11574

ملازمین کو پنشن کی ادائیگی 5سال کیلئے ناقابل عمل 

پشاور۔ملک بھر میں سر کاری ملازمین کی پنشن کی ادائیگی کو آئندہ پانچ کے لئے ناقابل عمل قرار دیا گیا ہے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق ریٹائر ملازمین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث پنشن کی ادائیگی میں بجٹ میں ناقابل بر داشت حد تک اضافہ ہو رہا ہے ٗرپورٹ کے مطابق 2024 تک ریٹائر ملازمین کی موجود تعداد میں تین لاکھ کا اضافہ ہو گا ٗواضح رہے کہ خیبر پختونخوا کا پنشن بجٹ 60 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔

وفاقی حکو مت کو تجویز پیش کی گئی کہ ریٹائر ملازمین کو ماہانہ پنشن کی ادائیگی کی بجائے سالانہ گرانٹ یا دس سال کی پنشن لم سم دے کر ملازمت سے فارغ کیا جائے ٗ ہاؤس سبسڈی ٗ ہاؤ س ریکوزیشن اور سر کاری کالونیوں پر غیر مستحق ملازمین کا قبضہ اور وراثت کی بنیاد پر سر کاری گھروں کی الاٹمنٹ کو بھی ختم کر نے کی تجویز ہے سر کاری کالونیاں اور گھر وں کو فروخت کیا جائے گا اور دس سال تک ملازمت کر نے والے ملازمین کو سر کاری پلاٹ اور گھر بنانے کے لئے گریڈ کے مطابق کچھ رقم دی جائے گی ۔

جس کے بعد ہاؤس رینٹ وغیر بند کر دیا جا ئے گا ٗوفاقی حکو مت کو پیش کی گئی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ دنیاکے بیشتر ممالک میں سر کاری ملازمین کو رہائشی سہولتیں فراہم کر نے کے لئے یہ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے ٗجن میں نیپال ٗ انڈونیشیا ٗتر کی اور سری لنکا بھی شامل ہیں ٗبتا یا گیا ہے کہ موجود وفاقی مشیر برائے اقتصادی امور اور سابق گور نر سٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے 2008 ء میں بطور چےئر مین پے اینڈ پنشن کمیشن اپنی رپورٹ میں پنشن سٹرکچر اور سروس سٹرکچر برائے آل گورنمنٹ ایمپلائز سے متعلق جو سفارشات پیش کی تھیں ان میں پر کوئی عملدر آمد نہیں ہوا اور یہ معاملہ بھی ہنوز التواء کا شکار ہے