51

زندگی موت کی خبر لائی

عیدالاضحی کی تعطیلات پر جانے سے قبل محکمہ صحت کے فیصلہ سازوں نے اعلان کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے کہ ’خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے‘ جس کی وجہ سے ڈینگی وائرس پھیلانے کا سبب بننے والے مچھروں کی افزائش کے لئے ماحول سازگار ہو جاتا ہے لہٰذاامکان ہے کہ گزشتہ برس کی طرح اِس مرتبہ بھی صرف ڈینگی نہیں بلکہ کانگو بخار کی وباء پھوٹ سکتی ہے‘ کانگو وائرس متاثرہ جانوروں کے خون سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پرڈینگی اور کانگو بیک وقت پھیلنے کے واقعات پیش آئیں‘ جس میں انسانی جسم کا درجہ حرارت اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ موت واقع ہو سکتی ہے‘ گذشتہ برس جن علاقوں میں ڈینگی و کانگو پھیلا تھا‘ انہی کو دوبارہ خطرناک قرار دیا گیا ہے جبکہ زیادہ بڑے پیمانے پر اچانک ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی ہسپتالوں میں آمد کی صورت خصوصی انتظامات کرنا ہوں کیونکہ عیدالاضحی کی تعطیلات میں عموماً طبی و معاون طبی عملہ چھٹیوں پر ہوتا ہے۔ کسی ضلع میں اسی سے آبائی تعلق رکھنے والوں کو ملازمتیں دینے کے پیچھے ایسی ہی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے جیسی حکمت کارفرما تھی کہ ضرورت پڑنے پر اچانک طبی عملے کو طلب کیا جا سکے لیکن سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کی وجہ سے ملازمتوں میں اضلاعی توازن برقرار نہ رہ سکا اور اس کا سب سے زیادہ نقصان و خرابی ضلع پشاور میں دیکھی جا سکتی ہے‘ جو ایک الگ موضوع ہے۔ عجب ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ڈینگی اور کانگو سے خود کو بچانے کا انتظام کریں لیکن اس سلسلے میں کم آمدنی و غریب طبقات کی مدد نہیں کی جاتی جو نشیبی علاقوں میں رہتے ہیں۔ جو اپنی آمدنی سے گھر کے ہر فرد کے لئے مچھردانی نہیں خرید سکتے اور نہ ہی ایسے لوشن خریدنے کی مالی سکت رکھتے ہیں کہ جن کے لگانے سے مچھر ان سے دور‘ رہنے پر مجبور ہوں! فیصلہ سازوں کو زیادہ آسان لگتا ہے کہ ہنگامی حالات پیدا ہوں۔ درجنوں اموات ہوں۔

ہسپتالیں بھر جائیں اور پھر کروڑوں روپے کی ادویات ہنگامی بنیادوں پر خریدی جائیں‘ جنہیں چند ہفتوں میں ادھر ادھر کر دیا جائے! محکمہ صحت کے فیصلہ سازوں نے اپنی گلوخلاصی کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ ’عوام کو جو کچھ بھی کرنا ہے اب خود ہی کرنا ہوگا‘ اور بعدازاں یہ سننے میں نہیں آنا چاہئے کہ ’’ہمیں خبر نہ ہوئی!‘‘ جستجو کی ہوئی تو یوں تکمیل ۔۔۔ زندگی موت کی خبر لائی (عبدالملک سوز)۔برسات کے موسم میں فیصلہ ساز ہر سال باقاعدگی سے خبردار کرتے ہیں اور ڈینگی و کانگو وائرس کا چل چلن دیکھیں کہ یہ بھی باقاعدگی سے حملہ آور ہوتے ہیں گویا دونوں کا مزاج اور شکار ایک ہے اور حد ہے کہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ مستقل مزاج بھی ہیں! دوسری طرف متاثرہ فریق ہم عوام ہیں‘ جنہوں نے ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی خود کو قدرت کے حوالے یعنی تقدیر کو سونپ رکھا ہے۔ بارش کا پانی نشیبی علاقوں میں جمع ہوتا ہے کیونکہ نکاسی آب کا انتظام موجود نہیں اور نکاسی آب کا انتظام کرنا محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں۔

جنہیں ہر مرتبہ ووٹ دیا جاتا ہے ان بلدیاتی اور قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین سے کیوں نہیں پوچھا جاتا ہے کہ ترقیاتی فنڈز بنی ہوئی سڑکوں کو کھود کھود کر خرچ کرنے کی بجائے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خرچ کیوں نہیں کیا جاتا جہاں اس کی حقیقی ضرورت ہے؟ آخر ہم عوام کب تک خاموش رہنے کی وجہ سے کبھی ڈینگی تو کہیں کانگو کا شکار بنتے رہیں گے؟ رواں برس جن اضلاع میں ڈینگی و کانگو کے پھیلانے کا خطرہ ہے ان میں سرفہرست پشاور ہے جبکہ دیگر اضلاع میں کرک‘ لکی مروت اور بنوں شامل ہیں جبکہ چند ڈینگی کے مریض مانسہرہ اور ایبٹ آباد سے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایبٹ آباد کی سطح سمندر سے بلندی کی وجہ سے یہاں ڈینگی پھیلنے والے مچھر کی بڑی تعداد میں موجودگی ممکن نہیں ہوتی لیکن دیگر اضلاع سے متاثرہ مریض اپنے ساتھ وائرس لاتے ہیں جو محدود پیمانے پر سہی لیکن مقامی آبادی کو متاثر کرتا ہے۔ گذشتہ برس بھی ایسے ہی دو درجن سے واقعات رپورٹ ہوئے‘کانگو سے متاثرہ جانور کا خون اگر انسانی جسم پر لگے تو اس سے بھی وائرس صحت مند جسم میں منتقل ہو سکتا ہے‘ لہٰذا احتیاط شرط ہے۔

کانگو وائرس کا خطرہ صرف قربانی کرنے والوں ہی کو نہیں بلکہ جانوروں کی خریدوفروخت کرنے والوں کو بھی رہتا ہے کیونکہ وہ دیگر افراد کے مقابلے جانوروں سے زیادہ رابطے میں رہتے ہیں‘ زراعت پیشہ افراد جن کے پاس مال مویشی ہوتے ہیں‘ ذبح خانے میں کام کرنے والے اور سلوتری خود کو کانگو سے محفوظ رکھنے کے لئے جانوروں کے خون اور ان سے جسم مس نہ کریں۔ جانوروں کے جسم پر خاص قسم کی جوئیں ہوتی ہیں‘ جو ان کا خون چوستی ہیں۔ کم جسامت اور جانوروں کے جسم کی سیاہی مائل رنگت کے باعث اکثر نظر نہیں آتیں‘ اس لئے قربانی کے جانور خریدنے کے لئے منڈی جانے والے اپنے ساتھ ربڑ کے دستانے رکھنا نہ بھولیں۔ موزے اور ایسے جوتے استعمال کریں جن سے جسم کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہو‘ منڈی سے واپسی پر اپنے کپڑوں کو تبدیل کریں اور بالخصوص کسی بھی زخم کے نشان کو معمولی نہ سمجھیں‘ اگر جسم سے کوئی کیڑا چپکا نظر آئے تو اُسے فوراً علیحدہ کر دیں اور خود یا دوسروں کو اسے ہاتھ لگانے نہ دیں۔ ڈینگی یا کانگودونوں بیماریوں کی صورت بچاؤاوراحتیاطی تدابیر ہی واحد ایسی صورتیں ہیں‘ جن پر عمل درآمد کرکے ایک موذی مرض سے خود کو بچایا جا سکتا ہے۔ متاثر ہونے کی صورت میں اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں اسے خاطرخواہ علاج معالجہ میسر آئے گا تو خاطر جمع رکھیں کیونکہ نیا پاکستان بننے کے مراحل ابھی شروع نہیں ہوئے۔