122

تحفظ خوراک اور غذائیت

اقوامِ متحدہ کی تحفظ خوراک اورغذائیت کی رپورٹ برائے سال 2018ء کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے دنیا بھر میں خوراک سے محروم افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو سال 2017ء میں 8کروڑ 20لاکھ تھی۔تشویشناک بات یہ ہے کہ صرف غذا ہی کم نہیں بلکہ غذائیت کی کمی جیسا مسئلہ بھی درپیش ہے اور بچپن کی متحرک زندگی کے بعد نوجوانوں میں موٹاپے کے حوالے سے قابل ذکر اقدامات نہیں کئے جا رہے جسکی وجہ سے عالمی سطح پر لاکھوں لوگوں کی صحت کو خطرات کا سامنا ہے! صحت مند خوراک کیساتھ صحت مند زندگی کے بارے میں بھی عوام کا شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے‘تعلیمی اداروں میں بچوں کو دی جانیوالی غیرصحت مند خوراک پر پابندی تو عائد کر دی گئی ہے لیکن اس پابندی پر عملدرآمد دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ عام انتخابات کے مراحل مکمل ہوتے چلے جا رہے ہیں جن میں فتحیاب سیاستدان اور ان سے وابستہ دیگر بڑے نام ملک کو معاشی استحکام کی جانب لے جانے کے خواہشمند ہیں۔ جس سیاسی جماعت نے عام انتخابات سے قبل معاشی بہتری کو اوّلین ترجیح قرار دیا تھا اب موقع ہے کہ ٹیکس نظام‘ معاشی استحکام‘ دہشت گردی کی روک تھام اور امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کا دعویٰ پورا کرے جبکہ اسی طرح کی دیگر اہم چیلنجز بھی ہیں۔

جن میں غربت ایک اہم مسئلہ ہے جس کا ملکی معیشت سے بہت گہرا تعلق ہے‘ملک میں بڑھتی ہوئی غربت نے شدید اور ہلاکت خیز بھوک کو جنم دیا ہے‘سال 2013ء کے عام انتخابات کے موقع پر ورلڈ بینک نے پاکستان میں بچوں میں خوراک کی شدید کمی سے خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہاں بچوں اور خواتین میں اہم وٹامن کی کمی کی شرح دنیا میں بلند ترین ہے‘ عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں غذائی کمی کو عوامی صحت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ خوراک اور غذاکی کمی بچوں اور خواتین کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو متاثر کرتی ہے اور انہیں مختلف امراض لاحق ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں‘یہ خطرہ پوشیدہ ہے‘ خاموش ہے اور ذرائع ابلاغ کی نظروں سے اوجھل بھی ہے کیونکہ ان کے متاثرہ افراد غریب اور مفلوک الحال ہوتے ہیں‘ان کی آواز اوپر تک نہیں پہنچ سکتی‘ دوسری جانب قدرتی آفات‘ سیلاب اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے لاتعداد افراد بے گھر ہو رہے ہیں‘ دہشت گردی اپنی جگہ موجود ہے اور اس کا نتیجہ شدید غذائی عدم تحفظ کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔پاکستانی خواتین کی ایک تعداد شدید غذائی کمی کا شکار ہے‘ حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو خاص خوراک کی ضرورت ہوتی ہے‘جس میں فولاد ‘ پروٹین‘ آئیوڈین‘ وٹامن اے اور دیگر اشیاء شامل ہونی چاہئیں‘خصوصاً مدت حمل میں خوراک میں اہم اجزا کی کمی سے بچے میں نقائص ہوسکتے ہیں نومولودوں اور بچوں میں خوراک و غذائیت کی اہمیت کو کسی بھی طرح نظرانداز نہیں کیا جاسکتا‘ پاکستان میں صحت کے بہت سے مسائل کا براہ راست تعلق والدہ اور نومولود بچے کی خوراک سے ہے‘۔

جب ایک ماں بچے کو دودھ پلانا روک دیتی ہے تو بچہ بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے‘غربت زدہ طبقات میں خوراک کی کمی‘ صحت کی ناکافی سہولیات اور نامناسب خاندانی منصوبہ بندی کی وجہ سے پاکستان اقوامِ متحدہ کے تحت وضع کردہ ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز کو حاصل نہیں کر پایا‘ جنہیں اب پائیدار ترقی کے اہداف کہا جاتا ہے! غذائی کمی ہم میں سے ہر ایک کو متاثر کر رہی ہے‘ اسکی شدت میں مبتلا بچے الگ سے نظر آتے ہیں‘ وہ سست‘ کم سرگرم‘ افسردہ‘ کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی نشوونما پر فرق پڑتا ہے۔ ان کے پٹھے اور عضلات بھی کمزور ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر پاکستان کی ساٹھ فیصد خواتین اور بچوں کو ناکافی خوراک کا سامنا ہے لیکن مرد اس کا شکار نہیں کیا خوراک کی تقسیم میں یہ صنفی بنیاد پر برتی گئی نا انصافی تو نہیں؟ اگر خوراک کی کمی مسلسل رہے تو مسوڑھے سوج جاتے ہیں اور دانت گرنے لگتے ہیں‘ اعضاء متاثر ہوتے ہیں اور دل کے امراض بھی جنم لیتے ہیں۔ خصوصاً ابتدائی عمر میں خوراک کی کمی سے دماغی بڑھوتری نہیں ہوپاتی اور بچے کی ذہانت بھی کم ہوسکتی ہے۔ پھر اسکے اثرات پوری زندگی رہتے ہیں اور بلوغت تک کا عرصہ متاثر رہتا ہے۔ کھانے کی کمی سے اور دماغی امراض کا آپس میں گہرا تعلق ہے‘دوسری جانب غذائی قلت کا شکار مریضوں کو جب وٹامنز اور دیگر ضروری غذائی اجزا دیئے گئے تو ان کی صورتحال میں بہتری دیکھی گئی‘ جس سے ظاہر ہے کہ خوراک دماغی اور نفسیاتی بہتری کیلئے کس حد تک ضروری ہے‘ پاکستان کی آبادی میں خوراک کی کمی کے خاتمے کیلئے کچھ کم خرچ اور بہتر طریقے بھی موجود ہیں‘پاکستان کے لوگ خیرات دینے میں بہت سخی ہیں‘ملک بھر میں ایک بڑی آبادی کو روزانہ مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے‘ اس کے علاوہ کچن گارڈننگ‘ ماں کو دودھ پلانے کی ترغیب اور دیگر غذائیت سے بھرپور خوراک کے امکانات اپنی جگہ موجود ہیں‘نیا پاکستان اور پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے ضروری ہے کہ چھوٹے پیمانے پر ہی سہی لیکن غذائی قلت اور غذائیت میں کمی ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔