133

سمگلنگ کا نوٹس

خیبر پختونخوا کی نگران حکومت نے عید الاضحی سے پہلے مویشیوں اور سبزیوں کی افغانستان سمگلنگ روکنے کیلئے کنکریٹ اقدامات کا حکم دیا ہے‘ نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) دوست محمد خان نے اس حوالے سے جاری تمام پرمٹ منسوخ کرنیکا حکم بھی دیدیا ہے‘حکومت کی جانب سے اضلاع کی انتظامیہ کو فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کاحکم جاری کئے جانے کیساتھ یہ وارننگ بھی دی گئی ہے کہ کہیں سے بھی سمگلنگ کی شکایت آنے پر مقامی انتظامیہ بچ نہیں پائے گی‘ صوبے کی حکومت نے پشاور میں حجاج کرام کیلئے ناقص کوالٹی کے احرام فروخت کئے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈمنسٹریشن کو چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے‘نگران حکومت کی ہدایات ان امور سے متعلق احساس کی عکاس ضرور ہیں تاہم اصل بات ان پر موثر انداز میں عملدرآمد کی ہے‘ حکومت کوئی بھی ہو مختلف سیکٹرز میں اسکے اعلانات اور اقدامات خوشگوار ہی ہوتے ہیں‘ لوگ کھلے دل سے ان کا خیر مقدم بھی کرتے ہیں تاہم عملی نتائج کے انتظار میں طویل وقت گزر جانے پر وہ مایوسی کا اس طرح شکار ہوتے ہیں کہ انہیں حکومتوں کے اعلانات اور پیش کردہ اعدادوشمار سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی‘ ہر حکومت اپنے اقدامات کے حوالے سے شکایات کے اندراج کی ہدایت کرتی ہے جبکہ کوئی بھی شہری کسی بھی شعبے میں شکایات درج کرواکے اپنے لئے دشمنی اور مخالفت مول لینے کی بجائے اضافی ادائیگیاں کرکے اپنا کام نکلوالنے میں ہی بہتری سمجھتا ہے کیونکہ اسے نہ تو شکایت پر عملدرآمد کی امید ہوتی ہے نہ ہی تحفظ کا احساس ‘مویشیوں‘ سبزیوں اور دیگر اشیاء کی افغانستان سمگلنگ نے خیبر پختونخوا کی مارکیٹ کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔

دوسری جانب غیر ملکی سمگل شدہ اشیاء کی کھلے عام فروخت نے وطن عزیز کی پہلے سے متاثر اکانومی کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے‘اس صورتحال پر قابوپانا وفاق اور صوبے کے ذمہ دار اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس کیلئے ان اداروں میں باہمی رابطے کا میکنزم ضروری ہے‘اضلاع کی سطح پر مارکیٹ کنٹرول اور اشیاء ضرورت کی سمگلنگ روکنے کیلئے ایڈمنسٹریشن کے پاس علیحدہ سے فعال سیٹ اپ ہی نہیں مجسٹریسی نظام جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں ختم کر دیاگیا کیا ہی بہتر ہو کہ نگران وزیراعلیٰ اس موثر نظام کی بحالی کیلئے ازخود فوری ایکشن لیں اور کیئرٹیکر دور میں بحالی ممکن نہ بھی ہو تو اس کیلئے روڈ میپ ہی دے دیاجائے۔

روڈ سیفٹی کا ذمہ دار کون؟

انڈس ہائی وے پر گزشتہ روز کے افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد تادم تحریر21 بتائی جا رہی ہے‘اسی روز کوہاٹ روڈ پر موٹرسائیکل پر سوار باپ بیٹی بھی ٹرک کی ٹکر سے جاں بحق ہوئے‘اسی طرح کے حادثات روزانہ کا معمول ہیں‘کسی بھی ریاست میں روڈ سیفٹی مختلف ذمہ دار اداروں کے مشترکہ اقدامات اور ایک چھت تلے ہونیو الے فیصلوں سے ممکن بنائی جاسکتی ہے‘ہمارے ہاں سڑکیں وفاق اور صوبوں کے ذمہ دار محکموں کی ملکیت ہمیں یہاں ٹریفک انجینئرنگ کو تکنیکی حوالے سے ممکن بنانابھی ضروری ہے تو دوسری جانب ٹریفک کے قاعدے قوانین فریم کرنے اور ان پر عملدرآمد کے ذمہ دار اداروں کو بھی اعتماد میں لیکر بڑھنا ناگزیر ہے‘ہمارے ہاں سڑکوں کی تعمیر کرنے والے کو علم ہی نہیں ہوتاکہ کل دوسرا محکمہ اسے اکھاڑ دے گا اس سارے منظر نامے میں کسی بھی حادثے کے بعد دوسرے حادثے کا انتظار کرنے کی بجائے روڈ سیفٹی کیلئے اقدامات کو اولیت دینا ضروری ہے جس کیلئے سٹیک ہولڈرز میں رابطہ یقینی بنانا ہوگا۔