106

عوامی مسائل اور مستحکم معیشت

وطن عزیز کو درپیش سنجیدہ مالی چیلنجوں سے عہدہ برا ہونے کے لئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اعلانات اور ارادے قابل اطمینان ہیں تاہم بگاڑ کا حجم اس سے آگے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ظاہر کرتا ہے عمران خان آئی ایم ایف کے حوالے سے یہ کہنے کے ساتھ کہ اس سے متعلق سوچا جائے گا یہ بھی کلیئر کرتے ہیں کہ سخت فیصلے کرنا ہوں گے وہ صدر ‘ وزیراعظم اور وزراء کے اخراجات کم کرنے کا عندیہ بھی دیتے ہیں پی ٹی آئی کے سربراہ گزشتہ روز پشاور میں بغیر پروٹوکول نیب کے آفس میں پیش ہوئے‘وطن عزیز کی معیشت کھربوں روپے کی قرض دار ہے تجارتی خسارہ بڑھتا ہی جا رہا ہے سرمایہ کاری مطلوبہ رفتار سے نہیں ہورہی انوسٹمنٹ کیلئے ماحول سازگار بنانے پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی‘توانائی کا بحران نہ صرف ملک کی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کررہا ہے بلکہ اس سے عام شہری کی مشکلات میں بھی روز بروز اضافہ ہورہا ہے گرمی کی اس شدت میں شہری لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں احتجاج کرتے نظر آ رہے ہیں بجلی کے اضافی بل اور ترسیل کے نظام سے جڑی مشکلات علیحدہ ہیں صنعتی و تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے پر روزگار کے مواقع بھی ضرورت کے مطابق نہیں اور پڑھے لکھے نوجوان اپنی اسناد لئے ملازمتوں کیلئے پھر رہے ہیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ملک میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ صورتحال مایوس کن ضرورہے تاہم اس میں بہتری کے لئے گنجائش ضرور موجود ہے اصلاح احوال کا یہ عمل بہت صبر آزما ہوگا کیونکہ لوگ فوری خوشگوار تبدیلی کے متقاضی ہیں جبکہ دوسری جانب حالات میں بہتری کے لئے بہت کچھ کرناابھی باقی ہے ایسے میں ایک جانب مختصر المدتی اور دوسری طرف طویل مدت کی پلاننگ ناگزیر ہے تاہم اس سارے عمل میں سیاسی قیادت کو ساتھ لے کر چلنا بہتر نتائج دے گا اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کسی بھی ریاست میں مستحکم سیاسی ماحول ہی ہمیشہ بہتر معاشی سرگرمیوں کے لئے ضروری ہوتا ہے۔

ہسپتال میں فیس نہ لینے کی ہدایت

نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر)دوست محمد خان نے محکمہ صحت کو ایمرجنسی یا حادثے کی صورت میں زخمیوں اور مریضوں سے کسی قسم کی اوپی ڈی یا داخلہ فیس وصول نہ کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نے چترال میں کینسر ہسپتال کے لئے زمین الاٹ کرنے کا حکم بھی دیاہے ‘وزیراعلیٰ کے احکامات ان کا احساس ضرور ظاہر کرتے ہیں تاہم یہ کتنے فائدہ مند ہیں اس کا انحصار عمل درآمد کے لئے موثر نگرانی سے مشروط ہے ‘چیک اینڈ بیلنس کا فقدان ہی ہے کہ حکومت کے متعدد اقدامات جن کا مقصد مریضوں کو ریلیف فراہم کرنا تھا آج شفاخانوں میں بے ثمر نظر آتے ہیں مریض داخلہ فیس یا اوپی ڈی کی پرچی کے لئے جیسے تیسے کرکے پیسوں کا بندوبست کرہی لیتے ہیں مسئلہ پرچیوں کے حصول کے لئے قطاروں میں لگنے اور خدمات حاصل کرنے کے لئے دھکے کھانے کا ہے جو سراسر زیادتی کے مترادف ہے چترال میں کینسر ہسپتال کے لئے اراضی مختص کرنا قابل تعریف ہے مگر ضرورت سرطان کے مریضوں کی دوا میگنس کی محفوظ سیل یقینی بنانے کی ہے تا کہ مریضوں اور تیمارداروں کو سہولت حاصل ہو۔