385

دریائی آلودگی اور سیلاب سے خبردار کرنے والا دلچسپ آلہ

برسبین: آسٹریلوی انجینئروں نے ایک پائپ نما سادہ آلہ بنایا ہے جو بہتے دریا میں پڑا تیرتا رہتا ہے۔ اس میں موجود حساس آلات ایک جانب تو دریا یا ندی میں پانی کے بہاؤ کی رفتار نوٹ کرتے رہتے ہیں تو دوسری جانب پانی میں موجود آلودہ اجزا سے فوری طور پر خبردار بھی کرتے رہتے ہیں۔

برسبین، آسٹریلیا میں واقع کوئنزلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (کیو یو ٹی) کے ماہرین نے اس ایجاد کا نام ’دی ڈرفٹر‘ رکھا ہے۔ پائپ نما یہ آلہ بظاہر بے کار دکھائی دیتا ہے لیکن ڈرفٹرکو پروفیسر رچرڈ، ڈاکٹر کبیر اور دو دیگر سیٹلائٹ انجینئروں نے مل کر بنایا ہے۔ اس طرح یہ نظام دریاؤں میں وقتی طغیانی، آلودگی، الجی کے پھیلاؤ، پانی کی رفتار اور باقاعدہ سیلاب سے بھی خبردار کرتا ہے جس کے بعد قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

تصویر میں دکھائی دینے والا ایک پی وی سی پائپ ہے جسے کئی برس کی تحقیق کے بعد بنایا گیا ہے۔ اگر آپ دریا کا بہاؤ معلوم کرنا چاہتے ہیں تو اسے کچھ دیر کےلیے پانی میں پھینک دیجئے اور وہ فوری طور پر ڈیٹا بھیجنا شروع کردے گا۔ یہ ایک ہی وقت میں پانی کا بہاؤ اور مقدار دونوں کی پیمائش کرتا ہے۔

اس طرح کسی بھی مقام سے پانی کا ڈیٹا معلوم کیا جاسکتا ہے جبکہ ڈرفٹر کو ڈور سے باندھ کر یا ڈرون سے لٹکا کر ہر ضروری جگہ کی خبر لی جاسکتی ہے۔ کم خرچ اور سادہ ڈرفٹر سم کارڈ یا بلیو ٹوتھ کے ذریعے ڈیٹا بھیج سکتا ہے۔ اس میں جی پی ایس نظام بھی موجود ہے۔ پانی پر تیرتے ہوئے یہ ایک سے دو سینٹی میٹر باہر نکلے ہوتے ہیں تاکہ ہوا کے بجائے پانی کی ولاسٹی ٹھیک طرح سے معلوم کی جاسکے۔

اسے کئی مقامات پر کامیابی سے آزمایا گیا ہے جہاں اس نے پانی کے تیزرفتار بہاؤ کو کامیابی سے نوٹ کرنے کے ساتھ ساتھ پانی میں پی ایچ (تیزابیت/ اساسیت)، گدلاہٹ، نمکیات، درجہ حرارت اور حل شدہ آکسیجن کی بھی خبر دی ہے۔