح پر مقبول ہیں۔ یہاں بھی الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال کافی ثابت نہ ہوئی‘ ورنہ زرداری کے پسینے چھوٹ سکتے تھے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے جن کے تمام اثاثہ جات اُنہیں تحائف کی صورت ملے ہیں‘ مقام حیرت ہے کہ کراچی کے بلاول ہاؤس کی کل قیمت 30 لاکھ روپے بتائی گئی ہے جبکہ اُس کے احاطے میں لگے ہوئے درختوں کی قیمت اِس سے کئی گنا زیادہ ہے! پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز نے بھی الیکشن کمیشن کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کی بجائے صرف اُن کی مالیت ظاہر کرنے پر اکتفا کیا جو کہ مجموعی طور پر ’’4کروڑ 92 لاکھ 77 ہزار روپے‘‘ ہے! اتنی مالیت کے تحائف تو کسی عام آدمی (ہم عوام) کو چار شادیاں کر کے اور تمام عمر ہر دن سالگرہ منا کر مجموعی طور پر بھی نہیں ملتے! بہرحال یہاں بات عام پاکستانیوں کی نہیں ہو رہی!

مریم نواز خوش قسمت ہیں کہ اُنہیں اپنے بھائی (حسن نواز) نے 2 کروڑ 89 لاکھ روپے دیئے اور پھر وہ یہ خطیر رقم واپس لینا بھول گئے۔ کاش ہر پاکستانی بہن کو ایسے ہی بھائی میسر ہو۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا شمار بھی ملک کے غریبوں میں ہونا چاہئے جن کے بینک اکاونٹ میں صرف 20لاکھ روپے ہیں جبکہ اُن کے معلوم کاروبار اور سیاسی جماعت کے علاوہ ’’کشمیر کمیٹی‘‘ سے حاصل آمدن کے مقابلے یہ رقم ’ناقابل یقین بچت‘ ہے۔ الغرض کسی بھی سیاست دان اور کسی بھی انتخابی اُمیدوار کے اثاثوں پر نظر کریں‘ وہ ایسی ہی ’حیرت انگیز معلومات‘ کا مجموعہ ہے۔ اگر کسی شخص کو اِس بات پر تعجب ہے کہ پاکستان میں ووٹ کا تقدس اور شرح پولنگ کیوں کم ہوتی ہے تو اُس کا بنیادی سبب یہی حلفیہ دروغ گوئی ہے ۔