تاریخ کے چھوٹے چھوٹے معمولی واقعات بعض اوقات بڑے سانحات کا پیش خیمہ ہو تے ہیں فارسی کا شاعر کہتا ہے کہ تم اگر سینے کے زخم ہرا رکھنا چاہتے ہو تو کبھی کبھار پرانی کہا نی پڑھا کرو‘ اگرخوا ہی تازہ کر دن زخم ہائے سینہ را گا ہے گاہے با ز خوا ں ایں قصہ پارینہ را‘ قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ قیام پا کستان کے بعد مسلم لیگ میں پھو ٹ پڑ گئی اس پھوٹ کے نتیجے میں سر کاری افسروں نے سیا ست میں قدم رکھا‘ غلا م محمد، چوہدری محمد علی اور سکندر مر زا سیا ست دان بن گئے، اگر قائد اعظم کی وفات کے بعد پارٹی میں پھوٹ نہ پڑتی تو ہماری تاریخ مختلف ہو تی‘قدرت اللہ شہا ب نے ایک معمولی واقعہ بھی لکھا ہے واقعہ یہ ہے صدر سکندر مر زا دفتر سے گھر جا تے ہوئے بر آمدے سے گزر تے تو کبھی کھڑ کی سے میر ے دفتر میں جھا نکتے‘ کبھی دروازے پر آکر ایک آدھ با ت کہہ دیتے یا ہیلو ہائے کر کے گزر جا تے‘ایک دن بر آمد ے سے گذر تے ہوئے میرے دفتر میں داخل ہوئے ان کے ہا تھ میں سگریٹ کی خا لی ڈبیہ تھی اس کو الٹا کر کے کا غذ بنا یا اور کھڑے کھڑے اس پر کچھ لکھ کر مجھے دیدیا‘ اور کہا یہ کاغذ تم خود ذا تی حیثیت میں لے جا اور سیکر ٹری دفاع سے کہہ دو کہ نوٹی فیکیشن آج ہی جا ری کر ے، میں نے گاڑی میں بیٹھ کر کا غذ کو پڑھا تو معلوم
ہوا کہ صدر نے کمانڈر انچیف محمد ایوب خان کی مدت ملا زمت میں تو سیع کی منظوری دی ہے کا غذ کو سیکرٹری دفاع نے خود وصول کیا اور میرے دفتر پہنچتے ہی فون آیا کہ نو ٹی فیکیشن ہو گیا ہے، اس کے چند دن بعد کمانڈر انچیف کو ریٹائر منٹ پر جا ناتھا، ریٹائرمنٹ کو بریک لگ گئی چار ما ہ بعد کمانڈر انچیف نے ما ر شل لا لگا کر صدر سکندر مر زا کو معزول کر کے گھر نہیں بھیجا بلکہ جلا وطنی گزار نے کے لئے کسی تا خیر کے بغیر انگلینڈ کے سفر پر روا نہ کر دیا‘سکندر مر زا نے بر آمدے سے گزر تے ہوئے سگریٹ کی ڈبیہ پر جو مختصر چٹھی لکھ کر دی تھی اس معمولی چٹھی نے ملک کی تاریخ کا دھا را بدل دیا 1970 ء میں لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت انتخا بات ہوئے پہلے سے طے شدہ اصول کے مطا بق نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلا س ڈھا کہ میں بلا یا گیا تو اقلیتی جما عت نے اجلا س کا بائیکا ٹ کیا اس بائیکا ٹ کے رد عمل میں اس وقت کی حکومت نے بیان دیا کہ یہ معمولی بات ہے کوئی فرق نہیں پڑ تا ہم اجلا س ملتوی کر تے ہیں چنا نچہ اقلیتی جما عت کے کہنے پر اجلا س ملتوی کیا اور اس معمولی بات کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر یتی جما عت کے خلاف فو جی آپریشن کا اعلا ن ہوا چند مہینوں کی خونریز جنگ کے بعد ملک دو ٹکڑے ہو گیا، اکثریتی جما عت نے اپنی اسمبلی کا الگ اجلا س بلا یا، اقلیتی جما عت نے اپنی الگ اسمبلی بنا ئی چھوٹی سی بات تھی معمولی فیصلہ تھا اس کا نتیجہ بھیا نک ہو کر سامنے آیا یہ پوری کہا نی ”میں نے ڈھا کہ ڈوبتے دیکھا“ بریگیڈئیر صدیق سالک کی کتاب میں آئی ہے، ایک اور معمولی بلکہ بے حد معمولی بات مولانا کو ثر نیا زی نے اپنی کتا ب میں لکھی ہے کتا ب کا نا م ہے”اور لائن کٹ گئی“ مارچ 1977ء میں قومی اسمبلی کے انتخا بات ہوئے جن میں سرکاری پارٹی کو کامیابی حا صل ہوئی حزب اختلاف نے دو دن بعد ہونے والے صو بائی اسمبلیوں کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا، وہ بھی سرکاری پارٹی جیت گئی اسمبلیوں کے ارا کین نے حلف اٹھا یا، حکومتیں بن گئیں لیکن حزب اختلاف
کی جما عتوں کے اتحا د پا کستان نیشنل الائنس نے سڑ کوں پر احتجا ج کا آغاز کیا اپریل اور مئی کے مہینے گزر گئے، جون کے مہینے میں حکومت اور اپو زیشن نے مذا کرات پر آما دگی ظا ہر کی‘مذا کرات آگے بڑھے دھاندلی کے الزا مات کو فلٹر کیا گیا تو 35سیٹوں پر اتفاق ہوا‘معا ہدہ طے پا یا کہ 35سیٹوں کو خا لی کر کے ضمنی انتخا بات کرا یا جائے گا یہ بھی طے پا یا کہ 4جو لائی کو معا ہدے پر دستخط ہونگے اور اسی شام وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو قوم سے خطا ب کر کے معا ہدے کا اعلا ن کر ینگے معمولی بات تھی عین وقت پر دستخطوں کی تقریب ملتوی ہوئی فیصلہ ہوا کہ اگلے دن دستخط ہونگے اور وزیر اعظم قوم سے خطاب کرے گا مگر اگلے دن کی نو بت نہیں آئی 4 اور 5جولائی کی درمیا نی رات کو مار شل لاء لگ گیا، اگلی صبح چیف مار شل لا ایڈ منسٹریٹر جنرل ضیا ء الحق نے ریڈیو اور ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کیا ایک معمولی بات کا کتنا بڑا نتیجہ سامنے آیا اس لئے سیا نے کہتے ہیں لمحوں نے خطا کی‘ صدیوں نے سزا پا ئی۔قوموں کی تاریخ میں کوئی بات معمولی نہیں ہو تی، کوئی کام چھوٹا نہیں ہو تا، قیادت کو ہر لمحہ اور ہر لحظہ پھو نک پھونک کر قدم اٹھا نا پڑتا ہے حدیث شریف کا تر جمہ ہے مومن ایک سوراخ سے دوبار ڈسا نہیں جا سکتا۔