معیار کا بحران:حالیہ مقابلہ جاتی امتحانات کے نتائج نے خیبر پختونخوا (KP) کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ 2023ء کے سی ایس ایس امتحان میں کامیابی کی شرح محض 2.96فیصدرہی، جہاں 28,024امیدواروں میں سے صرف 408 امیدوار کامیاب ہو سکے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی جامعات اور ان کے بنیادی مقصد کے درمیان ایک بڑا خلا ء موجود ہے۔ ان اداروں کا بنیادی مقصد ایسے ہنر مند، باصلاحیت اور محنتی افراد پیدا کرنا ہے جو نہ صرف سرکاری ملازمتوں بلکہ دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کر سکیں‘ جامعات کو صرف ڈگریاں بانٹنے والے ادارے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں علمی‘ تحقیقی اور فکری مراکز کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ انہیں تنقیدی سوچ اختراعات (Innovation)، اور قیادت (Leadership)کی تربیت فراہم کرنے والے ادارے ہونا چاہیے۔ تاہم خیبر پختونخوا کی جامعات کئی سنگین مسائل کا شکار ہیں، جن میں کمزور طرزِ حکمرانی‘سیاسی بنیادوں پر تقرریاں‘تعلیمی معیارات کی نظراندازی اور مالیاتی بد انتظامی اگرچہ 2002 ء کے ہائر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس اور2012 ء کے خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ کو اعلیٰ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے نافذ کیا گیا تھا، مگر ان قوانین پر موثر طریقے سے عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ناقص حکمرانی:کسی بھی جدید یونیورسٹی کی کامیابی کا دار و مدارشفافیت‘ شمولیت اور احتساب پر ہوتا ہے تاہم خیبر پختونخوا میں یونیورسٹی سینڈیکیٹ اور سینیٹ جیسے اہم ادارے ان اصولوں پر پورا نہیں اترتے۔ سینڈیکیٹ اور سینیٹ کا کردار:یہ ادارے بنیادی طور پرخودمختارہوتے ہیں اور ان کا کام تعلیمی شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہوتا ہے تاکہ معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔ تاہم، ان اداروں میں اکثر ’وائس چانسلر‘ کی مرضی کے مطابق تقرریاں کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ ادارے غیر فعال ہو جاتے ہیں۔ ذاتی مفادات کی بالادستی:ان تعلیمی اداروں کے فیصلوں میں اکثرذاتی مفادات شامل ہوتے ہیں۔ جو افراد جامعات میں تعلیمی معیار، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنا سکتے ہیں، انہیں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً جامعات میں ایسے فیصلے کئے جاتے ہیں جو طلبہ اور تعلیمی معیار کے بجائے مخصوص افراد کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہیں۔ وائس چانسلرز کی تقرری کا مسئلہ‘وائس چانسلر (VC) کا عہدہ کسی بھی یونیورسٹی کی کامیابی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگرچہ وائس چانسلر کی تقرری کے لئے سرچ کمیٹیاں موجود ہیں، لیکن ان کا انتخابی عمل اکثر مکمل طور پر غیر موثر ثابت ہوتا ہے۔ وائس چانسلرز کا انتخاب مختصر انٹرویوز اور سی وی (Resume) کی بنیادپر کیا جاتا ہے، جبکہ ان کی انتظامی صلاحیت‘ دیانت داری، اور تعلیمی پس منظر پر خاطر خواہ غور نہیں کیا جاتا۔ اکثر وائس چانسلر سیاسی یا ذاتی تعلقات کی بنیاد پر منتخب کئے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ جامعات میں تعلیمی ترقی کے بجائے مخصوص گروپوں کے مفادات کی پاسداری کرتے ہیں۔ اس ناانصافی اور بدانتظامی کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں مایوسی‘ بددلی اور گروپ بندی فروغ پاتی ہے، جو اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید نقصان پہنچاتی ہے۔ حل کیا ہے؟ وائس چانسلر کی تقرری میں (HECہائر ایجوکیشن کمیشن) کے رہنما اصولوں پرسختی سے عمل کیا جائے۔ یونیورسٹی کے انتظامی ڈھانچے کو غیرجانبدار اور شفاف بنایا جائے تاکہ ذاتی مفادات کو ختم کیا جا سکے۔ تعلیمی اداروں میں خودمختاری اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ یونیورسٹی اساتذہ اور طلبہ کی فکری آزادی کو فروغ دیا جائے‘ تاکہ جامعات میں تحقیق اور جدید سائنسی ترقی کو فروغ مل سکے۔ یہی وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے خیبر پختونخوا کی جامعات کو حقیقی معنوں میں اعلیٰ تعلیمی ادارے بنایا جا سکتا ہے، جو نہ صرف قابل اور ہنر مند افراد پیدا کریں بلکہ ملکی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں۔ آپ اپنی رائے میرے ای میل پر ارسال کر سکتے ہیں۔ (مضمون نثار سابق انسپکٹر جنرل پولیس ہیں)