207

دم توڑتی ہوئی آوازوں کا آن لائن عجائب گھر

جرمنی: کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ بچپن سے جڑی کتنی آوازیں ہیں جو اب ختم ہوچکی ہیں، ان میں سرفہرست ڈائل والے فون شامل ہیں جس کا ڈائل گھمانے سے گھررر گھررر کی آواز آتی تھیں۔ اسی طرح اب ٹائپ رائٹر کی کھٹ کھٹ بھی سننے کو نہیں ملتی۔ ان آوازوں کو محفوظ کرنے کےلیے ایک آن لائن میوزیم بنایا گیا ہے جہاں قدیم آلات اور ایجادات کی آوازوں کی فائلیں رکھی گئی ہیں۔

اس منصوبے کو ’آواز کا تحفظ‘ (کنزرو دی ساؤنڈ) کا نام دیا گیا ہے جسے فاسٹ کمپنی نے تیار کیا ہے۔ ان میں ہاتھ سے گھما کر گاڑی کا شیشہ بند کرنے والے ہینڈل کی آواز بھی رکھی گئی ہے جس کا استعمال اگرچہ پاکستان میں تو نہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اب بالکل ختم ہوچکا ہے۔

میوزیم انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ آوازیں عین انہی جان داروں کی طرح ہیں جنہیں اپنی بقا کا خطرہ لاحق ہے۔ ان میں پرانے آلات، جوسر، پرانے کاغذی نقشوں، گراموفون، آڈیو کیسٹ، ہیئر ڈرائر اور دیگر اشیا کی آوازیں شامل ہیں۔ اسی بنا پر آوازوں کو اینڈیجرڈ ساؤنڈز کا نام دیا گیا ہے۔

جرمنی کے دو ماہرین، ڈینیئل چن اور جین ڈرکسن نے مشترکہ طور پر یہ ویب سائٹ تیار کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ آج کے بوڑھے افراد پرانے دور کو یاد کرتے ہیں تو وہ ان آوازوں کا حوالہ بھی دیتے ہیں جو اب متروک ہوچکی ہیں۔ اس میں سلائیڈ پروجیکٹر سے لے کر سونی واک مین کی آواز بھی شامل ہیں۔

ویب سائٹ پر یورپ میں ایک زمانے میں استعمال ہونے والے کینن اور پولرائیڈ کیمروں کی کھٹ کھٹ بھی سنی جاسکتی ہے۔ تمام آوازیں  اس ویب سائٹ  پرسنی جاسکتی ہیں جہاں 1900 سے لے کر 2000 تک کے ان گنت آلات کی صدائیں موجود ہیں۔