87

کرنے کے ضروری کام

جوں جوں عمران خان کے حلف اٹھانے کے دن نزدیک آتے جا رہے ہیں اہل رائے لوگوں کے دلوں میں قسم قسم کے سوالات اٹھ رہے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے تو اعلان کر رکھا ہے کہ وہ 130 ایکڑ اراضی پر محیط وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے لیکن شنید ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی سوچ کچھ اور ہے انہوں نے بنی گالا اورسپیکر ہاؤس دونوں جگہوں کو غیر محفوظ قرار دے دیا ہے یہ بیورو کریسی بھی بڑی کایاں قسم کی شے ہے ان کی باتوں میں اگر عمران خان نہ ہی آئیں تو بہتر ہے اگر تو وہ وزیراعظم ہاؤس میں قیام نہیں کرتے تو وہ اس سے قومی خزانے کو ہر سال تقریباً دو ارب روپے کے اخراجات سے بچاتے ہیں‘وزیراعظم ہاؤس کی حفاظت کیلئے اس ملک کو سالانہ 98 کروڑ روپے کا چونا لگتا ہے اب چونکہ عمران خان نے ببانگ دہل فیصلہ کر ہی لیا ہے کہ وہ سادگی اپنائیں گے تو ان کے لئے کوئی اوسط درجے کا گھر جس میں و ہ اپنا دفتر بھی بنا سکیں سردست کرائے پر بھی لیا جا سکتا ہے اور مستقبل کیلئے ایسا وزیر اعظم ہاؤس تعمیر کیا جا سکتا ہے کہ جو محل نظر نہ آئے بلکہ عام آدمی کا گھر نظر آئے عمران خان کیلئے اقتدار پھولوں کی نہیں بلکہ کانٹوں کا سیج ہو گابطور وزیراعظم ان کیلئے آئین میں ترمیم کرانا خاصا مشکل کام ہو گااو ر اگر وہ کسی عوامی بہبود کیلئے آئین میں ترمیم کرانا چاہیں گے۔

تو انہیں قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکا ر ہوگی رضا ربانی کا یہ بیان کہ نئی حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قبل معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائے اپنی جگہ درست ہے لیکن ہم اس پر صرف یہ کہیں گے کہ اور کو نصیحت اورخودمیاں فصیحت‘انہوں نے پی ٹی آئی کو تو نصیحت کر دی ہے لیکن جب ان کی سیاسی پارٹی برسر اقتدار تھی تو کیا کبھی انہوں نے پارلیمنٹ کو درخور اعتناء سمجھا؟ پارلیمنٹ کو تو ہر اہم معاملے میں سب سے پہلے اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے لیکن اب تک اس ملک میں کب حکومتوں نے پارلیمنٹ کو گھاس ڈالی ہے ! قطرے قطرے سے ہی دریا بنتا ہے کئی باتیں جو بظاہر چھوٹی چھوٹی غلطیاں لگتی ہیں بعد میں جاکر قومی خزانے پربوجھ بن جاتی ہیں مثلاً سرکاری ٹیلی فون اور سرکاری گاڑیوں کا ناجائز استعمال‘ کسی زمانے میں سردار عبدالرب نشتر اس وقت کے مغربی پاکستان کے گورنر تھے گورنمنٹ کالج لاہور گورنر ہاؤس سے کچھ فاصلے پر تھا پرانے لاہورئیے گواہی دیں گے کہ روزانہ صبح گورنر صاحب کے دو بیٹے گورنمنٹ کالج سائیکلوں پر جاتے ان کو گورنر ہاؤس کی گاڑیاں استعمال کرنے کی اجازت نہ تھی۔

ایک مرتبہ غلام اسحاق خان جب سینٹ کے چیئرمین تھے تو انکے اکلوتے صاحبزادے نے انکے پرائیویٹ سیکرٹری سے کہا کہ ان کو بلیو ایریا جانے کیلئے ایک سرکاری گاڑی چاہئے غلام اسحاق خان کے پرائیویٹ سیکرٹری چونکہ انکی خوبو سے واقف تھے انہوں نے جب غلام اسحاق خان سے پیشگی اجازت چاہی کہ کیا ان کے صاحبزادے کوگاڑی مہیاکردی جائے تو غلام اسحاق خان نے یہ جواب دیا کہ برخوردار سے کہہ دیا جائے کہ وہ ٹیکسی پر بلیو ایریا چلا جائے اسی طرح ماضی کے ایک نگران وزیراعظم ملک معراج خالد کی اہلیہ جب بازار سے سودا سلف لینے جاتیں تو ٹیکسی میں جاتیں ملک صاحب نے بھی نجی کاموں کیلئے سرکاری گاڑیوں کا استعمال بند کر رکھا تھا ایک چینی کہاوت ہے کہ مچھلی ہمیشہ اوپر سے سڑتی یا گلتی ہے اگر کسی بھی ادارے کا سربراہ خود دیانتدار ہو تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس کا کوئی ماتحت مالی بدعنوانی کا مرتکب ہو ۔