296

حسب حال‘ تبدیلی

سات ستمبر کے روز گورنر ہاؤس سندھ کی عمارت عوام کیلئے کھول دی گئی‘ جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے زیراستعمال رہی دفتری اشیاء اور ان کے تحریر کردہ مضامین و دیگر نوادرات کشش کا باعث ہیں۔ گورنر ہاؤس سیرکے پہلے دن کراچی کے مقامی افراد کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے آئے ہوئے سیاحوں کو اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ایک تو وہ گورنر ہاؤس جیسی ممنوعہ عمارت کے اندر ہیں اور دوسرا ماضی کے حکمرانوں نے اپنی آسائشوں کیلئے عوام کے ٹیکسوں سے ایک ایسا جہان بنا رکھا ہے‘ جسکا غربت زدہ پاکستان سے کوئی جوڑ نہیں!تیرہ ستمبر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا کہ 1096 ایکٹر پر محیط وزیراعظم ہاؤس کو تعلیمی ادارے میں تبدیل کر دیا جائیگا‘ جس کی صرف دیکھ بھال پر سالانہ 47کروڑ روپے قومی خزانے سے ادا کئے جاتے ہیں‘ وزیراعظم ہاؤس کو تدریسی ادارے میں ڈھالنے کا فیصلہ عمران خان کے اس وژن اور بصیرت کا عکاس ہے‘ جو انہوں نے پاکستان کیلئے سوچ رکھا ہے سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے لئے متعدد دفاتر بنا رکھے تھے‘ جس میں کرافٹ اینڈ آرٹ میوزیم بھی شامل تھا اور اس کی دیکھ بھال و نگرانی پر سالانہ آٹھ کروڑ روپے خرچ آرہا ہے۔ تصور کیجئے کہ ایک ملک کہ جہاں کی نصف آبادی غربت کا شکار ہے اور انہیں دو وقت کا کھانا میسر نہیں لیکن وہاں کے حکمرانوں کو اپنے ذوق و شوق کی تسکین بصورت آرٹ اینڈ کرافٹ میوزیم کی چاہئے۔

موجودہ حکومت اس عجائب گھر کو ختم کرنے کی بجائے اسے کنونشن سنٹرمنتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے کنونشن سنٹر اور کرافٹ اینڈ آرٹ میوزیم کی عمارت مربوط ہو جائے گی‘ امید ہے کہ اس عجائب گھر پر قومی خزانے سے خرچ کرنے کی بجائے کنونشن سنٹر کی مد میں حاصل ہونیوالی آمدن سے اخراجات پورے کئے جائیں گے‘وفاقی حکومت نے لاہور کے چنبہ ہاؤس کی تاریخی عمارت کو گورنر آفس میں تبدیل کرنے اور مال روڈ پر قائم ساڑھے سولہ ایکٹر اراضی پر مشتمل سٹیٹ گیسٹ ہاؤس جسکی دیکھ بھال پر سالانہ پچاس لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں‘ کو فائیو سٹار ہوٹل بنانے سے قومی خزانے کابوجھ کم اور نئے مالی وسائل کے امکانات پیدا ہوں گے‘کراچی میں سندھ گورنر ہاؤس کی اپنی تاریخی اہمیت ہے‘ جسے مدنظر رکھتے ہوئے اسے مستقبل قریب میں عجائب گھر بنانے کی کوششوں میں سندھ حکومت فی الوقت حائل ہے‘ جو نہیں چاہتی اس سادگی و کفایت شعاری کی مہم کا حصہ بنے جسکا سارا کریڈٹ تحریک انصاف کی قیادت کو مل رہا ہے‘یوں سیاسی مخالفت برائے مخالفت ایک ایسی رکاوٹ بنی کھڑی ہے‘ جس کا حل تحریک انصاف کے فیصلہ ساز باوجود کوشش بھی نہیں ڈھونڈ پا رہے‘ایسے ہی ایک فیصلہ ساز سے ہوئی ملاقات میں معلوم ہوا کہ صرف سیاست دان ہی نہیں بلکہ افسرشاہی کی ایک تعداد بھی وی وی آئی پی کلچر کو جاری و ساری رکھنا چاہتی ہے تاہم تحریک انصاف گورنر ہاؤس بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو عجائب گھروں میں تبدیل کرنے کے اپنے اعلانات پر قائم ہے اور سمجھتی ہے کہ ایسی تمام رہائشگاہوں اور سہولیات کا بوجھ قومی خزانے سے ہٹایا جائے‘جو صرف اور صرف حکمرانوں کی آسائش و آرام کیلئے بنائے گئے ہیں‘اصولی طور پر کفایت شعاری اور سادگی مہم کا آغاز خیبرپختونخوا سے ہونا چاہئے تھا ۔

جہاں صوبائی حکومت بھی تحریک انصاف ہی کی ہے اور سادگی و کفایت شعاری کا سب سے زیادہ بلکہ بڑھ چڑھ کر مظاہرہ پشاور سے کرنا نسبتاً آسان اور ممکن ہے لیکن ایسا نہ ہونے کی وجوہات میں عمران خان کی دیگر مصروفیات کا عمل دخل قرار دیا جا رہا ہے وفاقی حکومت نے نتھیا گلی ریسٹ ہاؤس کو معیاری درجے کا تفریحی مقام بنانے کی منظوری دینے کے لئے تجاویز طلب کی ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں پرمشتمل گلیات کی سیاحتی کشش میں اضافہ ہوگا‘سوال اپنی جگہ غور طلب ہے کہ گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا کے دروازے عوام کیلئے کب کھلیں گے؟ اِس کے کسی ایک حصے کو بھی عوام کے لئے مختص کیا جا سکتا ہے‘ اسی طرح وزیراعلیٰ ہاؤس کے دفاتر اور رہائشگاہوں کی قسمت کا فیصلہ ہونا بھی باقی ہے‘مختصر کابینہ کیساتھ اضافی دفاتر اور عملے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی‘ اگرچہ پاکستان کے ہر ضلع میں کمشنر‘ ڈپٹی کمشنرز‘ اسسٹنٹ کمشنرز اور ماتحت عملے کی رہائشگاہیں واگزار کروانے کے لئے خاطرخواہ پیشرفت نہیں ہو رہی لیکن ایسا بھی نہیں کہ تحریک انصاف اپنے اعلان کردہ ایجنڈے سے پیچھے ہٹ گئی ہو۔