یونیورسٹیاں کس طرف جارہی ہیں؟

یونیورسٹیوں کو وفاقی گرانٹ کی سال رواں کی پہلی سہ ماہی قسط جنوری کے آخری ہفتہ میں ملی تھی یوں دوسری قسط کا اپریل میں ملنا متوقع ہو سکتا ہے ایسے میں اگر جامعہ پشاور کو صوبائی حکومت کی طرف سے صوبے کی چند ایک پرانی یونیورسٹیوں کیلئے ایک بلین گرانٹ میں سے اپنا حصہ اور وہ بھی ممکنہ طور پر دوسروں سے قدرے زیادہ بھی مل جائے تو یہ پشاور یونیورسٹی کیلئے مژدے پے مژدہ یعنی خوشخبری پے خوشخبری ہوگی ویسے ایک ارب کی صوبائی گرانٹ کے حصے بخرے کے بارے میں کچھ کہنا یا اندازہ لگانا قبل از وقت بات ہوگی لیکن بالفرض اگر جامعہ پشاور کو 30کروڑ بھی مل جائیں تو باقیماندہ 10کروڑ کا کیا بنے گا؟ کیونکہ قدیم درسگاہ کے ماہانہ اخراجات اس وقت40 کروڑ سے تجاوز کر گئے ہیں جبکہ آئندہ سال اس سے بھی آگے نکل سکتے ہیں‘چلئے ایک مہینے کیلئے10کروڑ کی کمی تو جامعہ اپنے ذرائع آمدن سے پوری کرے گی اور ممکن ہے کہ یہ طریق اپریل میں بھی کارآمد ثابت ہو سکے  مگر آگے بھی تو آٹھ مہینے پڑے ہوئے ہیں وہ کونسی اور کہاں کی گرانٹ سے گزریں گے؟ وفاقی گرانٹ کی سال بھر میں ملنے والی چار اقساط سے تو جامعہ کے تین مہینوں کا خرچہ بمشکل چلایا جاسکتا ہے اسی طرح دو یا تین مہینے صوبائی گرانٹ پر روکھے سوکھے انداز میں گزر بسر ہو جائے گا تو کیا سال کے باقیماندہ چھ مہینے اوورٹائم ختم کرکے اخراجات پورے ہونگے؟ ویسے آمدن میں اضافے اور اخراجات میں کمی کے بہت سے طریقے اور ذرائع ہو سکتے ہیں مگر وہ یونیورسٹی کے کرتا دھرتا سے اوجھل ہیں بطور مثال یونیورسٹی کے ارنم گیٹ سے مشرق کی جانب سپین جومات چوک تک کا گرین بیلٹ والا حصہ ہیروئنچیوں  سے واگزار کرکے کمرشل تعمیرات کی جائیں تو یونیورسٹی کی آمدنی میں ماہانہ کروڑوں روپے کا اضافہ ہو جائے گا یہ بات جامعہ کے کئی ایک وائس چانسلرز صاحبان کے نوٹس میں بھی لائی گئی مگر ان سنی ہوگئی ممکن ہے کہ کوئی دوسرا حکومتی ادارہ آگے بڑھ کر سونے کی یہ چڑیا اپنے قبضے میں لے لے کیونکہ یہ شروعات تو ہو بھی چکی ہیں مگر یونیورسٹی کی اراضی کے بدلے عوضانے کا جو وعدہ کیا گیا تھا اسے بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہاں البتہ ایک بات ہے اور وہ یہ کہ یونیورسٹی کیمپس میں پشاور اپ لفٹ پروگرام کے تحت جو تعمیراتی اور آرائشی کام ہوگئے ممکن ہے یہی یونیورسٹی کی اراضی کا عوضانہ ہو ویسے یہ اندازہ لگانا ضروری نہیں کہ اسلامیہ کالج کے قائمقام وائس چانسلر کے طورپر ڈاکٹر ضیاء الحق کو کتنا وقت ملتا ہے؟ ویسے بھی موصوف خیبرمیڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی مصروف ترین نشست چلارہے ہیں لیکن موصوف نے آتے ہی اسلامیہ کالج کی کارکردگی بہتر بنانے‘ زیادہ محنت خود احتسابی اور آمدنی میں اضافے کی جو کوششیں شروع کر دی ہیں اگر صوبائی حکومت اور اپنی انتظامیہ فیکلٹی اور ایلومنائے کا بھرپور تعاون حاصل ہو تو ممکن ہے کہ کچھ کرکے دکھا سکیں‘جامعات کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے بعض خوش فہم لوگ یہ بات کر سکتے ہیں کہ مستقبل قدرے بہتر یا روشن ہوگا لیکن گزشتہ ایک عرصہ بالخصوص دو عشروں سے اعلیٰ تعلیم کی تنزلی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس میں تو کسی وقت کس موقع اور مقام پر کوئی کمی کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی اب آگے جاکر کیا ہوگا؟ اس بابت کوئی اندازہ قائم کرنا نجومیوں والی بات ہوگی البتہ یہ بات بے جا نہ ہوگی کہ سرکار کی تعلیمی پالیسی عجیب و غریب اقدامات بالخصوص مداخلت کاری اور مالیاتی سرپرستی میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو حکومتی ترجیحات میں کہیں پر بھی نہ رکھنے کے سبب یونیورسٹیوں میں محرومی‘ مایوسی‘ اضطراب اور اس کی وجہ سے عدم تعاون کی جو فضا قائم ہے اس کے ہوتے ہوئے کسی بہتری کی توقع رکھنا بالکل ایسی بات ہوگی کہ ”تبدیلی آئے گی نہیں تبدیلی آئی ہے“ چلتے چلتے ان سطور کے اختتام تک یہ بھی معلوم ہوا کہ صوبائی گرانٹ میں صوبے کی سب سے بڑی یونیورسٹی کو سب سے زیادہ حصہ ملنے کا اندازہ درست نہیں تھا کیونکہ گرانٹ محض 14کروڑ نکل آئی اور وہ بھی ملی ہے یا راستے میں ہے؟ کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ یونیورسٹی انتظامیہ کی بیسک پے والی باتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ غالباً ابھی راستے میں ہے۔