130

منی بجٹ

فارسی میں کہتے ہیں کہ ہر کہ آمد عمارت نو ساخت‘ یعنی جو بھی انسان کسی منصب پر بیٹھتا ہے تو وہ ایک نیا پروگرام بناتا ہے‘ ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی حکومتوں کی تبدیلی ہوتی ہے نئی حکومت پرانی حکومت کے بنائے گئے سارے ہی منصوبے رد کر دیتی ہے اور ملک کیلئے نئے منصوبے سامنے لاتی ہے‘حکومتوں کی کل زندگی جمہوریت میں پانچ سال ہوتی ہے یعنی کوئی بھی حکومت جو منصوبے بناتی ہے اگر وہ پانچ سال میں مکمل ہو جاتے ہیں تو فبہا ورنہ نئی حکومت آ کر نئے منصوبے بنا لیتی ہے اور جو منصوبے اگلی حکومت سے ادھورے رہ گئے ہوتے ہیں تو وہ کبھی تکمیل کا منہ نہیں دیکھتے‘ جبکہ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان میں آج تک جو بھی منصوبے بنے چاہے وہ سڑکوں کی تعمیر تھی ‘ریلوے میں کوئی نئی سکیم تھی‘تعلیم کے میدان میں نئے سکولوں کا اجرا تھا‘ شہر کی بہتری کیلئے کوئی سکیم تھی تو اسکے لئے حکومتوں نے مختلف بین الا قوامی اداروں سے ادھار لے کر ان منصوبوں کا اجرا کیااور اگر کوئی منصوبہ حکومت کے اقتدار کے دوران ختم ہو گیا تو بہتر ورنہ نئی حکومت نے وہ منصوبہ نامکمل ہی چھوڑ دیا اور اس پر خرچ شدہ رقم بے کار گئی مگر اس منصوبے کے لئے لیا گیا قرض تو اپنی جگہ قائم رہا مگر منصوبہ ختم ہو گیا۔

اس طرح جو منصوبے کے مکمل ہونے پر آمدن ہونی تھی وہ تو گئی بھاڑ میں الٹا اس کے لئے ہم نے اپنے قرض میں اضافہ کر لیا۔ اگر ہم پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کا سنجیدگی سے جائزہ لیں تو اس میں یہی بات سامنے آتی ہے کہ حکومتوں کی اس ضد نے کہ اگلی حکومت کے شروع کئے گئے منصوبوں کو ضائع کرنا ہے اور اپنے منصوبے لگانے ہیں توسابقہ حکومت کے لئے گئے قرض اپنی جگہ موجود ہیں مگر ان قرضوں سے جو منصوبے مکمل ہو کر ان کی ادائیگی میں معاون ہونا تھا وہ کام ہی ختم ہو گیا اس کے علاوہ قرض کی بری بات یہ ہے کہ بقول چچا غالب ۔ قرض کی پیتے تھے مے اور جانتے بھی تھے یہ ہم ۔ رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن ‘ سب کو معلوم ہے کہ قرض واپس کرنے ہیں اور موجودہ حکومت نے ہی کرنے ہیں مگر ہم دوسروں پر الزام تراشی کرنے کے سوا کوئی عملی کام نہیں کرتے‘ یہی وجہ ہے کہ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا ہے مگر حکومت سوائے اگلی حکومتوں پر الزام تراشی کے کچھ نہیں کر رہی‘اگلی حکومت کے شروع کئے گئے منصوبوں کو مکمل کریں اور جو قرض لیا گیاہے اس کو اپنی جگہ پر خرچ کریں تو منصوبے اپنی رقم خود پوری کرلیں گے‘مثال کے طورپرموٹروے پر نواز حکومت پر بہت تنقید کی گئی۔ کچھ حصے تو نواز حکومت کے دوران ہی مکمل ہوگئے تھے اور کچھ میں غیر ضروری تاخیر ہوئی مگر کسی نہ کسی طرح وہ بھی مکمل ہو گئے ‘ان منصوبوں نے خود پر خرچ کی گئی رقم پوری کر دی ہے اور اب ان منصوبوں سے حکومت کو منافع مل رہا ہے‘۔

اسی طرح جو بھی منصوبے حکومتیں لگاتی ہیں انکی با قاعدہ سٹڈی کی جاتی ہے اور اس کی تکمیل کے بعد کے فوائد پر اچھی طرح غور و خوض کے بعد منصوبے پر کام کیا جاتا ہے‘یہ یقین ہوتا ہے کہ منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد خرچ کی گئی رقم واپس کر دے گا اور اس کے بعد یہ منافع بخش بھی ہو گا۔ مگر حکومتوں کی تبدیلی کی وجہ سے منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں اور قرض میں اضافہ ہو جاتا ہے پاکستان پر جو اربوں کے قرض ہیں ان کی بنیادی وجہ حکومتوں کی تبدیلی ہی ہے‘ہمارے ہاں چونکہ کوئی بنیادی ڈھانچہ تو ہے نہیں اور نہ کوئی ایسا ادارہ ہے کہ جو منصوبوں کی نگرانی کرے اور اسکا حکومتوں کی تبدیلی سے کوئی تعلق نہ ہو ‘جیسے باہر کے ملکوں میں باقاعدہ ایسے ادارے ہوتے ہیں کہ جو ملک کے لئے پالیسیاں بناتے ہیں اور ان پر عمل کرواتے ہیں ان پالیسیوں پر حکومتوں کی تبدیلی کا کوئی اثر نہیں پڑتا ‘ہمارے ہاں جو منصوبے ایوب خان کی حکومت نے شروع کر رکھے تھے اور جو انکی حکومت کے خاتمے سے قبل مکمل نہ ہو سکے مگر ان پر ایک خطیر رقم خرچ ہوچکی تھی وہ منصوبے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے آتے ہی ادھورے چھوڑ دیئے گئے۔ ان ہی منصوبوں میں ایک بھاشا ڈیم کا منصوبہ بھی تھا۔ اسلئے کہ تربیلہ ڈیم کی عمر میں اضافے کے لئے یہ منصوبہ لازمی تھا‘مگرچونکہ یہ منصوبے ایوب حکومت کے تھے اسلئے بھٹو نے اسے صفر سے ضرب دیدی اسی طرح کے کئی اور منصوبے بھی ختم کر دیئے گئے‘ ان میں بہت سے منصوبے مشرقی پاکستان میں بھی تھے جن کا بوجھ بھی مغربی حصے پر پڑا‘اسی طرح بھٹو گورنمنٹ کے دور کے منصوبے ضیاء حکومت نے ختم کر دیئے علیٰ ہٰذالقیاس۔ اور ان سب کا اثر یہ ہوا کہ آج ملک بے تحاشا قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔