222

ہارون بلور کی شہادت اور لمحہ فکریہ

الیکشن مہم کے دوران جن خدشات اور خطرات کا اظہار ایک گزشتہ کالم میں کیا تھا پشاور میں شہیدوں کے خاندان پر ایک خودکش حملے سے ان خدشات کے سچ ہونے کی خبر نہایت افسوسناک ہے ٗشہید بشیر بلور کے بیٹے ہارون بلور جو صوبائی اسمبلی کے لئے امیدوار تھے ٗکوہاٹی گیٹ کے قریب ایک کارنر میٹنگ میں شریک تھے کہ ایک خودکش حملہ آور ان کے قریب آگیا اور خود کو دھماکے سے اڑادیا ٗ ہارون بلور قریب ہونے کی وجہ سے شدید زخمی ہوگئے اور ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئے اس پروگرام میں بلور خاندان کے بزرگ سینیٹر الیاس بلور بھی موجود تھے مگر وہ سٹیج پر ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے ٗہارون بلور کے ہمراہ دیگر14کارکن بھی جان سے گئے جبکہ60زخمیوں میں بھی کئی کی حالت خطرہ میں ہے ٗہماری دعا ہے کہ اللہ زخمیوں کو صحت اور ہارون بلور سمیت جاں بحق افراد کو اپنی رحمت و مغفرت سے نوازے ٗپشاور کا بلور خاندان کاروباری اور تجارت پیشہ ہونے کے باوجود نظریاتی اور اصولی سیاست کا علمبردار رہاہے ٗایسے دور میں جب سیاست میں وفاداریاں تبدیل کرنا کوئی شرمندگی کی بات نہیں۔

ٗبلور خاندان نے ہر قسم کے حالات میں اے این پی کیساتھ وابستگی برقرار رکھی۔1997ء کے انتخابات میں حاجی غلام بلور کا اکلوتا بیٹا ایک انتخابی جھگڑے میں مارا گیا ٗ2012ء میں سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور ایک دھماکے میں شہید ہوگئے تھے ٗ ہارون بلور پر2016ء میں بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا ٗمگر ان کو اللہ نے بچالیا تھا ٗاب خودکش حملہ آور کامیاب ہوگیا یہ بلور خاندان کیلئے ایک بڑا صدمہ تو ہے ہی اہل پشاور بالخصوص اور اہل وطن کیلئے بالعموم ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ الیکشن مہم میں کسی سیاسی رہنما اور انتخابی امیدوار کا لوگوں کے اجتماع میں جانا بھی ضروری ہے اور سیاسی جلسوں میں ہر شخص کی تلاشی لینا یا سکیننگ کرنا بھی ممکن نہیں اور اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو پھر کسی کی جان کی ضمانت دینا مشکل ہو جائے گا‘پارٹی سربراہان کیلئے سکیورٹی کااہتمام تو گورنمنٹ کر رہی ہے مگر ہر امیدوار کو حفاظتی گارڈ دینا حکومت کیلئے ممکن نہیں ٗعام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جن لیڈروں کی سکیورٹی لازمی قرار دی گئی ہے انکے حفاظتی عملے کو بھی پارٹی کے ورکروں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا رہتا ہے ٗہر پارٹی کا ورکر اپنے اور لیڈر کے درمیان کوئی رکاوٹ برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔

اسی طرح ہر ووٹر کی خواہش ہوتی ہے کہ اس سے ووٹ مانگنے والا امیدوار براہ راست اس سے متعارف ہو اسلئے اگر کسی کو ملنے سے روکا جائے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے اس صورتحال میں سکیورٹی زیادہ مسئلہ بن جاتی ہے الیکشن کمیشن نے ہر انتخابی امیدوار کو ذاتی گارڈ رکھنے کی اجازت تو دی ہے مگر عام طور پر ووٹر اس کی اجازت نہیں دیتے اور اس رویئے سے دہشت گردوں کو اپنے مذموم عزائم پورے کرنے میں مدد ملتی ہے اسکے علاوہ سیاسی میٹنگز میں آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کی لعنت بھی ختم نہیں ہو سکی پشاور میں بھی کارنر میٹنگ میں ہارون بلور کی آمد کے موقع پر آتش بازی ہو رہی تھی اس دوران بڑا دھماکہ ہوگیا ٗگزشتہ روز ہی پنجاب میں دو واقعات ہوئے ایک لاہور میں سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی کارنر میٹنگ میں ہوائی فائرنگ سے تین افراد زخمی ہوگئے اور اوکاڑہ میں ایک جلسے پر فائرنگ سے ایک کارکن مارا گیا یہ ایسے واقعات ہیں جن پر سیاسی قیادت اور انتخابی امیدوار ذرا بالغ نظری کا مظاہرہ کرکے قابو پاسکتے ہیں مگر جب سیاستدان اپنی تقریروں میں شعلہ بیانی کا مظاہرہ کریں اور مخالفین کیخلاف آگ اگلیں تو جذباتی ورکر کیسے سنجیدگی دکھا سکتے ہیں‘ یہ وقت ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کیساتھ مل بیٹھ کر انتخابی قواعد و ضوابط پر سختی کیساتھ عمل کرنے کو یقینی بنائے ۔

صوبائی انتظامیہ اور پولیس نئے سرے سے حفاظتی معیار قائم کرے اور اس میں کسی سیاسی ورکر کی مداخلت کو برداشت نہ کیا جائے ۔قائدین بھی حفاظتی سٹاف کیساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے امیدواروں کو ہدایت کریں کہ پولیس یا دیگر اداروں کیساتھ تعاون کریں اور کارنر میٹنگ بھی ایسی جگہوں پر رکھیں جہاں پر آنے والے پرنظر رکھنا ممکن ہو اگرچہ انتخابات میں خودکش حملہ آوروں سے بچاؤ آسان کام نہیں ٗمگر ماضی میں کئی واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ ایسے بدبخت حملہ آوروں کو کسی جگہ داخل ہونے سے پہلے ہی پہچان لیا گیا اور نقصان بہت کم ہوا سیاسی قیادت سے کسی اچھے رویئے کی امید تو کم ہے مگر ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف ماحول کو ٹھنڈا رکھیں بلکہ اشتعال پھیلانے کی مہم کو بھی ترک کردیں انتخابی موسم دو ہفتے رہ گیا ہے اور یہی زیادہ سرگرمی کے دن ہیں ان دنوں میں صرف اپنے اپنے انتخابی منشور پر بات کریں اور اپنے امیدواروں کو بھی کسی قسم کی مخالفانہ تقاریر اور اشتعال انگیز لہجے سے اجتناب کرنے کی ہدایت دیں اور ہر قسم کے اسلحے کی نمائش یا ہوائی فائرنگ پر تو سختی سے پابندی لگائیں آنے والے دن ہماری قوم کے لئے ایک بڑے امتحان کی طرح ہیں اور ان سے پرامن طور پر نکلنے کیلئے ہر ایک نے اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے ۔