166

طالبان کی کاروائیاں

افغانستان میں امن وامان کی صورتحال پچھلے دنوں اسوقت مزید خراب ہونا شروع ہوئی جب طالبان نے ایک اہم جنو ب مشر قی شہرغزنی پر ہلا بولتے ہوئے قبضہ کرلیا تھاجس کے ذریعے طالبان دنیا کو ایک بار پھر یہ باور کر انے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ طا لبان آج بھی نہ صر ف ایک زندہ حقیقت ہیں بلکہ وہ جب اور جہاں چاہتے ہیں اپنے اہداف کو نشا نہ بنا سکتے ہیں واضح رہے کہ دور دراز کے علاقوں کے علاوہ دارالحکومت کابل کے درودیوار بھی اس با ت کے شاہد ہیں کہ طالبان پچھلے کچھ عر صے سے کا بل کے جس بھی حساس اور ریڈزون قرار پا نے والے علاقے کو نشانہ بنا نا چاہتے ہیں وہ بلا روک ٹو ک ان علاقوں کو نشانہ بنا کر امر یکہ اور افغان حکومت کو اپنے توانا وجود کا احساس دلاتے رہتے ہیں‘ وزارت دفاع‘ داخلہ‘ مختلف سفا رتخا نو ں اور کا بل ائر پو رٹ کو با ربار نشانہ بنا ئے جانے کے علاوہ گزشتہ دنوں قصر صدارت کو طا لبان کی جانب سے اسو قت راکٹ کا نشا نہ بنایاگیا جب افغان صدر ڈاکٹر اشر ف غنی یو م استقلال کے سلسلے میں قو م سے میڈیا پر براہ راست خطا ب کر رہے تھے۔ گو اس راکٹ حملے سے اشر ف غنی یا انکے عملے کو کو ئی نقصان نہیں پہنچا لیکن قصرصدارت میں منعقد ہو نے والی ایک قو می تقریب پر دن کی روشنی میں طا لبان کا راکٹ حملہ افغا نستان کی سکیو رٹی کے حو الے سے تما م متعلقہ اداروں اور سب سے بڑ ھ کر امر یکی دعوؤں کی قلعی کھو لنے کیلئے کا فی ہے غزنی پر طالبان کے حالیہ قبضے کے با رے میں کہا جا تا ہے کہ اگر اس قبضے کو چھڑانے کیلئے امر یکی فضا ئیہ حر کت میں نہ آتی تو یہ قبضہ چھڑانا افغان سکیو رٹی فورسز کے بس کا روگ نہیں تھا۔

یاد رہے کہ طا لبان اس سے پہلے قندوز اور لشکر گاہ پر بھی اسی نو عیت کے حملے کر کے وقتی طور پر ان شہروں کا قبضہ سنبھالتے رہے ہیں اور اس نوع کے واقعا ت کے تناظر ہی میں کہا جا تا ہے کہ طا لبان کا عملاًملک کے پچا س فیصد رقبے پر قبضہ ہے سوال یہ ہے کہ امر یکہ اگر اپنے 48 اتحادیوں کی ڈیڑھ لاکھ افواج کیسا تھ پچھلے سترہ سال میں طا لبان کا خا تمہ نہیں کر سکا تو اب وہ اپنی دس پندرہ ہزار فو ج کیسا تھ ایسی حالت میں طالبان کو کیونکرشکست دے سکے گا جب ایک جانب اسکے اکثر اتحادی ایک ایک کر کے افغان دلدل سے اپنی فو جیں نکا ل چکے ہیں اور دوسری جانب طا لبان کی بڑھتی ہو ئی قو ت کو امر یکہ کی دو حر یف قو توں روس اور ایران کی طر ف سے امداد ملنے کی قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں ‘دوسری جانب پچھلے کچھ عر صے سے چین اور روس افغان قضیئے کے حل کیلئے امر یکی اعتراضا ت کے با وجو د بین الاقوامی سطح پر جس طر ح متحر ک ہو ئے ہیں اس سے بھی یہ اندازہ لگا نا مشکل نہیں ہے کہ طالبان بین الاقوامی سطح پر نہ صر ف اپنا وجو د منو انے میں کا میا ب رہے ہیں بلکہ وہ اپنی کا میا ب ڈپلومیسی کے ذریعے خطے کے تین اہم ممالک روس‘ چین اور ایران کیسا تھ اپنے سفارتی اور سیاسی تعلقات بھی بہتر بنا چکے ہیں جسکا واضح ثبو ت چین کی جا نب سے افغان امن عمل کیلئے چار فریقی اجلاسوں کے تسلسل سے انعقا د کے علاوہ روس کی طر ف سے چو دہ مما لک پر مشتمل ورکنگ گروپ کا قیام اور اس گروپ کے ماسکو میں منعقد ہونے والے اجلاس ہیں ۔

واضح رہے کہ اس ورکنگ گروپ کا ایک اہم اجلاس جو 4 ستمبرکو ما سکو میں منعقد ہو نا تھا گز شتہ روز افغا ن صدر اشر ف غنی کی درخو است پر ملتوی کر دیا گیا ہے ا س تما م تر بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ افغانستان کی صورتحال جوہر گزرتے دن کے ساتھ خراب سے خراب تر ہو تی جا رہی ہے کا تقاضا ہے کہ افغان حکو مت اور بالخصوص امر یکہ کو جتنا جلدی ہو سکے اس با ت کا ادراک کرلینا چا ہئے کہ پر امن اورمستحکم افغانستان کا خو اب تب ہی شر مندہ تعبیر ہو سکتاہے جب وہ طالبان کو ایک ٹھو س برسرزمین حقیقت سمجھتے ہو ئے انکے سا تھ نہ صرف برابری کی بنیا د پر مذاکرات کی میز بچھائیں گے بلکہ اس ہمہ گیر عمل میں روس‘ چین‘ ایران اور پاکستان سمیت وسط ایشیاء کے ان ممالک کو بھی برابرکی نما ئندگی دینگے جن کا اپنا امن اور استحکام بھی افغانستان کے امن اور استحکام سے وابستہ ہے لہٰذا ایسی کسی صو رت کے بغیر افغان امن کے حو الے سے اٹھا یا جانیوالا کو ئی بھی قدم ناپا ئیدار اور غیر فطری تصور ہو گا۔