170

مضبوط جمہوریت‘ ترجیحات کا تعین

پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی نے وطن عزیز کے 13 ویں صدر مملکت کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے‘ اس کیساتھ ہی حکومت سازی کا اہم مرحلہ بھی مکمل ہوگیا ہے‘ عارف علوی اپنے آئینی کردار کی ادائیگی کیلئے پرعزم ہیں اور یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنا رول پوری تندہی سے نبھائیں گے‘آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہناہے کہ ملک میں جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے‘ صدر مملکت کی تقریب حلف برداری کے موقع پر سرکاری میڈیا سے گفتگو میں آرمی چیف کا کہنا ہے کہ نئے سربراہ مملکت کی حلف برداری جمہوریت کے تسلسل کے لئے اہم ہے ان کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوریت مزید نمو پائے گی‘ وطن عزیز میں انتخابی نتائج پر اعتراضات ماضی میں بھی ہوئے اور اب بھی ہو رہے ہیں جن سے متعلق فیصلے کیلئے ہر سطح پر فورمز موجود ہیں تاہم قابل اطمینان یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے حکومتیں اپنی مدت مکمل کریں اور انتخابی عمل کے ذریعے نئی قیادت ملک کا انتظام و انصرام سنبھالے‘ جمہوری عمل کی مضبوطی کسی بھی ریاست کیلئے قابل اطمینان ہی ہوتی ہے تاہم اس عمل میں عوام کی توقعات کا احساس و ادراک بھی ضروری ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کی معیشت نئی قیادت کو پریشان کن حالت میں ملی ہے‘کھربوں روپے کے قرضے اتارنے کیلئے بھی قرضوں کی ضرورت ہے جبکہ پانی کی قلت کیساتھ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کافروغ بھی چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے امریکہ کی جانب سے کولیشن فنڈ کی بندش ریکارڈ پر ہے‘برآمدات نہ ہونے سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے‘ اس سب کیساتھ عام شہری ریلیف کا منتظر ہے‘اس حقیقت سے انکار نہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بچنے کی صورت میں بعض کڑوے فیصلے کرنا ہوں گے تاہم عوامی ریلیف کیلئے کچھ ایسے اقدامات بھی ضرور اٹھائے جاسکتے ہیں کہ جن کیلئے کسی بڑے بجٹ کی ضرورت نہیں‘گرانی کی روک تھام کیلئے پرانا مجسٹریسی نظام بحال ہوسکتاہے‘مارکیٹ پر نظر رکھنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈر محکموں کے وسائل اور افرادی قوت یکجا کی جاسکتی ہے‘ میونسپل سروسز کیلئے بڑے پیمانے پر صفائی مہم شروع کی جاسکتی ہے‘سیوریج سسٹم کلیئر کرنے کیلئے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے‘صرف کڑی نگرانی کا انتظام کرکے تعلیم‘ صحت اور خدمات کے دوسرے شعبوں میں شہریوں کو سہولیات مہیا کی جاسکتی ہیں‘اس طرح کے اقدامات کیلئے مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار قیادت کو مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے بصورت دیگر طویل المدتی پالیسیوں کے نتائج کا انتظار کرتے کرتے لوگوں میں مایوسی پھیلتی جائے گی۔

بوسیدہ و خستہ حال سکول؟

حکومت کی جانب سے بوسیدہ و خستہ حال نجی سکول بند کرنے کا حکم قابل اطمینان ہے تاہم اس کا فائدہ اس صورت نظر آئے گا جب عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں نجی سکولوں کی عمارات کیساتھ یہاں موجود عملے کی تعلیمی قابلیت‘تنخواہیں اور تعلیم کا معیار دیکھنا بھی ضروری ہے‘ یہ بات صرف پرائیویٹ سکولوں تک محدود نہیں رہنی چاہئے‘ سرکاری سکولوں کی عمارات اور معیار چیک کرنا بھی ضروری ہے‘تعلیمی اداروں کے ساتھ دیگر سرکاری اور نجی عمارتوں کی دیکھ بھال اور بلڈنگ کوڈپر عملدرآمد بھی ناگزیر ہے‘صحت اور تعلیم کے سرکاری اداروں میں رکھے کاٹھ کباڑ کے ڈھیروں کو ٹھکانے لگانے کیلئے بھی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔