128

کلثوم نواز کی رحلت

محترمہ کلثوم نواز وطن سے دور لندن کے ایک کلینک میں انتقال کر گئی ہیں‘ ان کے شوہر اور بیٹی دونوں ہی ان کے پاس موجود نہیں تھے۔ان کی وفات نے پاکستانی سیاست اور انصاف کا ایک بڑا ہی بدصورت پہلو بے نقاب کیا ہے۔ تقریباً سال بھر پہلے بیگم کلثوم نواز کے گلے کے سرطان کی تشخیص ہوئی تھی۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز نے اپنے خلاف عدالتوں میں جاری مقدمات کی سماعتوں میں حاضری سے استثنیٰ کی متعدد بار درخواست بھی کی تاکہ وہ لندن جا کر اس شدید نوعیت کی بیماری میں بیگم صاحبہ کی عیادت کر سکیں لیکن ایک بار کے علاوہ ہر دفعہ ان کی درخواست مسترد کی گئی ‘ بعد میں جب انہوں نے ایک اور مقدمے میں اپنی سزا کے خلاف اپیل کے دوران ضمانت کی درخواست دی تاکہ بیگم صاحبہ کی زندگی کے آخری لمحات میں وہ ان کے پاس جا سکیں‘ تو ان کی یہ درخواست بھی رد کر دی گئی ۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ صرف ایک موقع پر جب انہیں لندن جا کر بیگم صاحبہ سے ملاقات کی اجازت دی گئی تو دونوں ہی انتخابات سے قبل اپنے خلاف اس عدالتی فیصلے کو سننے کے لئے بر وقت واپس وطن پہنچ گئے تھے۔

جس کے بارے میں انہیں پہلے سے اندازہ بھی تھا کہ یہ فیصلہ کیا ہو گا ۔میاں نواز شریف اور مریم نواز اس وقت جن آزمائشوں اور تکالیف سے گزر رہے ہیںیہ پاکستان کی عدلیاتی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جو انتہائی عدم انصاف پر مبنی ہے‘ میاں صاحب تین بار اس ملک کے منتخب وزیر اعظم رہ چکے ہیں اس کے باوجود گزشتہ سال وزارت عظمیٰ سے ان کی برطرفی سے قبل دو سال تک ان کا مسلسل پیچھا کیا جاتا رہا ‘ اور پھر آخر میں جو الزام لگا کر انہیں انتہائی کرپٹ آدمی کے طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی وہ یہ تھا کہ انہوں نے وہ تنخواہ ظاہر نہیں کی تھی جو انہوں نے ایک فوجی آمر کے دور حکومت میں جلاوطنی کے دوران ان کے بیٹے نے ان کے لئے مقرر کی تھی لیکن انہوں نے کبھی وصول ہی نہیں کی ۔ اس کے بعد انہوں نے عدالتوں میں مزید سو سے زائد پیشیاں بھی بھگتیں اور انہیں ان پیشیوں سے بھی استثنیٰ نہیں دیا گیا حالانکہ ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے قبل دو وزرائے اعظم یعنی یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف صاحبان کو عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا حالانکہ ان دونوں پر لگنے والے الزامات زیادہ شدید نوعیت کے تھے۔ پچھلے سال ستمبر میں اور پھر اس سال فروری‘ مارچ اور جون میں متعدد بار میاں صاحب اور مریم نواز نے عدالتوں میں بیگم کلثوم نواز کی شدید علالت کا ذکر کرکے استثنیٰ کا تقاضا کیا لیکن گزشتہ سال ماہِ نومبر کے علاوہ ہر بار ان کی یہ درخواستیں مسترد کی جاتی رہیں۔ بعض سیاستدانوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا رویہ بھی بیگم کلثوم نواز کی علالت کے حوالے سے کافی افسوسناک رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے کئی ایک سرکردہ سیاستدانوں نے‘ جن میں سے بعض انصاف اور انسانی حقوق کے شعبے میں بھی خدمات کے حوالے سے معروف ہیں ‘سر عام شریف خاندان کا مذاق اڑایا کہ یہ لوگ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کا ڈرامہ رچا کر عوامی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور قید سے بچنا ان کا مقصد ہے۔

یہ سازشی نظریات بھی پیش کئے گئے کہ ہارلے سٹریٹ کلینک کینسر کے علاج کے لئے مختص ہے ہی نہیں اوریہ ہسپتال بیگم کلثوم نواز کی بیماری کی جعلی خبریں محض اس لئے جاری کر رہا ہے کہ یہ ہسپتال جزوی طور پر شریفوں کی ملکیت ہے۔ درجنوں اسٹیبلشمنٹ نواز ٹی وی تجزیہ کاربھی دن رات اسی جھوٹ کی ترویج کرتے رہے ۔ نام ہم نے یہاں کسی کا نہیں لیا کیونکہ ان میں سے بعض میں بہرحال اتنی تہذیب تھی کہ انہوں نے اب اپنے اس روئیے کی معافی مانگ لی ہے۔ میاں صاحب کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے والے جج صاحبان پر ’ موافق ‘فیصلہ مرتب کرنے کے حوالے سے کس قدر دباؤ ڈالا گیا ہے اس کا بھی ہم تصور کر سکتے ہیں۔ بعض اچھے ججوں نے اس ناانصافی کا حصہ بننے کی بجائے ایک طرف ہو جانے کو ترجیح دی جبکہ جن ججوں نے بات ماننے سے انکار کیا انہیں مسلسل ایک بنچ سے دوسرے بنچ منتقل کیا جاتا رہا ہے۔اسی طرح کی متعدد دیگر کاروائیاں بھی کی گئیں‘ یعنی مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ بے حسی اور بے انصافی کی ایک طویل داستان ہے۔بیگم کلثوم نوازکی وفات میاں نواز شریف کے دل پر گزرنے والا ایک اور دردناک سانحہ ہے۔ ایک حکمران نے انہیں لاہور میں اپنے والد کی تدفین کی اجازت نہیں دی تھی‘ اور اب ایک دوسرے حکمران نے انہیں اپنی علیل اہلیہ کی عیادت اور اس سے ملاقات کی اجازت نہیں دی اور پیرول پرصرف پانچ دن کی رہائی دی ہے تاکہ وہ اپنی اہلیہ کو لاہور میں دفن کر سکیں۔ ابھی پہلا زخم مندمل نہیں ہوا تھا کہ انہیں جذباتی طور پر اور اور گہرا گھاؤ دے دیا گیا ہے‘پاکستانی سیاستدانوں کیساتھ حکمرانوں کی جانب سے روا رکھی گئی ایسی ناانصافیوں اور بے حسی پر مبنی روئیے کی بھی پوری ایک تاریخ ہے۔ پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو عوام کے منتخب کردہ وزیر اعظم تھے۔ انہیں قتل کے الزام میں ایک وعدہ معاف گواہ کے اعتراف جرم کی بنیاد پر سزا دی گئی‘ اس کے بعد انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا اورجیل خانے کے صحن میں انہیں پھانسی دی گئی۔ ان کی پھانسی کی سزا سنانے والوں میں سے ایک فاضل جج ڈاکٹر نسیم حسن شاہ بھی تھے جنہوں نے بعد میں اپنی غلطی کا اقرار کیا اور یہ اعتراف بھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو مجرم ٹھہرانے کے لئے ان پر اور ان کے ساتھی ججوں پر سخت دباؤ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بہادر بیٹی بے نظیر بھی جیل میں مقید رہیں‘ جلاوطنی کی زندگی انہوں نے گزاری۔

‘ دوبار ان کی وزارت عظمیٰ میعاد سے قبل ختم کی گئی اور بالآخر انہیں قتل کر دیا گیا‘ان کی تدفین اپنے آبائی قبرستان میں ہوئی جہاں ان کے دو مقتول بھائیوں اور والد کی بھی قبریں موجود ہیں۔ قرون وسطیٰ میں ممکنہ شہنشاہوں‘ بادشاہوں‘ ملکاؤں‘ شہزادوں‘ شرفاء اور درباریوں کا قتل ایک معمول ہوا کرتا تھا ۔ جہاں اور جب بھی ضرورت پڑتی تو سیاسی مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لئے اور اس عمل کو باجواز بنانے کے لئے فتویٰ مذہبی رہنماؤں اور قاضیوں سے بھی لیا جاتا تھا۔ تاہم جدید جمہوریتوں کا ارتقاء تو انتظامیہ اور مقننہ کے اختیارات کی علیحدگی‘آزاد عدلیہ کے قیام اور فوج کے منتخب سویلینز کی کمان اور کنٹرول کے تحت ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔اس معیار پر پرکھا جائے تو پاکستان میں رائج نظام تو جمہوریت کے نام پر ایک داغ ہے۔ وطن سے دور جس صورتحال میں بیگم کلثوم نواز کی وفات ہوئی ہے یعنی یہ حالات کہ ان کے شوہر اور بیٹی دونوں ہی ان سے ہزاروں میل دور جیل میں بند تھے ‘ تو اس کی بدولت میاں صاحب کے حامیوں اور مخالفوں میں یکساں طور پرہمدردی کی ایک لہر اٹھی ہے۔حکمرانوں کی بے حسی اور بے انصافی واضح ہے۔ مجموعی طور پر پوری قوم کے ذہن پر ایک اور بری یاد نقش ہو گئی ہے۔ یہ قوم پہلے ہی سے تفرقات کا شکار ہے اور بیگم کلثوم نوازکی پیش بین شدہ وفات پر منتج ہونے والے یہ تمام حالات اختلافات کی شدت کو مزید بڑھا نے کا سبب بنیں گے۔