80

لوڈ شیڈنگ کا عفریت

بجلی کاعفریت ایک بار پھر سر اٹھا کر چنگھاڑ رہا ہے اور آنے والی حکومت کیلئے پریشانی کا سامان کر رہا ہے، قارئین کو یاد ہوگا کہ 2013 میں انتخابات کے بعد بجلی کی کمی کا سامنا تھا مگر اس وقت الزام تھا کہ سابقہ (پیپلز پارٹی) کی حکومت نے بجلی پیدا کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا مگر اب تو ایسی صورتحال نہیں ہے، جانے والے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 22 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں ڈال کر لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کردیاہے، اس لئے اب عوام کو بھی سمجھ نہیں آرہی کہ آخر معاملہ کیا ہے، کیا چند ماہ میں بجلی پیداکرنے کے کارخانے بند ہوگئے یا ان کمپنیوں نے بدنیتی سے بجلی کی پیداوار روک دی ہے اور ابھی نگران دور ہے مگر لوڈ شیڈنگ6 گھنٹے سے لیکر16 گھنٹے تک پہنچ گئی ہے، ہم اسلام آباد کے شہری بہت سے معاملات میں وی آئی پی‘‘ مزے بھی لیتے رہتے ہیں، لوڈ شیڈنگ کے معاملے میں بھی اسلام آباد میں انتہائی مجبوری میں ہی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اگر یہاں ہو رہی ہے تو پھر دیگر شہروں کا حال سمجھا جاسکتاہے یہاں گزشتہ انتخابات2013 کے بعد مسلم لیگ کی حکومت کے قیام کے وقت کی صورتحال سامنے لاکر دیکھیں تو بہت دلچسپ بات سامنے آتی ہے ۔

اس وقت کے وزیرخزانہ نے پہلے تو یہ کہا کہ بجلی پیدا کرنے کے کارخانے ہی نہیں لگائے گئے بلکہ رینٹل پاور پلانٹ منگوا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایاگیا، پیپلز پارٹی کی حکومت کمیشن کھا گئی مگربجلی کا کچھ نہیں کیا پھر اس کیساتھ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بجلی پیداکرنے کے کارخانے موجود ہیں مگر انکے کھربوں روپے کے بقایا جات ہیں، یہ ادا کر دئیے جائیں تو بجلی کی کمی دور ہوجائیگی‘یہاں انہوں نے ’’گردشی کھاتے‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی‘ چنانچہ وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ ان پاور پروڈیوسنگ کمپنیوں کو 5 کھرب روپے ادا کر دئیے گئے، اس کے بعد بھی حکومت نے زیادہ زور بجلی پیدا کرنے کے نئے نئے پلانٹ لگانے پر ہی رکھا، اس میں اگر توجہ نہیں دی گئی تو پانی کے ذریعے سستی بجلی پیداکرنے کیلئے ڈیم بنانے پر نہیں دی گئی۔ باقی سولر انرجی اور فرنس آئل سے چلنے والے پلانٹس کیساتھ کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے کارخانے بھی لگائے گئے، یہ الگ بات ہے کہ انکے ذریعے حاصل ہونیوالی بجلی 20 روپے یونٹ تک ہوگئی اورماحولیاتی نقصان الگ ہے مگر یہ دعویٰ کیاگیا کہ اب ہم بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہوگئے ہیں مگر اصلی صورتحال کیا تھی، اس کا اظہار پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کے اپنی آخری پریس کانفرنس میں کردیا تھا کہ آج ہم جا رہے ہیں، کل اگر لوڈ شیڈنگ ہوئی تو ہم ذمہ دار نہیں ہونگے‘‘ اور واقعی انکے جانے کے بعد یہ عفریت آہستہ آہستہ پھن پھیلا رہا ہے۔

اور لگتا ہے کہ نئی حکومت کیلئے ایسی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے کہ وہ بھی اپنی حکومت کی ابتداء 5کھرب کی بھینٹ چڑھانے کے بعد ہی کر پائے، اب یہ بھی کوئی راز نہیں کہ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں میں اکثر میاں منشا گروپ کی ہیں اور میاں منشاء گروپ میں کون کون ہے یہ بھی کوئی راز نہیں۔ اس لئے موجودہ لوڈ شیڈنگ کا جواز اور مقصد سمجھنا زیادہ مشکل نہیں، عمران خان کو بلاشبہ دیگر معاملات کیساتھ بجلی کی پیداوار اور تقسیم میں توازن اور بجلی چوری جیسے معاملات کو پہلے دیکھنا ہوگا اس سے ایک تو عام آدمی براہ راست متاثر ہوتا ہے اور فوری ردعمل بھی ظاہر کرتاہے تو دوسری طرف صنعت و حرفت اور تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو معیشت کی خرابی کی جڑ ہے، بجلی پیدا کرنیوالے کارخانوں کی پیداواری صلاحیت اور قومی سسٹم میں بجلی شامل کرنے کی شرح کیساتھ بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر کرنے کی جانب بھی توجہ دی جائے تو اصل مسئلہ حل ہوسکتا ہے، بدقسمتی سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی1993 کی حکومت سے لیکر مسلم لیگ کی 2013 کی حکومت تک بجلی پیدا کرنے کے کارخانے تو لگائے گئے مگر ترسیلی نظام کو اپ گریڈ کرنے کی جانب توجہ نہیں دی گئی یہ بھی حقیقت ہے کہ1996 میں پاکستان اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیداکرنے کے قابل ہوگیا تھا کمپنیاں الزام لگاتی ہیں کہ کمیشن کیلئے بل روک لئے جاتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی حکومت اس معالے کوکس طرح ہینڈل کرتی ہے’’گردشی کھاتے‘‘ بھر جاتے ہیں یا کوئی نئی ترکیب استعمال کرتے ہیں‘یہ درست ہے کہ حکومت کی کارکردگی جانچنے کا یہ کوئی مناسب پیمانہ نہیں ہے مگر کیا کیا جائے ہمارے سابق حکمران ساری حکومت ایک اسی مسئلے پر کرتے رہے، اب بھی عوام اس کو ہی مسئلہ سمجھتے ہیں۔