171

بجلی کا بحران؟

مارچ2018ء تک بجلی کی پیداوار ضرورت سے بھی زیادہ ہونے جیسے حکومتی دعوے آج گرمی کی شدت میں 4500میگاواٹ کے شارٹ فال کی صورت میں سب کے سامنے ہیں‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ10جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع اور خصوصاً دیہی علاقوں میں14گھنٹے ہے ترسیل کے نظام میں خرابیاں اور ٹرپنگ اذیت ناک صورت اختیار کرچکی ہے اس سب کیساتھ مرمت کے کام کیلئے طویل دورانیے کیلئے بجلی بند رکھنے کے پرمٹ علیحدہ ہیں‘جس علاقے میں10گھنٹے مرمت کا کام ہو وہاں بجلی بحال ہونے کیساتھ معمول کی لوڈشیڈنگ شروع ہو جاتی ہے لوڈشیڈنگ کے خاتمے پر ائیرکنڈیشنر اور دوسرے برقی آلات فوری آن ہونے کیساتھ لنک کا اڑ جانا یا کوئی اور خرابی سامنے آنا اس بات کا پتہ دے دیتا ہے کہ اب کئی گھنٹے مرمت کے لئے رابطوں اور انتظار میں گزریں گے‘ متعدد علاقوں کے صارفین کو صرف یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ بجلی کی بندش لائن لاسز کے باعث ہے۔

جس کے ذمہ دار تو کوئی اور ہیں لیکن سزا میں آپ بھی شریک ہیں‘بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابیاں غلط میٹر ریڈنگ کے باعث مشکلات ٗمرمت کے کام میں غیر معمولی تاخیر ٗآندھی یا بارش میں سپلائی کا گھنٹوں معطل ہوجانا یہ سب ایسے مسائل ہیں جن پر ذمہ دار محکمہ خود قابو پاسکتا ہے تاہم اس میں جہاں وسائل کی ضرورت ہو تو حکومت کو فوری معاونت کرنی چاہئے جہاں تک تعلق بجلی کی پیداوار کا ہے تو یہ نہ کسی تقسیم کار کمپنی کا مینڈیٹ ہے نہ ہی اکیلے وزارت پانی و بجلی کے بس کا کام ہے اس ضمن میں فیصلے سینئر لیول پر ہونے ہیں گردشی قرضوں کے خاتمے کا پروپیگنڈہ پانچ سال ہوتا رہا جبکہ ان کا حجم آج بھی تشویشناک ہے اس طرح کی بدانتظامیاں دور کرنے کیساتھ پروڈکشن بڑھانے کیلئے موجود تمام آپشن پر وفاق اور صوبوں میں بات ہونی ہے ٗبات سیاسی قیادت کے یکجا ہونے کی بھی ہے ہمارے ہاں قومی قیادت جب چاہے جس ایشو پر چاہے مشترکہ فیصلے کرنے لگتی ہے ٗتاہم آبی ذخائر پر کبھی کسی نے سنجیدگی سے اکٹھا ہونے کی کوشش ہی نہیں کی بجلی کی پیداوار کے چھوٹے منصوبوں پر توجہ بھی ناگزیر ہے اس میں گزشتہ دور میں خیبر پختونخوا اور مرکز کے درمیان معاملات الجھے رہے جو نئے دور میں سلجھائے جاسکتے ہیں انرجی سیکٹرعام شہری کی ریلیف کیساتھ وطن عزیز کی اکانومی کیلئے ضروری ہوتا ہے جس کو حکومتی ترجیحات میں سرفہرست ہونا چاہئے نہ صرف یہ کہ اس بہتری کیلئے اعلانات پر ہی اکتفا ہو بلکہ اعلانات سے بڑھ کر عملی اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔

انٹر نتائج اور داخلے

خیبر پختونخوا کے تعلیمی بورڈزکی جانب سے ایف اے ٗ ایف ایس سی کیساتھ فنی تعلیمی بورڈ کے نتائج آنے پر ہمیشہ والدین اور خود طلبہ کیلئے بڑا مسئلہ ڈگری کلاسز اور پروفیشنل کالجوں میں داخلے کا ہی ہوتا ہے ہمارے ہاں سرکاری ڈگری کالجوں اور پروفیشنل اداروں میں نشستیں کم اور امیدوار زیادہ ہوتے ہیں نجی شعبے کی فیس غریب اور متوسط طبقے کے لئے ادا کرنا ممکن نہیں ہوتا ٗایسے میں ضرورت ایک جانب سرکاری اداروں میں نشستیں بڑھانے کیساتھ انٹر کالجوں میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کلاسز کے اجراء کی ہے تو دوسری طرف پرائیویٹ سیکٹر کو معیار کا پابند کرنے کے ساتھ ان کی فیسوں اور دیگر اخراجات کو قاعدے میں لانے کی ہے ضرورت فاصلاتی نظام تعلیم پر بھی توجہ دینے اور اس کے لئے اچھا رول ماڈل تلاش کرنے کی بھی ہے جو ورچوئل یونیورسٹی بھی ہو سکتا ہے۔