83

امتحانات کا دباؤ

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں نمایاں پوزیشنیں حاصل نہ کرنیوالے طلبہ کی خودکشی لمحہ فکریہ ہے جسکا بنیادی محرک امتحانی نظام اصلاحات کا متقاضی ہے تاکہ بچوں پر مسلسل قائم نفسیاتی دباؤ میں کمی لائی جا سکے‘ اعلیٰ تعلیم کیلئے پروفیشنل کالجز میں داخلے کیلئے امتحانات میں اچھے نمبرز کلیدی اہمیت رکھتے ہیں تاہم امتحان میں ناکامی سے دل برداشتہ ہوکر خودکشی کے واقعات بڑھنے کے باوجود بھی فیصلہ سازوں کی اس جانب خاطر خواہ توجہ نہیں‘جو المیہ در المیہ ہے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانی نتائج آنے کے بعد کئی طلبہ اپنے اساتذہ اور والدین کی امیدوں پر پورا نہ اترنے کا دکھ چھپانے کیلئے ناامیدی کے باعث خودکشی کر چکے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں اپنے چھوٹے بڑے بچوں کو یقین دلانا ہوگا کہ انکی زندگی کسی بھی شخص کی ان سے وابستہ امیدوں سے زیادہ اہم اور ضروری ہے‘امتحانی نتائج سے دلبرداشتہ ہو خودکشی کرنے کی خبریں ذرائع ابلاغ پر شائع ہوتی رہتی ہیں اور یہ ہر گھر میں موجود ایک سنگین مسئلے کی نشاندہی کر رہی ہیں‘یاد رہے کہ ضلع کرم‘ پارا چنار کے گاؤں شین گاکھ کے رہائشی اور ایڈورڈزکالج میں بارہویں جماعت کے طالب علم ذیشان نے امتحانی نتائج سے دلبرداشتہ ہو کر پشاور کے نجی ہاسٹل میں خودکشی کرلی تھی‘وجہ یہ تھی کہ وہ انٹرمیڈیٹ کے بورڈ امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا‘ذیشان تعلیم کے ابتدائی مراحل میں ہمیشہ اول ہوتا اور خاموش طبع لڑکا تھا‘جسکی خودکشی پر صرف والدین اور عزیز واقارب ہی نہیں اساتذہ بھی غمگین ہیں۔ ذیشان کا تعلق دیہی علاقے سے تھا۔

جہاں اسکی موت کی خبر پر حیرت کا اظہار بھی ہوا کہ کوئی طالب علم امتحانی نمبروں کی وجہ سے خودکشی بھی کر سکتا ہے! مرحوم کا والد آسٹریلیا میں برسر روزگار تھا اور وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا تاہم ذیشان اپنی زندگی کے مشکل وقت میں سکون اور مشاورت حاصل نہیں کرسکا تھا‘ وہ انٹرمیڈیٹ کے نتائج میں کم نمبر حاصل کرنے پر دلبرداشتہ ہوا اور اسکے لئے یہ بات زیادہ آسان اور باوقار تھی کہ وہ اپنے والدین اور عزیز و اقارب سے دور نجی ہاسٹل کے کمرے میں نیند کی گولیاں کھاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لے‘ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کسی طالب علم نے امتحانی نتائج سے مایوس ہو کر خودکشی کی ہو بلکہ گزشتہ ماہ انٹرمیڈیٹ کے نتائج کے اعلان کے بعد ضلع چترال میں چار طلباء نے خودکشی کی تھی‘ جن میں دو لڑکیاں بھی شامل تھیں جبکہ ایک طالب علم نے امتحان میں فیل ہونے پر خود کو گولی مار کر شدید زخمی کرلیا تھا‘ والدین اور اساتذہ کی جانب سے ڈاکٹر اور انجینئر بننے کیلئے ڈالے جانیوالا شدید ذہنی دباؤ اور اچھے نتائج کیلئے سخت مقابلے کی وجہ سے طلباء میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ ایک مسئلہ ہے اور اس مسئلے کا حل اسوقت تک ممکن نہیں پر معاشرے میں کسی بھی سطح پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی جارہی۔طلبہ کم عمر اور ناتجربہ کار ہوتے ہیں‘ ان کی شخصیت مکمل نہیں ہوتی اسلئے امتحان میں کم نمبر حاصل کرنے کے ردعمل میں پیدا ہونے والا شدید ذہنی دباؤ انہیں خودکشی پر مجبور کرتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ درس و تدریس کیساتھ طلبہ کو زندگی کے حقائق اور تعلیم کے اصل مقصد سے روشناس کرنے کیلئے ماہرین تعلیم کے ذریعے مشاروتی سہولیات فراہم کی جائیں‘سکولوں اور کالجوں میں ایسے نفسیاتی مشیر مستقل بنیادوں پر تعینات کئے جائیں یا پھر اساتذہ کی نفسیاتی امور کے حوالے سے تربیت کی جائے کہ وہ نصاب کیساتھ ساتھ طلبہ میں مقابلے کی بجائے مثبت سوچ پیدا کریں نوجوانوں میں خودکشی کی کئی وجوہات اور علامات ہوتی ہیں لیکن زیرتعلیم بچوں پر امتحانات کا دباؤ ایک ایسا محرک ہے‘ جو ہر بچے پر کسی نہ کسی صورت لازمی ہوتا ہے کچھ بچے اپنی سادہ فطرت میں اِس دباؤ کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور کچھ اس دباؤ کو جھیل جاتے ہیں‘دونوں صورتوں میں ہر بچے کو امتحانات کی تیاری کیساتھ اس ذہنی دباؤ سے باہر نکالنے کے لئے محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئے‘آخر کیا وجہ ہے کہ طالب علم اضطراب میں مبتلارہتے ہیں اور امتحانی ناکامی یا مایوسی کو برداشت نہیں کر پاتے؟ اس سلسلے میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کم ہیں اور حکومت پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیم کے مواقعوں میں خاطرخواہ اضافہ نہیں کر رہی۔

کوئی طالب علم صرف والدین یا اساتذہ کی ڈانٹ کے باعث خودکشی پر آمادہ نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے کم مواقعوں کی وجہ سے ڈپریشن ہوتا ہے والدین کی جانب سے ڈانٹ یا امتحانی ناکامی پر افسوس کا جذباتی ردعمل وقتی ہوتا ہے جس میں کمی آتی ہے لیکن کسی طالب علم کیلئے اپنے ہم عصروں سے پیچھے رہ جانا زیادہ ذہنی انتشار کا باعث بنتا ہے اسلئے نفسیاتی مشاورت ضروری ہے اور نوجوانوں کی جذباتی طبیعت پر قابو پانے کیلئے ہم نصابی سرگرمیوں بشمول تفریحی سہولیات میں اضافہ ہونا چاہئے‘ہر وقت پڑھتے رہنے سے بھی بچے دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں والدین کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ امتحانات میں امتیازات حاصل کرنے کیلئے بچوں پر دباؤ نہ ڈالیں اور انہیں انجینئرنگ یا میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے مجبور نہ کریں بچوں کو اپنے فطری رجحانات اور علوم میں دلچسپیوں کی بنیاد پر آگے بڑھنے میں مدد دینا ہی کارآمد و کارگر ہوگا‘ اور اس سلسلے میں ترقی یافتہ ممالک کے تجربات بطور مسلمہ اصول موجود ہیں‘ جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔