133

چند غور طلب امور

اگلے روز ایک روزنامے نے اپنے ایک صفحہ کے کونے کھدرے میں ایک چھوٹی سی خبر لگائی کہ خیبر پختونخوانے مرکزی حکومت سے ایک مرتبہ پھر درخواست کی ہے کہ فرنٹیئرکانسٹیبلری کی وہ پلاٹونیں اسے واپس کر دی جائیں جو فیڈرل گورنمنٹ نے ملک کے دیگر حصوں میں ڈیوٹی سر انجام دینے کیلئے ایک طرح سے ادھار لے رکھی ہیں اس قسم کا مطالبہ تو ہم ایک عرصہ دراز سے سنتے چلے آ رہے ہیں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی کئی پلاٹونیں ملک کے دیگر علاقوں سے لا اینڈ آرڈر کی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہی ہیں بارہا خیبر پختونخواکے وزیراعلیٰ اور گورنروں نے وقتاً فوقتاًمرکزی حکومت کو انہیں واپس خیبر پختونخوا بھجوانے پر اصرار کیا اور اس کے نوٹس میں یہ بات بھی لائی گئی کہ ان کی عدم موجودگی سے خیبر پختونخوا کی قبائلی علاقوں کیساتھ منسلک پٹی کے امن عامہ پر منفی اثر پڑ رہا ہے لیکن مجال ہے جو مرکزی حکومت کے کرتادھرتوں کے کان پر جوں بھی رینگی ہو ‘ اب تو خیر فاٹا کے خیبر پختونخوا کے انضمام سے اس علاقے کے انتظامی حالات کافی حد تک بدل چکے ہیں لیکن جہاں تک زمینی اور جغرافیائی حالات کا تعلق ہے وہ تو بدل نہیں سکتے فرنٹیئر کانسٹیبلری جسے عرف عام میں ’بارڈر‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے اس لئے قائم کی گئی تھی کہ وہ اس پٹی یا بارڈر لائن پر کڑی نظر رکھے جو خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقے کو جدا کرتی ہے ۔

اس مقصد کے حصول کیلئے اس پٹی یا بارڈر لائن کی سٹرٹیجک جگہوں پر ایف سی کی پکٹیں بھی تعمیر کی گئیں جوماضی میں بڑا مفید کام سر انجام دے رہی تھیں عرصہ دراز سے یہ ایک فیشن بن گیا کہ تمام صوبائی حکومتیں بشمول خیبر پختونخوا اپنے اپنے علاقے میں امن عامہ کی صورتحال کو مستحکم رکھنے کے لئے ایف سی کی خدمات مستعار لیتیں حالانکہ ان کو اپنی اپنی پولیس فورس میں مناسب اضافہ کرنا چاہئے تھا اگر وہ یہ محسوس کرتی تھیں کہ ان کی نفری کم ہے اگر ایف سی پلاٹونوں کو ایک لمبے عرصے تک خیبرپختونخوا سے باہر ڈیوٹیوں پر تعینات نہ کیا جاتا تو شاید خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کی بارڈر لائن پر امن عامہ کی صورتحال زیادہ خراب نہ ہوتی حکومت کواب ذرا عوامی حلقوں کو بتلانا ضروری ہے کہ اب جبکہ فاٹا کا خیبر پختونخوا کیساتھ انضمام ہوچکا تواب فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ڈیوٹیوں کی نوعیت کیا ہو گی؟ کیا اب بھی اسے اس پٹی یا لائن پر تعینات کیا جائیگا کہ جو بندوبستی علاقے کو قبائلی علاقے سے جدا کرتی ہے ؟

یا پھر ایف سی کو بھی قبائلی علاقے کے اندرفرٹیئر کور کے ساتھ ساتھ امن عامہ کی ڈیوٹیوں پرلگایاجائے گا ‘ ماضی میں تو قبائلی اپنے علاقے کے اندر صرف ملیشا یعنی فرنٹیر کور کا وجود برداشت کیا کرتے تھے اور بارڈر یعنی فرنٹیر کانسٹیبلری کی قبائلی علاقوں کے اندر تعیناتی پر وہ نالاں ہوتے تھے قبائلی علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں خاصہ دار بھی موجود ہیں جن کو سڑکوں کی حفاظت کیلئے اور سکیورٹی ڈیوٹیوں کیلئے اجتماعی علاقائی جغرافیائی قبائلی ذمہ داری کے کانسپٹ کے تحت بھرتی کیا جاتا رہا ہے یعنی آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ قبائلی علاقے میں جہاں جہاں سڑک بنتی تھی اس کی حفاظت اور ذمہ داری کیلئے اس علاقے میں بسنے والوں سے ہی خاصہ دار بھرتی کئے جاتے اور وہ اپنے اپنے علاقے میں سے گزرنے والی سڑک پر امن قائم رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ؟ کیا آئندہ بھی اس کانسپٹ پر عمل ہو گا اور اگر نہیں ہو گا تو موجودہ خاصہ دار فورس کا مستقبل کیا ہو گا ۔