150

بنت پاکستان

عدالت عظمیٰ میں ان دنوں اپنی نوعیت کا انوکھا مقدمہ سماعت کے مراحل سے گزر رہا ہے‘ درخواست گزار فریق نے اپنی ولدیت کی جگہ ماں کا کا نام اور والد کے نام کی جگہ پاکستان لکھنے سے متعلق انصاف مانگا ہے‘ بیٹی کی خواہش ہے کہ اس کے والد کی جگہ پاکستان لکھا جائے اور تمام سرکاری و تعلیمی دستاویزات میں اس تبدیلی کا حکم دیا جائے۔ آئینی ماہرین سر پکڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ اس ایک مقدمے سے ایسے سینکڑوں ہزاروں مقدمات دائر ہوں گے‘ جن میں بچوں کی کفالت نہ کرنے والے والد سے یہ حق چھین لیا جائے گا کہ اس کا نام بچوں کے شناختی کوائف کا حصہ بنے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ والد کا نام ہٹانے کے معاملے سے متعلق منفرد و نازک کیس کی سماعت کر رہا ہے جسکے بارے میں اسلامی نکتہ نظر بھی زیرغور ہے درخواست گزار اور بچی کی والدہ فہمیدہ بٹ کا کہنا ہے کہ اگر باپ بچی کو چھوڑ کر چلا جائے اور ضرورت کے وقت اپنی دستاویزات بھی نہ دے تو بچے کیا کریں؟ اسلئے عدالت سے درخواست ہے کہ وہ شناختی کارڈ سے بچی کے والد کا نام ہٹانے کا حکم دے۔

طلاق اور خلع جیسے امکانات کی موجودگی میں والدین و بچوں کے درمیان علیحدگی سے متعلق آئینی چارہ جوئی کی اس نئی صورت سے نئے تصور اور نئی بحث نے جنم لیا ہے‘اس سوال پر صرف عدالت ہی نہیں بلکہ معاشرے کو بھی سوچنا چاہئے کہ بچوں کو انکی ولدیت کے انتخاب کا حق ملنا چاہئے یا نہیں!؟ ایسے کئی والد ہیں جو شادی کے بعد اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہیں کرتے اور کفالت کا بوجھ سسرال پر منتقل ہو جاتا ہے۔ مرد اپنی حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے نہ تو طلاق دیتا ہے اور نہ ہی معاشرے میں بدنامی کے خوف سے لڑکیاں ایسے مردوں سے خلع لیتی ہیں‘ جو نہ تو ازدواجی حقوق اور نہ ہی بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کو اپنا فرض سمجھتے ہیں!رواں ماہ کے آغاز سے جاری اس مقدمے میں اب تک چیف جسٹس کے یہ ریمارکس سامنے آئے ہیں کہ ’’والد شرعی طور پر گھر کا سربراہ ہوتا ہے‘ دین اور قانون میں ایسا کرنے کی گنجائش نہیں کہ کسی بیٹے یا بیٹی سے اس کے والد کا نام چھین لیا جائے اور سپریم کورٹ ازخود قانون سازی نہیں کر سکتی اور نہ ہی قانون میں ترمیم کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے‘جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ’قانون میں عاق کرنے کا تصور نہیں ہے۔‘ اس موقع پر تطہیر فاطمہ نے کہا کہ مجھے والد اپنی دستاویزات نہیں دے رہے‘ مجھے دستاویزات کی ضرورت پڑتی ہے‘اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اسکا یہ حل نہیں کہ والد کا نام دستاویزات سے ہٹا دیا جائے‘ بچی کے والد کا کیا نام ہے ہم اس کو بلا لیتے ہیں‘ تطہیر کی والدہ نے محمد شاہد ایوب ولد محمد ایوب نام بتایا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم اس مسئلے کا حل نکالیں گے اور آپ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوں گی۔

ہم دیکھتے ہیں ایسے بچوں کا کیا کریں جن کے والدین انہیں اپنی دستاویزات نہیں دیتے! عدالت نے مقدمے کی پہلی سماعت پر نادرا کو مکمل تعاون اور بچی کو والد کے پتے سے متعلق تمام معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا‘اس موقع پر چیف جسٹس نے لڑکی کے والد سے استفسار کیا کہ آپ نے اتنے برس اپنی بیٹی سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ یہ لڑکی چاہتی ہے کہ اپنے نام سے آپکا نام ہٹا دے اور اسے تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کہا جائے کیونکہ پاکستان ہماری ماں اور باپ بھی ہے‘ اس پر لڑکی کے والد نے تسلیم کیا کہ تطہیر اسکی بیٹی ہے اور اس نے بیٹی سے ملنے کی بہت کوششیں کیں‘ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کیسے والد ہو؟ بیٹی کو چھوڑ کر چلے گئے!؟ جس پر والد نے کہا کہ میں نے نہیں چھوڑا‘ مجھے تو لڑکی کی ماں ملنے ہی نہیں دیتی تھی‘ عدالت کو تطہیر نے بتایا کہ جو بچے والدین کے ستائے ہوئے ہیں‘ ان کو حق ہونا چاہئے کہ جو اسکی کفالت کرے اسی کا نام بطور والد لکھا جائے‘تیسری سماعت میں والد کی مالی حیثیت سے متعلق رپورٹ پیش ہو گی ‘ اگراس مقدمے کا فیصلہ ’تطہیر فاطمہ‘ کے حق میں ہو جاتا ہے تو اِس سے بچوں کو اپنی ولدیت کے خود انتخاب کرنے کا حق مل جائے گا جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہوگی۔ وقت ہے کہ بچوں کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے والے والدین کو جھنجھوڑا جائے اور اس سلسلے میں معاشرہ بالخصوص عزیزواقارب اپنا کردار ادا کریں اور دوسروں کے بچوں کو بھی اپنا سمجھ کر انصاف دلائیں۔