399

کیا یہ سب سے بڑے پیر والا ڈائنوسار تھا؟

ڈکوٹا: 20 برس قبل ملنے والی ڈائنوسار کی ہڈیوں کو دوبارہ دیکھنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ اب تک کسی بھی ڈائنوسار کے سب سے بڑے پیر کو ظاہر کرتی ہیں۔

1998 میں امریکا میں جنوبی ڈکوٹا سے وایومنگ تک وسیع بلیک ہِلز ماؤنٹین کے ایک مقام پر 13 بڑی ہڈیاں دریافت ہوئیں جنہیں نظر انداز کردیا گیا تھا۔ اب دوبارہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ فوسلز 15 کروڑ سال قدیم ہیں اور لمبی گردن والے سبزہ خور ڈائنوسارز، ساروپوڈز سے تعلق رکھتے ہیں۔

تحقیق میں اتنی تاخیر کی بنیادی وجہ جدید تھری ڈی اسکیننگ ہے جو آج تو موجود ہے لیکن 20 برس قبل عنقا تھی۔ جدید اسکیننگ کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ ساری ہڈیاں ساروپوڈز کی ہیں اور انہیں ملایا گیا تو کل لمبائی 24 میٹر نکلی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب تک یہ کسی ڈائنوسار کی سب سے طویل ٹانگ بھی ہے جس کے پیر کا پھیلاؤ بھی سب سے زیادہ تھا۔

دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ڈائنوسار کی ٹانگوں کو دیکھ کر ان کی نسل اور قسم کا اندازہ لگانا بھی قدرے مشکل ہوتا ہے۔ اب اسی نسل کے ساروپوڈز کے مکمل فوسلز ملنے کے بعد 1998 میں ملنے والی ہڈیوں کی شناخت میں قدرے آسانی بھی ہوئی ہے۔ ابتدائی طور پر اسے دنیا میں پائے جانے والے ساروپوڈز کا سب سے بڑا پیر کہا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ’’ساروپوڈز‘‘ (sauropods) ڈائنوسار کی ایسی قسم کو کہا جاتا ہے جس کی طویل دُم، بہت لمبی گردن، چھوٹا سر اور ستونوں جیسے چار بڑی ٹانگیں اس کی امتیازی علامت قرار دی جاتی ہیں۔

اس تحقیق میں شریک ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر کسی ’’بریکیوسار‘‘ کا پیر ہوسکتا ہے لیکن ابھی وہ اس بارے میں پورے وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس بات کا حتمی فیصلہ اس ڈائنوسار کے دیگر جسمانی حصے دستیاب ہوجانے کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔