118

عمران خان کی حکمت عملی

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد اور پشاور میں منعقد ہونیوالے پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاسوں سے خطاب میں اپنی آئندہ حکمت عملی کے خدوخال واضح کئے ہیں‘ اسلام آباد میں پارٹی اجلاس میں شرکت کیلئے آنے پر انتظامیہ کی جانب سے پروٹوکول اور راستوں کی بندش پر ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے ملک نہیں چلے گا‘ عمران خان اس سے اگلے روز پشاور میں خصوصی پروٹوکول کے بغیر پھرے پی ٹی آئی کے سربراہ ہفتے میں ایک گھنٹہ عوام کے مسائل خود سننے کا اعلان بھی کرتے ہیں‘ عمران خان یہ بھی کلیئر کرتے ہیں کہ اب کی بار بھی اگر ملک میں روایتی طرز حکومت اپنایاگیا تو عوام ہمیں غیض وغضب کا نشانہ بنائیں گے‘ عمران خان صوابدیدی فنڈز کے خاتمے کیلئے قانون سازی میرٹ اور احتساب کا عندیہ دیتے ہیں‘ قابل اطمینان ہے کہ تحریک انصاف اس بات کا مکمل احساس کررہی ہے کہ ملک کو معاشی طور پر بہت مسائل درپیش ہیں‘ عمران خان اس ضمن میں اخراجات کم کرنے کا کہہ رہے ہیں‘ وہ ایک ایسی کمیٹی بنانے کا بھی کہتے ہیں کہ جو اس ضمن میں سفارشات دے تاکہ غیر ضروری اخراجات ختم ہوں اور وسائل عوام پر خرچ ہوسکیں‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کسی بھی حکومت کیلئے چاہے وہ مرکز میں ہویا صوبوں میں اپنے منشور اور پروگرام کیلئے کام اس صورت ممکن ہوتا ہے۔

جب اس کے پاس وسائل ہوں‘ یہاں اس وقت اکانومی قرضوں تلے دبی ہے اور تجارتی خسارہ بڑھتا جارہا ہے‘ بدانتظامی نے دفتری امور متاثر کررکھے ہیں‘ حکومتی اعلانات واقدامات پر عمل درآمد نظر نہیں آتا‘ جس سے لوگوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے‘ کرپشن کسی بھی ریاست کی جڑوں کو کھوکھلا کرکے رکھ دیتی ہے‘ اس ساری صورتحال میں خارجہ محاذ پر ٹھوس حکمت عملی کیساتھ ضرورت ملک کی معاشی حالت سدھارنے اور عوام کو ریلیف دینے کی ہے جس کا سب سے موثر ذریعہ کارکردگی پر کڑی نگاہ رکھنا ہے‘ جس کا عندیہ عمران خان دیتے ہیں تاہم اس سب کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے کیونکہ برسوں کا بگاڑ سنورنے میں وقت ضرور لیتا ہے۔

مویشی منڈیوں کیلئے پیشگی انتظام

عید الاضحی کی آمد کیساتھ قربانی کے جانوروں کی خرید وفروخت کا کام وقت کیساتھ تیزی اختیار کررہا ہے‘ صوبے کے بعض دوسرے حصوں کی طرح صوبائی دارالحکومت میں مویشی منڈیوں کیلئے مقامات مختص ضرور ہوتے ہیں تاہم ہر سال اس حوالے سے شکایات سامنے آتی ہیں‘ جن کے ازالے کیلئے ایک سال انتظار کا کہا ضرور جاتا ہے تاہم عملی طورپر اصلاح احوال نظر نہیں آتی‘ پشاور کی آبادی اور ٹریفک صورتحال کا تقاضا ہے کہ منڈیاں ایسے مقامات پر لگائی جائیں جہاں پارکنگ کا اچھا انتظام ہو اور سڑک پر ٹریفک جام نہ ہونے پائے‘ نہ ہی منڈیوں کے راستوں میں ایسا ہو‘ منڈیوں کی صفائی اور ادویات کا چھڑکاؤ ضروری ہے تاکہ کوئی بیماریاں نہ پھیل سکیں‘ مویشیوں کے علاج کیلئے موبائل یونٹس کا انتظام بھی ضروری ہے‘ منڈیوں میں ٹیکس وصولی ایک حد اور قاعدے میں رہے اور شہریوں کر ہراساں نہ کیاجائے‘منڈیوں سے مویشیوں کو لانے کیلئے گاڑیوں کے کرایوں پر نظر رکھنے اور شکایات کے اندراج کا انتظام ناگزیر ہے‘ اس سب کیساتھ یقینی یہ بات بھی بنائی جائے کہ غیر قانونی منڈیاں قائم ہونے پر لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔