99

اِنقلابی روح!

پاکستان کی سیاست ’ذوالفقار علی بھٹو‘ کے سحر سے نہیں نکل سکتی‘ جن کی شبیہہ ہر انقلابی اور بالخصوص ’نئے پاکستان‘ کی خواہش رکھنے والے ’عمران خان‘ میں دیکھی جا سکتی ہے‘ جنہوں نے اپنی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کو اُس وقت بطور دلیل پیش کیا‘ جب اُنہیں ’6 اگست‘ کے روز پارلیمانی پارٹی اِجلاس میں متوقع طور پر بطور ’وزیراعظم‘ نامزد کیا گیا! لیکن کیا ’’ذوالفقار علی بھٹو کا موازنہ عمران خان کے سیاسی ماضی‘ حال اور مستقبل کے حوالے سے ممکن ہے؟‘‘ ایک عرصے تک بھٹو کی عوامی سیاست کو سراہنے والے عمران خان نے بھٹو خاندان سے ہمیشہ فاصلہ رکھنے کو ترجیح دی۔ حالیہ دنوں میں پیپلزپارٹی کے وارث آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا تذکرہ بھی وہ اچھے الفاظ میں نہیں کرتے۔ وزارتِ عظمیٰ کا تاج سر پر رکھنے کے بعد کیا عمران خان اپنے ’انداز تخاطب‘ اور ’اندازِ سیاست‘ کی اصلاح کر پائیں گے‘ جس میں ہم عصر اور مخالف سیاسی سوچ رکھنے والوں کا ’زبانی کلامی‘ ہی سہی لیکن کچھ احترام نظر آئے؟ جب کسی سیاسی جماعت کا سربراہ اپنے بیان میں محتاط نہیں ہوتا تو اُس کے پیروکار بھی وہی الفاظ اور لہجہ مستعار لے لیتے ہیں اور یوں سیاست عدم برداشت کے گرد گھومنے لگتی ہے تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ دونوں رہنما (بھٹو اور عمران خان) کو ہی اپنے اپنے عہد شباب میں بین الاقوامی شہرت ملی۔

پانچ جنوری 1928ء کو پیدا ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ کے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی‘ جس کی زمین تقسیم سے پہلے ہی کوسوں میل پر پھیلی ہوئی تھی مگر ایک فیوڈل شہزادہ ہونے کے باوجود انہوں نے مغرب کی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وطن واپسی پر ایک وکیل کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ سکندر مرزا کراچی میں ایوانِ صدر میں براجمان ہوچکے تھے‘ جن کی ایرانی نژاد بیگم ناہید مرزا ایوانِ صدر میں ’تقریبات منعقد کرتی تھیں۔ اِن تقاریب میں بھٹو کی ملاقات نصرت سے ہوئی جو بعد میں اُن کی بعد دوسری بیگم بنیں۔ سکندر مرزا کے بعد صدر ایوب خان کی کابینہ میں نوجوان بھٹو نے اپنی علمیت اور انگریز دانی سے جلد ہی منفرد مقام بنالیا۔ پہلے پانی اور بجلی کے وزیر اور پھر صرف چھتیس سال کی عمر میں وزارتِ خارجہ کا منصب سنبھالا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو 1965ء کی جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے کہ انہوں نے ’آپریشن جبرالٹر‘ پلان کیا‘ جس کے سبب بھارت کو پاکستان پر حملے کا موقع ملا۔ 1965ء کی جنگ میں روسی مداخلت سے دونوں روایتی دشمن برابر جھٹ گئے مگر ذوالفقار علی بھٹو کو تاشقند میں ہونے والا معاہدہ قبول نہ تھا۔ تاشقند ڈکلیریشن کی مخالفت اور سلامتی کونسل میں اُن کی تقریروں نے راتوں رات انہیں پاکستانی عوام کا ہیرو بنا دیا۔ ایوب خان کی حکومت سے علیحدگی اُن کی سیاسی زندگی کا پہلا بڑا امتحان ثابت ہوا‘ جس پر وہ پورے اُترے‘ نومبر1967ء میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور محض تین سال بعد ہی صرف 44سال کی عمر میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ اُن کا پانچ سالہ دورِ اقتدار اور پھر جولائی 1977ء میں اقتدار سے علیحدگی اور اپریل 1979ء میں پھانسی پانے کے بعد آج بھی وہ اپنی قبر سے کروڑوں عوام کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔ دوسری طرف تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان سیاست نہیں بلکہ کرکٹ کے میدان کے کھلاڑی تھے مگر دیگر پاکستانی کھلاڑیوں سے مختلف۔ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ‘ اور پھر پاکستانی کرکٹ ٹیم کو پہلی بار ورلڈ کپ دلا کر عمران خان بھی بھٹو کی طرح پاکستان کے کروڑوں عوام کے ہیرو بن گئے۔ شوکت خانم ہسپتال نے اُن کی شہرت کو چار چاند لگائے مگر سیاست اُن کا میدان نہ تھا۔

پہلی بار 1997ء میں عملی سیاست میں آئے تو وہ بارہویں کھلاڑی تھے‘ 2002ء کی انتخابی شکست کے بعد کوئی اور ہوتا تو لندن میں جا کر پناہ لے لیتا مگر اُن کے اندر کا کھلاڑی ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی چین سے نہیں بیٹھا‘ 2008ء میں انتخابی بائیکاٹ کے بعد 2013ء میں خیبرپختونخوا میں شاندار کامیابی اُن کی وزارتِ عظمیٰ کے لئے پہلی سیڑھی بنی اور پھر پچیس جولائی 2018ء کو اُنہیں تئیس سال کی سیاست کا ثمر ملا اور اب یہی وہ دن اور وقت ہے جہاں سے اُن کے سیاسی امتحان کا آغاز ہوتا ہے۔ذوالفقار بھٹو محض ایک سیاستدان نہیں سٹیٹس مین تھے جبکہ عمران خان کے اندر کا کھلاڑی ابھی تک اُن کے اندر سے نہیں نکلا۔ اُن کے اردگرد نوآموز سیاسی کھلاڑیوں یا پھر مقامی روایتی سیاستدانوں کا ایک گروپ ہے جو اُن کو ایک مزید عظیم سیاسی رہنما بننے سے روکے ہوئے ہے۔ ذوالفقار بھٹو کو تاریخ کا ادراک تھا‘ کتب بینی کے بے انتہا شوقین تھے‘ اپنی علمیت‘ قابلیت کا لوہا منوانا جانتے تھے۔ ڈاکٹر ہنری کسنجر جیسے ماہر وزیرِ خارجہ نے معروف اطالوی صحافی ’اوریانا فلاسی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’وہ دنیا میں جن چند شخصیات سے متاثر ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو اُن میں سے ایک ہیں۔‘‘ عمران خان کو پاکستان کا ’ذوالفقار علی بھٹو‘ بننے کے لئے جہاں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوانا پڑے گا‘ وہیں انہیں عالمی سطح پر ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرنا بھی ہوگا جن کا حوالہ ماضی نہیں بلکہ حال و مستقبل ہونا چاہئے۔