188

30 جولائی تک کسی سیاسی رہنما کو تنگ نہ کیا جائے‘ چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ 30 جولائی تک کسی بھی سیاسی رہنما کو تنگ نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کی سست روی کا شکار ہونے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سابقِ صدرِ مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم نہیں دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے آصف علی زرداری کو ذاتی حیثیت میں طلب نہیں کیا تھا, ان سیاستدانوں کو 30 جولائی تک عدالت نہ بلائیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگ جائے۔

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ انہوں نے اس کیس کا نوٹس میڈیا رپورٹس پر لیا ہے جبکہ غریب عوام کی تسلی کے لیے کرپشن کے اسکینڈل کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا آصف علی زداردی اور فریال تالپور ملزمان ہیں، ہم نے کن ملزمان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایت دی اس کی وضاحت ضروری ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر فریال تالپور اور آصف زرداری ملزمان نہیں ہیں تو پھر ای سی ایل میں نام ڈالنے کی میڈیا رپورٹس کیوں نشر ہوئیں، ہم کسی کی ساخت اور عزتِ نفس کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ابھی تک آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا، غلط تاثر کو ختم ہونا چاہیے‘۔سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کو ملزمان کو حاضر ہونے کا پابند کیا گیا تھا۔

آصف علی زرداری کے وکیل ڈاکٹر فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ الزام ہے کہ آصف علی زرداری کے اکاؤنٹ پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ ملا جبکہ آصف زرداری کا زرداری گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری، زرداری گروپ کے ڈائریکٹر بھی نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے کی جانب سے شفاف تحقیقات ہونی چاہیے جس پر ڈاکٹر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ادارہ نجف مرزا سے تحقیقات کروارہا ہے جبکہ آصف علی زرداری نے نجف مرزا کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہوا ہے۔

آصف علی زرداری کے وکیل نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ نجف مرزا سے تحقیقات واپس لی جائیں جسے عدالتِ عظمیٰ نے مسترد کردیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت مکمل مؤقف سنے بغیر نجف مرزا کو تبدیل نہیں کرے گی۔سماعت کے دوران سمٹ بینک اور حسین لوائی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا مہم کی وجہ سے نجی بینک کی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا۔

سماعت کے دوران صدر سمٹ بینک حسین لوائی نے کہا کہ میرے پاس بینک اکاونٹس سے متعلق کیسز نہیں آئے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ بینک نے یقین دہانی کرانی ہوتی ہے کہ جعلی اکاؤنٹس نہیں کھلیں لیکن اس بینک کے ذریعے جعلی اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے علاوہ تمام ملزمان الیکشن سے قبل شامل تفتیش ہوں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ’مجھے اب اسٹیٹ بینک کی کارکردگی پر شرم آنا شروع ہوگئی، ہم اسٹیٹ بینک کے کسی سرکلر کو جائز نہیں قرار دیں گے‘۔

بعدِ ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 6 اگست تک ملتوی کردی۔