160

قبائلی اضلاع میں بلدیاتی نظام

وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں بلدیاتی نظام کے جلد نفاذ کا عندیہ دیا ہے‘ وزیراعظم نے قبائلی اضلاع میں صحت‘ تعلیم اور خصوصاً بچیوں کے سکولوں کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں تیز کرنے اور فوری و سستے انصاف کی فراہمی کیلئے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت بھی کی ہے‘ عمران خان کی زیر صدارت گزشتہ روز منعقد ہونے والے اجلاس میں فاٹا انضمام سے جڑے انتظامی وقانونی معاملات پر پیشرفت کا جائزہ بھی لیاگیا‘ وطن عزیز میں حکومتی سطح پر ہونیوالے اہم فیصلے اور اعلانات ‘عملدرآمد کے مراحل میں غیر معمولی طوالت اور سست روی کا شکار ہوجاتے ہیں‘ دستور میں ترمیم کیساتھ مرکزاور صوبوں کے درمیان سرکاری محکموں کے انتظام کا معاملہ اس کی ایک مثال ہے‘ فاٹا اصلاحات سے متعلق کام بھی غیر معمولی تاخیر کا شکار رہا‘ جس پر ایکشن نے اب تک کی پیشرفت کو ممکن بنایا اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کسی بھی علاقے میں تعمیر وترقی کے فیصلوں میں عوامی مشاورت ‘ مسائل کے ادراک کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتی ہے‘ گلی محلے کی سطح پر عوامی مشاورت کا بہتر ذریعہ بلدیاتی نظام کا نفاذ ہے جس سے فیصلہ سازی کا عمل گراس روٹ لیول تک جاتا ہے‘ اسی نظام کیساتھ لوگوں کو بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی بہتر انداز میں ممکن ہوسکتی ہے۔

نئے اضلاع میں غربت اور بیروزگاری پر قابو پانے کیلئے صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کا فروغ ضروری ہے زراعت کیلئے سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے جبکہ سرکاری سیٹ اپ کی تکمیل میں تاخیر کسی صورت نہیں ہونی چاہئے‘ اس سب کیلئے اولین اقدام مالی وسائل مہیا کرنا ہے‘ اصلاحات کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مختلف شعبوں میں خصوصی پیکج دینے کیساتھ قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈز سے جڑے امور یکسو کرنا ضروری ہیں وزیراعظم وسائل کی فراہمی کیلئے یقین دہانی کرواتے ہیں تاہم سرکاری سیٹ اپ میں فائلوں کی گردش کے رائج طریقہ کار کو دیکھا جائے تو ہرچیز طویل وقت لے گی قبائلی اضلاع سے متعلق حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے مرکز اور خیبرپختونخوا میں سپیشل مانیٹرنگ کا انتظام ضروری ہے‘ جس میں روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت کا جائزہ لینا ہوگا‘ بصورت دیگر عام شہری اتنے بڑے حکومتی فیصلے کے نتیجے میں کوئی ریلیف نہ ملنے پر مایوسی کا شکار ہوگا‘اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم کو تمام امور یکسو کرنے کیلئے ٹائم ٹیبل دینا ہوگا۔


ایگزیکٹو مجسٹریسی نظام کی بحالی؟

حکومت کی جانب سے ملک میں ایگزیکٹو مجسٹریسی نظام کی بحالی کا عندیہ دیاجارہا ہے‘ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہ کیس مشترکہ مفادات کونسل اور بین الصوبائی رابطہ کمیٹی میں رکھاجائیگا‘ اس سے پہلے بھی یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے پلیٹ فارم پر زیر غور آچکا ہے تاہم کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا‘ اس سسٹم کے حوالے سے صوبوں کی مشاورت کیلئے سرکاری خطوط کا سلسلہ 2011ء میں بھی شروع ہوا‘ جو آج تک پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا‘ حکومت کو یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ عام شہری نے موجودہ قیادت سے بڑی توقعات وابستہ کررکھی ہیں‘ حکومت اگر مجسٹریسی نظام بحال کردیتی ہے اور لوگوں کو گرانی وملاوٹ کے حوالے سے کوئی ریلیف ملتی ہے تو یہ ان ہی توقعات کی تکمیل میں معاون ہوگاجو عوام نے حکومت سے وابستہ کررکھی ہیں‘ خیبرپختونخوا حکومت کو بھی چاہئے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اگلے اجلاس کیلئے اس ضمن میں بھرپور ہوم ورک یقینی بنائے تاکہ مذکورہ سسٹم بحال ہو۔