87

ایک زریں باب بند ہوا

پاکستان کی شریف فیملی ایک سال پہلے تک سب سے خوشحال اور مطمئن فیملی تصور کی جاتی تھی مگر آج ایسا لگتا ہے کہ ملک کی دکھی ترین فیملی ہے‘اگر نوازشریف‘مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی قید اور مقدمات کوایک سیاسی کھیل سمجھا جائے تو پھر بھی آج جب فیملی کی بڑی بہو اور خاندان کی محترم خاتون بیگم کلثوم نواز کی میت لندن کے ہسپتال میں پڑی ہے اور میاں نوازشریف اپنی بیٹی اور داماد کیساتھ پیرول پر رہا ہو کر لاہور میں آبائی بستی‘ جاتی عمرہ آئے ہیں تو خاندان حزن وملال کی تصویر نظرآتا ہے‘ بیرون ملک کسی بڑے کی موت کا شریف خاندان کو یہ دوسرا صدمہ ہے اس سے پہلے میاں محمد شریف جدہ میں جلاوطنی کے دوران فوت ہوئے تھے پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی حکومت نے شریف برادران کو پیشکش کی تھی کہ وہ والدکی میت کیساتھ پاکستان آسکتے ہیں مگر انہوں نے انکار کیا تھا اب دوسری بار بیگم کلثوم کے بیٹے لندن میں تو ساتھ ہیں مگر وہ ماں کی میت کیساتھ پاکستان نہیں آئینگے نہ ہی والد اور بہن کے گلے لگ کر رو سکیں گے بہرحال یہ دنیا ہے جہاں ہر کوئی کسی نہ کسی دکھ یا مجبوری کا شکار ہے جہاں تک بیگم کلثوم نواز کا تعلق ہے تو وہ ایک وفادار‘ باہمت اور بہادر خاتون تھیں رستم زماں گاماں پہلوان کی نواسی ہونے کے ناطے مقابلہ کرنے کی ہمت خون میں شامل تھی‘ ایک خوشحال صنعت کار خاندان میں شادی ہوئی تو سوچا بھی نہ ہوگا کہ دنیاوی عزت و دولت میں کتنا اضافہ ہوگا ۔

اور پھر کیا کیا صدمے جھیلنے پڑینگے‘1990ء کی دہائی میں جب میاں نوازشریف اقتدار کی راہداریوں میں سرگرم تھے بیگم کلثوم ایک گھریلو خاتون اور اپنے خاوندکی خیرخواہی سے زیادہ سرگرم نہیں تھیں مگر 1999ء کے آخر میں جب جنرل پرویز مشرف نے نوازشریف کی حکومت ختم کرکے قیدکرلیا پارٹی کی سینئر قیادت فوجی حکومت سے ڈر کر چھپ گئی تو بیگم کلثوم نواز خود میدان میں آئیں انہوں نے نہ صرف سیاسی میدان میں پارٹی کو سنبھالا بلکہ سفارتی سطح پر رابطوں سے ایک سال کے اندر ہی اپنے خاوند اور خاندان کی رہائی کیلئے انتظام کرلیا اس طرح تمام شریف خاندان10سال کیلئے سعودی عرب منتقل ہوگیا بعد میں2007ء میں نوازشریف واپس آئے تو سیاست دوبارہ شروع کی اور ایک بار پھر اقتدار کا عروج دیکھا مگر حسب معمول جب اقتدار کے عروج میں نوازشریف کی حکومت کو مشکلات پیدا ہوئیں پانامہ لیکس سکینڈل سامنے آیا اور نوازشریف کیخلاف مقدمات شروع ہوئے تو بیگم کلثوم نواز کی صحت خراب رہنے لگی انکی جگہ انکی بیٹی مریم نواز نے سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا اور والد کی جانشین کے طورپر ابھرنے لگیں جولائی 2017ء میں نوازشریف اور بچوں کیخلاف انکوائری شروع ہوئی تو دوسری طرف بیگم کلثوم نواز علاج کیلئے لندن لے جائی گئیں وہاں ہارلے سٹریٹ کلینک میں زیر علاج رہیں جہاں انکو گلے کا کینسر تشخیص ہوا شریف خاندان کو اس بات کی بھی انکوائری کروانی چاہئے کہ اپنے پاؤں پر چل کر جانے والی بیگم کلثوم کو ابتدائی سٹیج کا کینسر بتایا گیا جو کہ قابل علاج سطح ہوتی ہے اور پاکستان میں بھی اس کینسر کے مریض علاج سے صحتیاب ہو جاتے ہیں مگر ہارلے سٹریٹ کلینک میں بیگم کلثوم نواز کی صحت دن بہ دن خراب سے خراب تر ہوتی رہی اور ایک سال میں وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔

حالانکہ لندن میں بہتر طبی سہولیات کے باعث ان کی جلد صحت یابی کی امید تھی اسی امید پر ان کو لاہور کے ایک ضمنی انتخاب میں امیدوار نامزد کیاگیا تھا وہ کامیاب بھی ہوگئی تھیں مگر حلف اٹھانے کیلئے واپس نہ آسکیں‘ کسی بھی بیماری میں مسلسل زیر علاج رہنے کے باوجود اتنی جلدی موت تک نوبت پہنچنا ایک قابل تشویش بات ہے‘ جب تک بیگم صاحبہ بیمار تھیں ان کی بیماری پر بھی شکوک کا اظہار کیا جاتارہا اور منفی تبصرے ہوتے رہے لیکن انکی موت نے یہ تصدیق تو کردی کہ وہ پیچیدہ بیماری میں مبتلا تھیں ‘جہاں تک انکامیاں نوازشریف کیساتھ شریک حیات کی حیثیت سے زندگی کی آدھی صدی گزارنے کا تعلق ہے تویہ مثالی میاں بیوی قرار دیئے جاسکتے ہیں نوازشریف نے بھی اپنے دولت مند اور صاحب ثروت ہونے کے باوجود کبھی دوسری شادی کا نہ سوچا اور نہ ہی کوئی سنجیدہ سکینڈل سامنے آیا بیگم کلثوم ایک مشرقی بیوی اور بہو کی حیثیت سے پورے خاندان میں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں دیوروں اور انکے بچوں سے بھی بڑی شفقت سے پیش آئیں ہمارے ایک دوست جو بیگم کلثوم نواز کے زیادہ قریب رہے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ بیگم کلثوم نہایت سادہ اور روایتی پاکستانی بیوی کی طرح ہی تھیں جب میاں نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان سیاسی اختلافات زوروں پر تھے بیگم کلثوم کو یہ شک رہتا کہ بے نظیر انکے خاوند پر کوئی جادونہ کروادے اسلئے کسی اچھے عامل کی تلاش میں رہتی تھیں یہ انکے اپنے شوہر سے خلوص کی حد ہے بہرحال وہ جب تک زندہ رہیں میاں نوازشریف کیلئے طاقت اور حوصلے کا موجب رہیں اور اب وہ اس دنیا کے دکھوں سے نجات پاگئی ہیں تو بھی نوازشریف کو سیاسی سہارا دے گئی ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور خاندان کو صبر عطا کرے۔