121

بچت کے تقاضے

حکومت کو کئی ایسے سنجیدہ چیلنج درپیش ہیں جو سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں مگر حکومت نے چند ایسے غیر سنجیدہ کام شروع کردیئے ہیں جو تمام احتیاط کے باوجود تماشا ہی کہلا سکتے ہیں ان میں گورنر ہاؤسز کا عوام کیلئے کھولنا بھی شامل ہے پہلے گورنر سندھ نے کراچی میں تاریخی حیثیت کا حامل گورنر ہاؤس اوپن کیا ہزاروں افراد نے اسکا وزٹ کیا‘باقی صوبے دار کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں سب نے اس نیک عمل میں حصہ لینے کا اعلان کردیا مگر یہ واضح نہیں ہواکہ اس طرح اعلیٰ صوبائی منصب دار کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر کو کھولنے اور وہاں سیر کرنے والے سینکڑوں یاہزاروں شہریوں کو کیا فائدہ ہوگا کیا اس اوپن ڈے پرگورنر اپنے عملے کے ساتھ بیٹھے ہونگے اور عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے احکامات جاری کررہے ہونگے یا یہ اوپن ڈے سائلین کیلئے نہیں صرف تماشائیوں کیلئے ہے جو محض سیلفیاں لینے اور تفریح کیلئے جائینگے‘ ہفتے کی چھٹی والے دن نہ گورنر ہونگے نہ ہی دیگر عملہ صرف سکیورٹی عملہ ہوگا اور ہفتے کے باقی دن گورنر ہاؤس باقاعدہ اور حسب معمول نوگوایریا رہے گا‘کسی شہری اور بالخصوص فریادی کو داخل ہونا تو دور کی بات‘ گیٹ کے سامنے کھڑے ہونے کی اجازت بھی نہیں ہوگی‘ اس لاحاصل مشق کا کیا مقصد ہے یہ اور اس قسم کے اقدام وہ حکمران کرتے ہیں جن کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا اور عوام کو اس طرح کی سہولیات اور مراعات دیکر خوش رکھتے ہیں مگر موجودہ حکومت تودوسرے لفظوں میں عوام کی امنگوں کا حاصل ہے اور عوام یہ چاہتے ہیں کہ حکومت کوئی ٹھوس فیصلے کرے حقیقی ریلیف دے جس سے سابقہ ادوار کے منفی اثرات ختم ہوں۔

ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس بات پر یقین رکھتے ہوں کہ انکی کابینہ ماہرین پر مشتمل ہے اور موجودہ پارلیمنٹ میں سے اس سے بہتر کابینہ نہیں مل سکتی مگر ابھی چند ہفتے ہی گزرے ہیں اور کابینہ کے چند اہم وزراء نے خود کو اس منصب کیلئے نااہل ثابت کردیا ہے‘ لگتا ایسے ہے کہ ان پر یہ وزیر رکھنے کیلئے دباؤ تھا یہ پارٹی کا بھی ہوسکتا ہے اور اتحادیوں کا بھی‘ یہ درست ہے کہ اتحادی حکومتوں میں اتحادی پارٹی کو حق ہوتا ہے کہ وہ کوٹے یا حصے کے مطابق اپنا وزیر خود نامزد کرے مگر اتنی شرط ضرور ہونی چاہئے کہ نامزد وزیر پر کوئی الزام نہ ہو ماضی کا کوئی سکینڈل اس کیساتھ وابستہ نہ ہو‘ایسی صورت میں بدنام وزیراعظم ہوتا ہے جس طرح بلوچستان اور سندھ کی اتحادی پارٹیوں سے دو خواتین کو وزیر بنایا گیا ہے یہ حکومت کیلئے ایک الزام بن چکی ہیں‘ مرد وزراء میں بھی کئی ایسے ہیں جن کا صرف کابینہ میں شامل ہونا بھی بدنامی کا باعث ہے یہاں نام لکھنا مناسب نہیں مگر وزیراعظم عمران خان کو اگر پہلے معلوم نہیں تھا تواب سب کا کچہ چھٹا سامنے آچکا ہے ابھی حکومت نے دم بھی نہیں لیا تھا کہ اسکے خلاف میڈیا میں تمسخر اڑنے لگے اس میں وزیر اطلاعات کی ناپختگی کا زیادہ ہاتھ تھا شاید ان کا المیہ ہے کہ پرویز مشرف اور آصف زرداری کا دفاع کرتے کرتے طبیعت میں جو جارحانہ پن آگیا تھا۔

وہ فطرت کا حصہ بن چکا ہے وہ ابھی اپوزیشن کے دنوں کا لہجہ اور انداز اختیار کئے ہوئے ہیں حالانکہ اب عمران خان کے انداز اور چال ڈھال میں سادگی کے باوجود وزیراعظم کا رعب آگیا ہے وہ گفتگو بھی سوچ کر اور تحمل سے کرنے لگے ہیں اب وزراء کو بھی سنجیدہ ہوجاناچاہئے‘زیادہ توجہ اپنے100دنوں کے ایجنڈے کی تکمیل پر رکھیں اور وزیراطلاعات کو اب اپوزیشن کو زچ کرنے کی بجائے حکومت کے اچھے فیصلوں کو عوام کے سامنے لانا چاہئے گورنر ہاؤسز ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس جیسے مقامات کا کوئی دوسرا استعمال ممکن ہی نہیں اسلئے یہ جس مقصد کیلئے بنائے گئے ہیں وہی استعمال جاری رکھا جائے وزیراعظم ہاؤس کی مہنگی گاڑیوں کی نیلامی کیلئے اشتہار دیا جاچکا ہے اس پر جو بھی رسپانس آئے یہ گاڑیاں سستی نہیں فروخت ہونی چاہئیں اب دوسرا مرحلہ وزارتوں اور محکموں میں سرکاری ٹرانسپورٹ کا غیر ضروری استعمال روکنا ہے‘ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بچت کے نام پر اعلیٰ افسروں کو سرکاری گاڑیاں فروخت کرکے انکو60ہزار سے1لاکھ روپے تک ماہانہ خرچ دینا شروع کیا تھا لیکن جن افسروں نے سستی گاڑیاں لے لیں وہ ماہانہ پیسے بھی لے رہے ہیں اوربدستور سرکاری کاریں بھی استعمال کر رہے ہیں ان سے بازپرس ہونی چاہئے اتوار بازار کی پارکنگ یا سکولوں کے سامنے چھٹی کے ٹائم کھڑی سرکاری گاڑیوں کا استعمال روکا جائے اس سے تبدیلی محسوس ہوگی۔