126

زہر قاتل

تاریخ پر اگر آپ ایک نظر ڈالیں تو جنگوں میں مخالفین کو تلواروں ‘ خنجروں وغیرہ سے ختم کیا جاتا تھا ایک دور حکومت میں مخالفین کو ہلاک کرنے کیلئے زہر کا استعمال بھی کیا جاتا رہا اور پودوں سے قسم قسم کے زہر بنائے جانے لگے‘ اس لحاظ سے ہماری تاریخ کوئی زیادہ قابل رشک نہیں اموی دور حکومت میں ابن اتھال ایک اعلیٰ منصب پر فائز تھا وہ عیسائی تھا اور علم کیمیا میں ید طولیٰ رکھتا تھا تاریخ کی کتابوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے اس کا جانشین تھا ابوالکم اور وہ بھی عیسائی ہی تھا اور مختلف اقسام کے زہر بنانے میں یکتا تھا‘ تاریخ کی کتابوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ نویں صدی کے بغداد میں ابن وحیثہ نامی کیمیا گری کے ایک ماہر نے زہر کے علم پر ایک کتاب لکھی جسے کئی صدیوں تک سازشی عناصر مختلف ادوار میں استعمال کرتے رہے اسی کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح سانپوں، بچھوؤں اور مکڑیوں کے بعض حصوں سے مہلک قسم کا زہر بنایا جا سکتا ہے اسی کتاب میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے کہ جسے انگریزی میں Botulsimاور اردو میں زہرلی نالی کہا جاتا ہے اس میں بوڑھے اونٹ کے خون کو اس کے جسم کے صفرا کیساتھ ملا کر اسے نوشادر اور سمندری پیاز کے رس کے ساتھ پھر مکس کی جاتا ہے اس سے جومواد تیار ہو تا ہے اس سے اگر دو گرام کسی کو کھانے میں یا شربت میں ملا کر دیدیا جائے تو تین دن کے اندر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے اسی طرح خوبانی کی گٹھلی سے اگر سایانائیڈ کو کشید کر اسے کسی کو پلا دیا جاتا ہے تو اس کی بھی فوری موت واقع ہوجاتی ہے۔

ایک اور خطرناک قسم کا زہر یلا پودا ہے کہ جسے انگریزی میں Monkshoodاور اردو میں گل تاج الملوک کہتے ہیں اس کی کٹوری سانپ کے پھن کی طرح ہوتی ہے اس کے رس کو اگر تلوار یا برچی کی دھار پر مل دیا جائے تو اس کے وار سے زندہ بچنا محال ہے‘ مسلم تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جن میں کئی آئمہ کو سازشیوں نے زہر دیکر شہید کیا اپنے مخالفین کو زہر دے کر مارنے والے لوگ وہ ہوتے تھے یا ہیں کہ جو منظر عام پر نہیں آنا چاہتے جو پس منظر میں رہ کر اپنے دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں پر خون بولتا ہے قاتل کبھی نہ کبھی ضرور آشکار ہو جاتا ہے اس کے جرم کا پول ایک دن ضرور کھل جاتا ہے یہ تو خیر اس زہر کا ذکر ہوا کہ جو لوگ اپنے دشمنوں کو قصداً دے کر اپنی راہ سے ہٹاتے ہیں پر اس زہر کے بارے میں آپ کیا کہیں گے کہ جو ہم روزانہ کیمیکلز سے بھر پور سافٹ ڈرنک‘ چپس ڈبل روٹی اور دیگرٹنڈ فوڈ کی شکل میں کھا رہے ہیں یہ بھی تو اسی قسم کا جان لیوا زہر ہے کہ جس کا ذکر ہم نے اوپر کی سطور میں کیا ہے۔

فرق بس اتنا ہے کہ اول الذکر قسم کا زہر دو تین دنوں میں اپنا کام کر دکھاتا ہے تو ثانی الذکر انسان کو سال دو سال کے اندر اندر ختم کر دیتا ہے یورپ اور امریکہ میں تو اب ٹین کے ڈبوں میں بندفروٹ اور سبزیوں اور گوشت کا استعمال کافی کم ہو گیا ہے کہ وہاں کے لوگ ان کے نقصانات سے واقف ہو چکے ہیں پر اپنے ہاں تو اگر کسی چیز نے ترقی کی ہے تو وہ امپورٹڈ فوڈ ہے کہ جسکے استعمال سے گردوں پر خراب اثرات پڑنے کا خطرہ ہے جس دور میں سادگی تھی اسی دور میں لوگ سادہ غذا کھاتے تھے اگر وہ اصلی گھی بھی کھاتے تو وہ انہیں ہضم ہو جاتا کہ وہ جسمانی مشقت کرتے پیدل چلتے آج سواری کے بغیر لوگ سڑک پر چلنا اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں اس قسم کے لوگوں پر اگر پھر شوگر اور امراض قلب جیسی موذی بیماریاں طاری نہ ہوں گی تو پھر کس پر ہونگی ؟