113

مہنگائی‘ اضافی ٹیکس وصولی

وطن عزیز میں 1600اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیا جارہا ہے جبکہ بجلی کے نرخوں میں 4روپے فی یونٹ اضافے کی سمری بھی ارسال ہوچکی ہے‘ تادم تحریر ذرائع ابلاغ سے جاری ان رپورٹس کی کوئی وضاحت نہیں آئی کہ حکومت فنانس بل 2018-19 میں ترمیم کررہی ہے جس کے نتیجے میں 1600اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے‘ حکومت کی جانب سے 4کھرب روپے کی اضافی وصولی کا ہدف بھی رکھا جارہا ہے‘ اس کیساتھ 1کھرب کی ٹیکس چھوٹ ومراعات بھی ختم کردی جائیں گی‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس کی چھوٹ کم کرکے4لاکھ روپے کرنے کی تجویز بھی دی جارہی ہے‘ سابق حکومت بھی درآمدات کی حوصلہ شکنی کیلئے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرچکی ہے جس سے مہنگائی کی لہر نے شدت اختیار کی تھی‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کواقتدار سنبھالنے پر معیشت بری حالت میں ملی کھربوں روپے کے بیرونی قرضے‘ روپے کی قدر میں کمی‘ تجارتی خسارے میں اضافے‘ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ اکانومی کو متاثر کئے ہوئے ہیں‘ توانائی کا بحران اور آبی ذخائر میں کمی چیلنج سے کم نہیں‘ اقتصادی شعبے کی اصلاح کیلئے بعض کڑوے فیصلوں کی ضرورت یقیناًموجود ہے ۔

تاہم ان فیصلوں کا پورا بوجھ عام شہری کے بجٹ کو بری طرح متاثر کرسکتاہے‘ آبی ذخائر کی تعمیر میں کنٹری بیوشن دینے والے غریب اور متوسط شہری کیلئے لوڈشیڈنگ کے باوجود بھاری یوٹیلٹی بل ایک بہت بڑا بوجھ ہیں‘ اس سے ماہانہ گھریلو بجٹ اس طرح متاثرہوتاہے کہ کچن کے اخراجات تک پورے کرنا ممکن نہیں رہتا‘دوسری جانب خدمات کا معیار سوالیہ نشان ہے‘ تعلیم وعلاج جیسی بنیادی سہولیات پر اربوں روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں‘ اس کے باوجود نگرانی کا موثر انتظام نہ ہونے پر شہری نجی شعبے کے اداروں کو ترجیح دیتے ہیں‘ یہاں بھی چیک اینڈ بیلنس کے سسٹم کو فول پروف نہیں کہاجاسکتا‘مارکیٹ کی صورتحال کنٹرول کرنے کا مجسٹریسی نظام اپنی بحالی کیلئے سرکاری فائلوں میں کئی سال سے زیر گردش ہے‘ حکومت کی جانب سے کسی بھی چیز پر معمولی ٹیکس صارف کیلئے کئی گنا زیادہ ہوکر بوجھ بن جاتاہے‘ پٹرول کے نرخوں میں ایک روپے لیٹر کا اضافہ اگلے روز کرایوں میں بھاری بوجھ کی صورت اختیار کرلیتاہے‘د رآمدکنندہ اور انڈسٹری ہر قسم ٹیکس اور ڈیوٹی حتیٰ کہ بجلی گیس کے ٹیرف میں اضافے کو مارکیٹ منتقل کردیتی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے مراعات ملنے پر صارف کی ریلیف کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے ‘ ملازمین سے ٹیکس کٹوتی سب سے زیادہ فول پروف ہے ۔

اور وہ اپنی تنخواہ میں قابل ٹیکس حصے سے کٹوتی پر بے بس ہی ہوتے ہیں اور ٹیکس ایک خودکار نظام کے تحت تنخواں سے منہا ہوجاتا ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سالانہ آمدنی کا تعین ہونے میں بھی طویل وقت لگتا ہے جبکہ سسٹم کے سقم اس کے علاوہ ہیں‘ ایسے میں ملازمین کو حاصل 12لاکھ روپے سالانہ تک کا استثنیٰ ختم ہونے پر اپنی آمدنی کے تناظر میں گھریلو اخراجات کا سیٹ ہونے والا بجٹ پھر سے ڈسٹرب کرنا ہوگا‘ اس میں کوئی بحث نہیں کہ حکومت کو بعض ایسے فیصلے کرنا پڑتے ہیں جو انتہائی کڑوے ہوتے ہیں تاہم ان فیصلوں کے نتیجے میں بگڑنے والی صورتحال میں عوام کی ریلیف کیلئے اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں‘ اس وقت ضرورت مارکیٹ کنٹرول کرنے ‘ ملاوٹ کے خاتمے اور میونسپل سروسز کیساتھ دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے‘ ریونیو میں اضافے اور مقامی صنعت کو فروغ دینے کیلئے سمگلنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔