190

بڑے فیصلوں کا وقت

امریکی سینٹ نے اپنے 716ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان کے لئے امداد کی مد میں 15کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی ہے‘ اس سے پہلے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لئے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کی مخالفت سامنے آچکی ہے‘ جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کیا ہے‘ وطن عزیز کی اکانومی اور درپیش چیلنجز اس بات کے متقاضی ہیں کہ سیاست کی تمام گرماگرمی اور حکومت سازی کے اگلے مراحل کی تکمیل کے ساتھ انہیں سنجیدگی سے لیاجائے اور یہ ذمہ داری پوری قومی قیادت کی ہے‘قابل اطمینان ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کم ازکم پروٹوکول نہ صرف یہ کہ خودنہ لینے کا اعلان کیا ہے بلکہ وزراء کے حوالے سے بھی کلیئر کردیا ہے کہ انہیں بھی نہیں لینے دیں گے‘ پی ٹی آئی کے سربراہ نے وزیراعظم ہاؤس میں نہ رہنے کا اعلان بھی کیا ہے‘دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے قرض نادہندگان کے مقدمات جلد نمٹانے کیلئے ٹریبونل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

‘ عدالت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرضہ دینے والے 75فیصد رقم ادا کردیں ‘بصورت دیگر مقدمات بینکنگ کورٹ جائیں گے اور پوری رقم بطور سکیورٹی جمع کرانی ہوگی‘ وطن عزیز میں پانی کے بحران پر قابو پانے کے لئے بھی اقدامات کا آغاز ہوگیا ہے تاہم یہ سب اتنے بڑے بگاڑ کو سنوارنے کے لئے ناکافی ہے‘ہمیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے‘جس کے لئے ارضی حقائق کا ادراک ناگزیر ہے‘ہمیں نہ صرف بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے بلکہ ملک کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی اپنانی ہے‘ایسی پلاننگ کہ ہمیں غیروں سے امداد مانگنی ہی نہ پڑے‘ اس مقصد کے لئے کھلے دل کیساتھ ماضی کی پالیسیوں میں موجود سقم کو دور کرناہوگا‘ہمیں کرپشن کیساتھ سمگلنگ کا خاتمہ کرنا ہوگا‘غیر ضروری اخراجات کا سلسلہ بند کرنا ہوگا‘ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل سرخ فیتے کو ختم کرنا ہوگا‘توانائی بحران ختم کرنے کے لئے گردشی قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ بجلی اور گیس کی چوری ختم کرنا ہوگی قومی فنڈز کا شفاف استعمال یقینی بنانا ہوگا صرف نئی تعمیرات کو ترقی قرار دینے کی روش درست نہیں ‘ہمیں موجودہ اداروں کو فعال بنانا ہوگا اس سب کے ساتھ عوام کے لئے خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ لوگ تبدیلی کا خوشگوار احساس پائیں اس سب کے لئے مستحکم جمہوری ماحول بھی ضروری ہے جس میں ایک دوسرے کے موقف کو کھلے دل سے سنا جائے۔

ادویات کی قیمتیں اور معیار؟

سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والا یہ انکشاف باعث تشویش ہے کہ ملک میں ہزاروں ادویات کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں ملک میں غریب اور متوسط شہری اس وقت دیگر مسائل کے ساتھ علاج کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ‘سرکاری اداروں میں خدمات نہ ملنے کا گلہ ہے تو پرائیویٹ سیکٹر کے چارجز عام شہری کی دسترس سے باہر ہیں اس سب کے ساتھ ادویات کا معیار سوالیہ نشان ہے غیر معیاری اور دونمبر دوا کی مارکیٹ میں موجودگی کسی بھی ریاست میں ذمہ دار محکموں کے لئے چیلنج سے کم نہیں عوام کی فلاح کاتقاضا ہیلتھ سیکٹر میں ایسی اصلاحات ہیں جو صرف اعلانات اور منصوبوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے عملی نتائج بھی نظر آئیں ان میں اہم ادویات کی قیمتوں اور معیار پر نظر رکھنا ہے۔