106

پشاور ہے ترجیح!

قومی سیاست اور عام انتخابات میں پشاور شہر نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا اور پشاور کی دلچسپی ہی عام انتخابات کو گرم یا سرد بناتی ہے لیکن بدقسمتی سے حملہ آوروں کا نشانہ بننے والا یہ جنوب مشرق ایشیاء کا زندہ تاریخی شہر آج بھی خاطرخواہ توجہ اور ترقیاتی کاموں سے محروم ہے‘ پشاور کی سب سے بڑی ضرورت امن و امان کی بحالی ہے‘آبادی کے تناسب سے پولیس سٹیشنوں کی تعداد میں اضافے کا مسلسل مطالبہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا جاتا ہے کیونکہ پشاور ترجیح نہیں‘تین اطراف قبائلی علاقوں میں گھرے پشاور میں سال 2013ء سے سال 2017ء کے درمیان مختلف دہشت گرد کاروائیوں میں 929 افراد جاں بحق جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے‘ پشاور میں گزشتہ پانچ برس کے دوران 149بم دھماکے اور 22خودکش حملے ہو چکے ہیں! !پشاور میں قومی اسمبلی کے پانچ حلقوں کی مجموعی آبادی 42 لاکھ (شہری ’19 لاکھ‘ دیہی ’23 لاکھ) میں رجسٹرڈ ووٹرز 17 لاکھ (سات لاکھ خواتین اور 10 لاکھ مرد ووٹرز) ہیں‘پشاور کی حدود میں 30 نجی اور 20 سرکاری بڑی علاج گاہیں جبکہ 52 ڈسپینسریاں ہیں اور اگر ہم 2013ء کے عام انتخابات سے 2018ء کا موازنہ کریں تو اس عرصے کے دوران پشاور 2 سرکاری ہسپتالوں کا اضافہ ہوا‘ اسی طرح شعبہ تعلیم کے لحاظ سے بھی پشاور کا معیار قدرے بہتر ہے اور قومی سطح پر 155 اضلاع میں پشاور 64ویں نمبر پر ہے!کوڑا کرکٹ کو یکجا اور ٹھکانے لگانا نہایت ہی آسان لیکن اسے اِس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ گندگی کے ڈھیر ہر علاقے میں یہاں وہاں نظر آتے ہیں‘پینے کے پانی کی اندرون شہر بوسیدہ پائپ لائنوں سے ترسیل کا نظام نصف صدی پرانا ہے۔

جس میں جان ڈالنے کیلئے وقتاً فوقتاً ٹیوب ویلوں کا اضافہ آبادی کی ضروریات کیلئے نہیں بلکہ سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا گیا‘شہر کے بلندترین مقام گورگٹھڑی کے گرد وپیش میں 14ٹیوب ویل نصب کرنیوالوں نے اگر متعلقہ ماہرین کی وارننگ نظرانداز کی تو اسکا مقصد گورگٹھڑی پر قبضہ کرنا تھا‘جو محکمہ آثار قدیمہ کی مستعدی سے نہیں ہونے دیا گیا‘پشاور کے شہری علاقے پانی کی بدترین قلت اور شہری بے روزگاری سے پریشان ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ پشاور پر حکومت کرنیوالے دیگر اضلاع کے لوگوں کو سرکاری ملازمتوں میں اس حد تک مقررہ کوٹے سے زائد ملازمتیں دی گئیں کہ ہر صبح پشاور ملازمین کئی بسوں میں سوار آتے‘جنہیں سیکرٹریٹ اور دیگر محکموں میں حاضری کرتے ہی واپسی کی فکر لاحق ہوتی اور وہ دفتری اوقات کا آغاز و اختتام اپنے گھروں سے کرتے ہیں! سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے آج تک انسداد تجاوزات کی کاروائیاں مکمل نہ ہو سکیں‘ نئی حکومت کیلئے یہی سب سے بڑ چیلنج ہوگا‘تین اطراف سے قبائلی علاقہ جات میں پھنسے پشاور کی سیاست پر تین پختون قبائل کی چھاپ واضح ہے۔

داود زئی‘ خلیل اور مومند قبیلے کے بااثر افراد اپنے نام کیساتھ ارباب لگاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پشاور میں برادری سے تعلق رکھنے والا ووٹ اثر رکھتا ہے اور عمومی طور پر برادری کی نسبت سے نامزد افراد کو ووٹ دینا ہی پسند کیا جاتا ہے‘شہری حدود میں ہندکو زبان بولنے والے افراد شہری نمائندوں کو ووٹ دیتے ہیں لیکن ایسے انتخابی اُمیدوار بھی ہیں‘ جو پختونوں اور شہریوں کے لئے یکساں قابل قبول ہیں پشاور کا سب سے اہم انتخابی حلقہ این اے 31 (ماضی میں این اے ون) پختونوں کی اکثریت کیساتھ ہندکو زبان بولنے والوں پر مشتمل ہے اس حلقے میں سوائے عوامی نیشنل پارٹی کے کوئی دوسری پارٹی ایک سے زائد بار نہیں جیت سکی!دس جولائی کی شب خودکش حملے نے بلور خاندان کو ایک مرتبہ پھر سوگوار کر دیا ہے‘ جنہیں ایام غم کے بعد سنجیدگی سے پشاور اتحاد کے بارے میں سوچنا چاہئے کیونکہ اگر انکی پہچان پشاور ہے‘ انہوں نے اپنے عزیزوں کو پشاور کی خاک کے سپرد کیا ہے تو پھر ذاتی دلچسپی کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے سیاسی اور سماجی تعلق بھی پشاور ہی کے نام کردیں پشاور کو ایک ایسے وسیع البنیاد اتحاد کی ضرورت ہے‘ جس میں نسلی لسانی گروہی اور قبائلی حوالوں جیسی ترجیحات پر پشاور حاوی نظر آئے۔ ’’پشاور تھا خوشیاں: پشاور تھا سکھ ۔۔۔ نظر لگ گئی ہے‘ نظر لگ گئی ہے ۔۔۔ یہ دہشت‘ یہ صدمے‘ پشاور کے دکھ۔‘‘