محل سے کھنڈر بننے کی کہانی اور سر آغا خان

محلات کی داستانیں بڑی دل دوز ہوتی ہیں کیونکہ وہ بہت بڑے عروج کے بعد یکدم زوال کی طرف آجاتی ہیں جب ہم مدینتہ الذہرہ کے محل میں مارگریٹ کے ساتھ گلی نما پہاڑی راستوں سے اترائی کی طرف چلنا شروع ہوئے تو کئی چھوٹے بڑے گیٹ ہمارے راستوں میں آتے گئے ہیں یہ سب خلیفہ عبدالرحمن کے رہائشی کمرے تھے ذرا نیچے اترے تو ہمیں عبدالرحمن ہال دکھایا گیا جو دیوان خاص کے طور پر استعمال ہوتا تھا امراء و سفراء خلیفہ سے ملنے یہی آتے تھے دالان کے ستون اور منقش درودیوار آج بھی گزرے ہوئے حسین پل اور پرشکوہ یادوں سے بھرے ہوئے ہیں 961ء عیسوی سے976ء الحکم دوئم خلیفہ اور حاکم بنا976ء سے1009ء تک ہشام دوئم نے اس سلطنت اسپین پر حکومت کی1009ء کے بعد اندلس کی سلطنت کے ٹکڑے ہو گئے اور خلفاء کے بیٹوں‘ کزنز اور رشتہ داروں نے اپنی چھوٹی چھوٹی خلافتیں قائم کرلیں اور یہی سے800 سالہ سلطنت کا زوال شروع ہوا ان کھنڈرات پر کھڑے ہو کر محل کی شان و شوکت کو خیالوں میں زندہ دیکھا جاسکتا ہے اور ان کے بے پناہ رعب و دبدبے اور دولت و حشمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے مارگریٹ کو جتنی بھی تاریخ کا قصہ یاد ہے وہ سنا رہی ہے افسوس اس کی یہ کہانی سننے کیلئے دو تین لوگ ہی اس کے پاس کھڑے ہیں مجھے احساس ہوا تاریخ نہ جاننا اور اس سے دلچسپی نہ رکھنا بھی ایک طرح سے زندہ دلی کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اس طرح دل و دماغ کو غم  سے بچایا جاسکتا ہے مارگریٹ پہلے تو چاہتی رہی کہ سب لوگ مدینتہ الذہرہ کے محل سے کھنڈر تک پہنچنے کی کتھا سنیں لیکن حسب معمول گروپ کے50فیصد لوگ تصاویر بنانے‘ باتیں کرنے اور کھنڈرات پر کھڑے ہوکر لینڈ اسکیپ کی خوبصورتی بیان کرتے ہوئے نظر آرہے تھے کچھ لوگوں کو یہ اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس محل میں ایک عظیم الشان جامع مسجد بھی تھی جو عبدالرحمن نے انتہائی ذوق و شوق سے مختصر مدت میں بنوائی تھی گروپ کے لوگ ستونوں کے ساتھ لگ کر تصاویر بنوانے میں محو ہیں لیکن یہ سب ٹھیک ہے آخر یہاں کے حکمرانوں نے بھی تو اپنے لاپرواہ انداز خلافت‘ دنیاداری اور آپس کی لڑائیوں میں اپنے حالات اتنے ابتر کر دیئے تھے کہ ایسے حالات میں سلطنتیں صرف تنزلی ہی کی طرف جایا کرتی ہیں ہم نے اس شہر کے عظیم محل کے بارے میں دستاویزی فلم دیکھنے  ہال میں جانا ہے جس کے دیکھنے  کا وقت مقرر ہے مارگریٹ گروپ کا لاپرواہانہ انداز دیکھ کر کب کی اوپر جاچکی ہے اور ہم انہی سخت ناہموار اور اونچے کھنڈرات پر واپس مڑے ہیں اور  ہال کی طرف روانہ ہوئے یہاں سکیورٹی کا بہترین انتظام موجود ہے پیچھے مڑ کر دیکھا تو جیسے اوپر پہاڑ سے ایک اجاڑشہر اپنی تباہی کا قصہ زبان حال سے بیان کر رہا ہے اسپین میں اس طرح کے دل دکھانے کے بہت سارے سامان موجود ہیں لیکن صرف ان لوگوں کیلئے جو تاریخ کے عروج و زوال کو جانتے ہیں یا جاننا چاہتے ہیں مارگریٹ کہیں دور سے تیز چلنے اور جلد پہنچنے کے اشارے کر رہی ہے‘بے شمار سیاح صرف ہمارے گروپ کے ہال میں آنے کا انتظار کر رہے ہیں شاید مارگریٹ نے دستاویزی فلم کو چلانے سے رکوایا ہوا ہے ہمارے گروپ کے افراد دیر سے پہنچے‘ فوراً فلم چلا دی گئی دستاویزی فلم میں مدینتہ الذہرہ کے محل سے کھنڈر بننے کی کہانی اور ساتھ ساتھ کھنڈرات کے بے شمار حصول کو اس وقت کے رہنے والے افراد کی نقل و حرکت پر مبنی ڈرامہ بنا کر پیش کیا گیا تھا جیسے اصل میں لوگ محل کے اندر کام کر رہے ہیں گھوڑوں کی نقل و حمل جاری ہے سامان لایا جارہا ہے اور روٹیاں پک رہی ہیں سپاہی پہرہ دے رہے ہیں اور خلیفہ امراء سے ملنے آرہا ہے وغیرہ وغیرہ‘دستاویزی فلم میں تصوراتی شاہی محل کی دنیا کو پیش کیا گیا ہے جو دسویں صدی عیسویں میں موجود تھی دستاویزی فلم صرف 15 منٹ کی ہے فلم کے آخرمیں پروڈیوسرز ڈائریکٹرز کا نام پڑھ کر خوشی ہوئی یہ فلم سر آغا خان کی طرف سے بنوائی گئی تھی اور محسن مصطفوی اس کے پروڈیوسر تھے میں نے اس وقت بھی اس بات کی بہت تعریف کی اور آج بھی کرتی ہوں کہ کم از کم مسلمانوں کے ورثے کو دستاویزی فلم میں محفوظ کرنے اور نئی نسل کیلئے حقیقی طور پر تاریخ کو پیش کرنے کیلئے جناب آغا خان نے یقینا فنڈنگ کی ہوگی ایسی کاوشیں قابل تحسین ہوتی ہیں اور ہمیشہ کیلئے جاوداں ہو جاتی ہیں ہم ہال سے نکل کر سوئینر شاپ  پرآ ئے ہیں اور حسب معمول ہر ایک نے اس دکان پر یادگار خریداری کی‘ مغرب والوں کاسیاحوں کی جیبوں سے یوروز نکالنے کا یہ فن یکتا ہے سیاحت ہمیشہ ڈالرز اور یوروز بھی  ساتھ لے کر آتی ہے اور یہ ان ممالک کی ذہانت ہے کہ وہ امن و سکون اور دلچسپیوں کے ایسے سامان مہیا کرتے ہیں کہ جہاز بھرے ہوئے آتے ہیں اور سینکڑوں یوروز لٹا کر چلے جاتے ہیں ہم ایک ٹرانزٹ بس میں بیٹھے جو ہمیں اپنی بس کی پارکنگ تک چھوڑ کے آئی گرمی کا موسم ہے لیکن ایسی گرمی کہ پاکستان میں بھی کبھی مجھے ایسی گرمی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہمارا خیال ہوتا ہے مغرب ٹھنڈا ہوتا ہے لیکن یورپ بھر میں گرمیاں ایسی سخت ہوتی ہیں کہ جیکب آباد جیسی گرمی محسوس ہوتی ہے۔