82

قبائلی اضلاع کا المیہ

بظاہر صوبہ کے تمام قبائلی علاقہ جات خیبرپختونخوامیں ضم ہوچکے ہیں ا س سلسلہ میں اٹھائیس مئی کو صوبائی اسمبلی نے ترمیمی بل کی منظوری دی اور اگلے روزہی صدرمملکت نے بل پردستخط کرکے قبائلی اضلاع کو قومی دھارے میں شامل کرنے میں دیر نہیں ہونے دی یو ں تمام قبائلی ایجنسیاں اب قبائلی اضلاع بن گئیں یوں محسو س ہورہاتھاکہ قبائلی باشندوں پرمسلط طویل تاریک رات اب ختم ہونے والی ہے مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا شاید اس کی بڑی وجہ اسی دوران الیکشن کاانعقاد اورحکومتوں کی تبدیلی بھی تھی انضمام کے محض ایک ہفتہ بعد ہی نگران حکمران آگئے جوکوئی طویل المدت پالیسی لانے سے قانوناً قاصر تھے اورپھر گذشتہ ماہ نئی صوبائی حکومت نے اقتدارسنبھال لیاہے جس کے سامنے انضمام سے ہٹ کربھی بہت طویل ایجنڈا موجود ہے یوں فی الوقت قبائلی باشندے انضمام کے حقیقی ثمرات سے محروم چلے آرہے ہیں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ قریباً تمام قبائلی اضلاع میں ضلعی انتظامیہ وہی چلی آرہی ہے جو انضمام سے قبل تھی چنانچہ پولیٹیکل ایجنٹ اب ڈپٹی کمشنر تو بن چکے ہیں مگر ان کی ذہنیت تبدیل نہیں ہوئی تیس مئی سے قبل وہ پی اے کی حیثیت سے لوگوں کی قسمتوں کے مالک تھے وہ ان علاقوں کے حقیقی شہنشاہ تھے اسی لیے تو رعب ودبدبہ برقرار رکھاکرتے تھے ۔

مگرتیس مئی کو راتوں رات سب کچھ بدل گیااور پھرچند د ن بعدان کو پی اے سے ڈی سی بنادیاگیا یہ تبدیلی ان سے ہضم نہیں ہوپارہی اسی لیے تو بہت سے حلقوں نے انہی دنوں یہ مطالبہ کیاتھاکہ اب تمام قبائلی اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو فی الفور تبدیل کیاجائے کیونکہ ان میں سے اکثر نے آخر ی لمحوں بھی انضمام کی مخالفت کی تھی اور اس مقصد کیلئے انضمام مخالف حلقوں کو بھرپور حمایت مہیاکی تھی چنانچہ جب تک یہ لوگ تعینات ہیں ان سے خیر کی توقع رکھنی مشکل ہے اور بہت سے مقامات پر ا سکے عملی مظاہر ے سامنے آچکے ہیں کہ کس طرح یہ افسران آج بھی پرانے اختیارات کاناجائز استعمال کررہے ہیں ایک اور بدقسمتی یہ ہوئی کہ ساڑھے تین ماہ سے زائدکاعرصہ گذرنے کے بعد بھی نہ تو کوئی صوبائی وزیر ان علاقوں کاباضابطہ دورہ کرسکاہے نہ ہی کوئی وزیراعلیٰ اب ان علاقوں کی طرف جانے کیلئے وقت نکال سکاہے اور ان کی تیسری بدقسمتی اب یہ ہوئی کہ انضمام کاعمل تیز کرنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان نے جو خصوصی کمیٹی بنائی ہے اس میں ایسے لوگوں کو بھی لیا گیاہے جو ماضی قریب میں بھی فاٹا انضمام کی کھل کرمخالفت کرتے رہے ہیں۔

ان میں سے ایک رکن تو ابھی چند دن پہلے ہی پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں جس کے بعد اس کمیٹی کے قیام میں روا رکھی جانے والی حددرجہ کی غیر سنجیدگی کااندازہ لگانامشکل نہیں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جو لوگ انضمام کے بل کی منظوری تک کے موقع پر اس عمل کی مخالفت کرتے رہے ہیں اب انضمام کاعمل تیز کرنے کیلئے کیونکر اپنا کردار ادا کرسکیں گے گویا قبائلی اضلاع کے لوگوں کاالمیہ ابھی ختم ہوتا نظر نہیں آرہاآج صوبہ کیساتھ ساتھ مرکز میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے پی ٹی آئی فاٹاانضما م کی سب سے بڑی حامی جماعتوں میں شامل رہی ہے اور اس سلسلہ میں اس نے قومی وصوبائی اسمبلی میں شاندار کردار اداکیاہے اب جبکہ تمام اختیارات اس کے ہاتھ میں آچکے ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ انضما م مخالف عناصر کو ہر طرح سے اس عمل سے دور کھناچاہئے قبائلی اضلاع کے انضمام کے عمل کو مکمل کرنے کیلئے وہاں انفراسٹرکچر اور اداروں کے قیام اور موجودہ قبائلی انتظامیہ سے وہاں کے باشندوں کاپیچھا چھڑانے کیلئے ہنگامی بنیاد وں پر اقداما ت کو یقینی بناناہوگا موجودہ گورنر شاہ فرمان فاٹا انضمام کے بہت بڑے وکیل رہے ہیں اسلئے ان کو بھی اس معاملہ میں فوری سرگرم ہوناچاہئے فاٹا انضمام کاعمل مکمل کرنے میں جتنی بھی تاخیر ہوتی جا رہی ہے انضمام مخالفین کے حوصلے بڑھتے جارہے ہیں اور مستقبل میں انکی طرف سے مشکلات پیدا کئے جانے کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا اسلئے اب ضروری ہے کہ صوبائی اوروفاقی حکومتیں ان لوگوں کو سامنے لائیں جنہوں نے فاٹاانضمام کے عمل میں بنیاد ی کردار ادا کیاتھا فاٹاکے سابق پارلیمانی لیڈر شاہ جی گل آفرید ی کو ہرصورت وزیر اعظم کی بنائی گئی کمیٹی میں نمائندگی دی جانی چاہئے کیونکہ کمیٹی کے مقاصد سیاسی نہیں بلکہ انتظامی ہیں اس لیے شاہ جی گل اوران جیسے دیگر رہنماؤں کو محض سیاسی بنیادوں پر نظر انداز نہیں کیاجاناچاہئے۔