502

پٹرولیم مصنوعات کے نرخ؟

وطن عزیز میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین فیصلے میں پٹرول7.54 جبکہ ڈیزل 14روپے لیٹر مہنگا کردیاگیا ہے اس سب کیساتھ مٹی کا تیل3.36 روپے لیٹر مہنگا کرتے ہوئے سیلز ٹیکس کی شرح بھی بڑھا دی گئی ہے اس صورتحال میں ہر جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے تاہم فیصلہ واپس لئے جانیکا کوئی عندیہ نہیں آرہا پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کیساتھ گرانی کی لہر میں مزید شدت آگئی ہے اور قابل تشویش بات یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی مرضی سے نئے ریٹ مقرر کر رہاہے سی این جی پر چلنے والی کمرشل سواریوں کے کرائے نامے بھی بڑھ رہے ہیں اور رکشہ ٹیکسی والے یہی جواز دیتے ہیں کہ پٹرول مہنگا ہوگیا ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہماری یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنیوالی حکومتیں دوسرے شعبوں میں بہتری کے جو بھی دعوے کریں اکانومی کا سیکٹر کسی طور قابل اطمینان قرار نہیں دیا جا سکتا کھربوں روپے کی مقروض معیشت پر گزشتہ روز ایک ارب ڈالر کا نیا قرضہ ڈال دیاگیا گرے لسٹ میں شمولیت اور بلیک لسٹ کا خطرہ اکانومی کو مزید متاثر کر سکتا ہے تمام تر دعوؤں اور اعلانات کے باوجودہم امپورٹ بل میں کمی لا سکے نہ ہی ایکسپورٹ بل کا حجم بڑھا سکے تجارتی خسارہ ہماری کارکردگی پر سوالیہ نشان ثبت کررہا ہے۔

اس پر بس نہیں غیر ضروری سرکاری اخراجات اور مراعات کیساتھ ہمارے سسٹم میں موجود سقم یا پھر کچھ لوگوں کو غیر ضروری سپورٹ کا نتیجہ اربوں روپے کے قرضوں کا ہڑپ ہونا ہے جنکی واپسی کیلئے اب عدالت عظمیٰ کے لیول پر ایکشن لیا جارہا ہے یہ درست ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ عالمی منڈیوں سے جڑے ہوئے ہیں انٹرنیشنل مارکیٹ میں کساد بازاری بھی ریکارڈ پر آتی رہتی ہے تاہم انکار اس حقیقت سے بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے ہاں فنانشل سیکٹر میں بدانتظامی بھی موجود ہے پٹرولیم مصنوعات کا نرخ بڑھنا اپنی جگہ اس کے اثرات کا مارکیٹ پر مرتب ہونا انتظامی کنٹرول کا متقاضی ہوتا ہے اس کے لئے ایک مستقل سیٹ اپ کی ضرورت ہوتی ہے جس کو مختلف سٹیک ہولڈرز کی معاونت بھی حاصل ہو‘ اس وقت بھی تمام تر برسرزمین حقائق کے باوجود اگر سارے کیس پر مطلوبہ توجہ مرکوز نہ کی گئی تو مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔

زرعی اراضی کا تحفظ

خیبرپختونخوا حکومت نے زرعی زمینوں کی ہاؤسنگ سکیموں میں تبدیلی اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا نوٹس لیا ہے صوبے میں نئی رہائشی بستیوں کی تعمیر کو صوبائی حکومت کی اجازت سے مشروط بھی کیا گیا ہے حکومت کا اقدام بعدازخرابی بسیار سہی قابل اطمینان ہے تاہم رہائش کے بڑھتے مسائل کا حل تلاش کرنا بھی انتہائی ضروری ہے حکومتی سطح پر بڑی رہائشی سکیمیں عملی شکل اختیار نہ کرنے میں کئی کئی دہائیاں لے سکتی ہیں جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری کو قاعدے قانون کا پابند بنانا تو ضروری ہے تاہم نجی سیکٹر کو کچھ مراعات دینا بھی ناگزیر ہے تاکہ رہائش کے بڑے مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے ضروری یہ بھی ہے کہ کرائے کے مکانات کے لئے صرف پولیس کے ذریعے کرایہ نامہ چیک کرنے کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ کرایوں کے تعین کا بھی کوئی فارمولا ترتیب دیا جائے۔