142

دھندلی دھاندلی

حالیہ عام انتخابات بنیادی زور اس بات پر ہے کہ پولنگ سٹیشن کے اندر ووٹرز کو اپنا موبائل فون لیجانے کی اجازت نہیں تھی‘ جس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ ووٹ کی خریدوفروخت کے امکان کو ختم کیا جا سکے لیکن ذرائع ابلاغ کو کیوں اجازت نہیں دی گئی کہ وہ کیمرے کی مدد سے پولنگ جیسے یادگار اور تاریخی عمل کو محفوظ کر سکیں؟ اگر انتخابات شفاف تھے اور دھاندلی کسی کو مطلوب و مقصود نہیں تھی تو پھر تمام تر رازداری بلاوجہ اور غیرضروری طورپرشکوک پھیلانے کا باعث بنی ہے! اصولی طور پر یہ درست فیصلہ تھا کہ جہاں ووٹ پر مہر ثبت کی جاتی ہے‘ اس حصے میں کیمرے کا استعمال نہیں ہونا چاہئے لیکن 10گھنٹے پولنگ مراکز پر انتخابی امیدواروں کو فون کے استعمال کی اجازت نہ دیکر غیرضروری شکوک و شبہات پیدا کئے گئے ہیں‘انتخابات انسانوں کے لئے تھے‘ انسانوں نے ووٹ ڈال کر انسانوں کو منتخب کرنا تھا لیکن انتخابی عمل کے نگرانوں نے فریقین کو انسان نہیں سمجھا‘کیا کسی کو پریشانی‘ جسمانی عارضہ یا دیگر مسئلے مسائل نہیں ہو سکتے کہ اسے فون کی ضرورت پڑتی؟حالیہ عام انتخابات پر دھاندلی کی دھند نہیں چھٹ رہی۔

رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم کا فارم پینتالیس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن پھر بھی اسکی فراہمی کو روکا گیا‘ امیدواروں کو تگ و دو کے بعد فارم پینتالیس ملا جبکہ یہ پولنگ مراکز پر گنتی کا عمل مکمل ہونے کے ساتھ ہی مل جانا چاہئے تھا‘سچ تو یہ ہے کہ عام انتخابات کا معاملہ جتنے منہ اتنی باتوں‘ جیسا ہوگیا ہے‘ معرکے میں کامیاب ہونے والی جماعتوں سے اگر انتخابات سے متعلق پوچھا جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ ملکی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات ہیں لیکن جب یہی سوال ہارنے والی جماعتوں سے پوچھا جائے تو بالکل برعکس جواب دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ان انتخابات میں دھاندلی نہیں بلکہ ’دھاندلا‘ہوا ہے لیکن ان دونوں فریقین کے علاوہ ایک اور طبقہ ایسا بھی ہے جس نے براہ راست ان انتخابات پر نظر رکھی اور صحافیانہ ذمہ داریاں ادا کرتے رہے‘اس سلسلے میں کم سے کم صوبائی دارالحکومتوں کے پریس کلبوں میں بیک وقت مباحثوں کا انعقاد ہونا چاہئے تاکہ صحافی ایک دوسرے سے انتخابات کے بارے اپنے اپنے مشاہدات کا تبادلہ کرسکیں‘ انتخابات میں دھاندلی کے امکان کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ صحافیوں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے اجازت نامے جاری کئے گئے تھے لیکن اسکے باوجود بھی انہیں پولنگ سٹیشنوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی اور رپورٹنگ کا وہ عمل جو ماضی میں مشکل ہوا کرتا تھا ۔

اس مرتبہ ناممکن بنا دیا گیا۔ صحافیوں کے لئے سوائے سڑکوں پر دن گزارنے اور یہاں وہاں سے ملنے والی معلومات پر اکتفا کرنے کے سوا کوئی دوسری صورت نہیں تھی‘ دراصل پچیس جولائی کے انتخابات میں ووٹوں کو نہیں بلکہ نتائج کو مرتب کیا گیا اور آر ٹی ایس کی خرابی کے جواز پر نتائج روک دیئے گئے جبکہ اِس کا تعلق قطعی طور پر نتائج سے نہیں تھا۔ انتخابی عمل میں آر ٹی ایس کو پہلی مرتبہ نہیں بلکہ 2013ء سے استعمال کیا جا رہا تھا اور اس کا نتائج کی تیاری سے قطعی کوئی تعلق نہیں بلکہ آرٹی ایس ایک کمیونیکیشن سسٹم ہے جسکے ذریعے پریذائیڈنگ افسر کو ریٹرننگ افسرسے۔ ریٹرننگ افسر کوڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر سے اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کو الیکشن کمیشن سے رابطے میں رکھنا ہوتا تھا‘ماضی میں سیاسی جماعتیں بھی انتخابات کے نتائج کو مرتب کرنے پر خصوصی توجہ دیتی تھیں لیکن چونکہ اس مرتبہ بلندبانگ دعوے کئے گئے کہ نتائج فوری اور الیکٹرانیکل طریقوں سے جمع کئے جائیں گے جن کا آن کی آن اعلان کیا جائے گا تو سیاسی جماعتوں اور میڈیا ہاؤسزنے الیکشن کمیشن کا اعتبار کر لیا‘جو سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی‘الیکشن کمیشن یہ کہہ رہا ہے کہ فارم 45 اس لئے نہیں دیا جا سکا کیونکہ آر ٹی ایس نے عین وقت پر کام کرنا چھوڑ دیا لیکن کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ مذکورہ فارم کو ہاتھ سے لکھ کر پولنگ مراکز پر دینا ہوتا ہے اور اسکا کسی بھی دوسرے سسٹم سے تعلق نہیں ہوتا‘سوال یہ ہونا چاہئے کہ بار ہا جانچ پڑتال کے باوجود بھی آر ٹی ایس کیوں ناکام ہوا یا اسے ناکام کیاگیا؟

کیا سافٹ وئر کے استعمال کی تربیت ٹھیک طریقے سے نہیں دی گئی تھی جو کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی۔ دیکھنے میں یہ آیا کہ پریذائیڈنگ اہلکاروں کے پاس یا تو اینڈرائیڈ فونز نہیں تھے یا پھر وہ اسے استعمال کرنے سے متعلق ہدایات وقتی دباؤ اور تمام دن کی تھکن کے باعث بھول چکے تھے! کیا بعض پولنگ سٹیشنوں پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے کام کر رہے تھے اور ان سے حاصل ہونیوالی فوٹیج کیا الیکشن کمیشن ویب سائٹ پر جاری کی جائیگی؟ دوبارہ گنتی کے عمل میں سی سی ٹی وی کی فوٹیج کو شامل کیوں نہیں کیا جاتا‘ جن میں ووٹ ڈالنے والے ہر ایک شخص کی شناخت اور گنتی بھی ممکن ہے صحافیوں کے نکتۂ نظر سے حالیہ عام انتخابات بدترین بدنظمی کا مجموعہ تھے‘ الیکشن کمیشن کی نااہلی کھل کر سامنے آئی جس کے پردہ پوشی کیلئے مختلف حیلے بہانے تراشے جا رہے ہیں لیکن مطالبات بس یہی ہونے چاہئیں کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی کا حساب کتاب کیا جائے اور سزا و جزاکا نظام متعارف ہونا چاہئے‘انتخابی عمل کو سبوتاژکرنے اور آزاد و شفاف انتخابات کو مشکوک بنانے والوں سے الیکشن کمیشن کو پاک کئے بغیر آئندہ ضمنی‘ بلدیاتی اور قبائلی علاقوں سے صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے انتخابات خاطرخواہ کامیابی سے مکمل نہیں کئے جا سکیں گے۔