وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ایک ہی روز میں بعض اہم نوعیت کے فیصلے جاری ہوئے ہیں‘خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے عوامی ریلیف کے حوالے سے یہ رپورٹ آئی ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے بجلی کی قیمت میں ایک روپے فی یونٹ کمی کی منظوری دیدی ہے اس کے ساتھ ہی پٹرول کی قیمتیں 3ماہ کیلئے فکس کرکے عوام کو سہولت دینے کا عندیہ بھی دے دیا گیا ہے‘ اس سب کیساتھ قرضے کے حصول کیلئے عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے عائد شرائط پوری کرتے ہوئے ان کا لوڈ بھی حسب معمول عوام پر ہی ڈالا جا رہاہے‘ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس صورتحال میں مہنگائی کا گراف مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اس میں باقی سب چیزیں تو ایک طرف پانی بھی مہنگا کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے‘ اس کیساتھ کاربن لیوی بھی متعارف کرائی جارہی ہے‘وطن عزیز میں امن وامان کی صورتحال خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پریشان کن ہے‘ اقتصادی شعبے میں مشکلات کا سارا لوڈ بھی عوام ہی کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے ملک میں توانائی بحران اور بجلی و گیس کے بھاری بل بھی عام صارف ہی کو مشکلات کا شکار کئے ہوئے ہیں‘ ایسے میں ضرورت مرکز اورصوبوں کی سطح پر ترتیب دی جانیوالی ہر حکمت عملی میں عوام کاریلیف ترجیحات میں سرفہرست رکھنا ہوگا‘اس حکمت عملی میں یہ بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ حکومت مرکز میں ہو یا کسی بھی صوبے میں اس کے اعلانات اور اقدامات کے برسرزمین عملی نتائج بھی نظر آنے چاہئیں اس حوالے سے مثال کے طور پر اس وقت اگر جائزہ لیا جائے تو رمضان المبارک سے پہلے مہنگائی کا گراف تشویشناک تھا لوگوں نے مشکل سے مہینے بھر کا راشن خریدا‘ رمضان المبارک کے دوران مہنگائی تشویشناک رہی اور اب عید کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے جس میں مہنگائی کمر توڑ صورت اختیار کئے ہوئے ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کے بازاروں میں ٹریفک جام ہے جبکہ مارکیٹ کنٹرول کے انتظامات زیادہ تر کاغذوں ہی میں ہیں‘ فیصلہ سازوں کو تلخ زمینی حقائق تسلیم کرتے ہوئے اب منڈی کنٹرول کیلئے فول پروف انتظام کرنا ہوگا‘اس انتظام میں سب کو ساتھ لے کرچلنا ضروری ہے پرائس کنٹرول کے کام میں تاجر تنظیموں کی نمائندگی بھی ناگزیر ہے۔