تمام قرائن و شوائد بتا رہے ہیں کہ وطن عزیز عنقریب پانی کے شدید بحران کا شکار ہو ے والا ہے اس لئے ملک میں واٹر ایمرجنسی کا اطلاق فوراً سے پیشتر وقت کا تقاضا ہے‘ ماہریں نے اس ضمن میں آج سے کئی برس پہلے پانی کے بحران کا عندیہ دے کر اس ملک کے ارباب اقتدار کو خبردار کر دیا تھا اور درج ذیل فوری اقدامات اٹھائے کی ضرورت پر زور بھی دیا تھا پر ان کی سنی کو ان سنی کر دیا گیا‘بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور سٹور کرنے کے واسطے ملک میں جھیلیں بنائی جائیں‘ پانی کی راشننگ کے لئے میڈیا کے ذریعے عوام کو راغب کیا جائے‘ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے استعمال شدہ پانی کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے۔ سیلابوں کے پانی کو ذخیرہ کیا جائے۔افسوس صد افسوس ہم خواب خرگوش میں مبتلا رہے اور آج جب ملک میں پانی کی کمی کا خطرہ ہمارے سر پر منڈلا رہا ہے تو
ہماری آ نکھ کھلی ہے۔ پانی کی کمی سے چارہ بھی کم ہوگا‘ جب چارہ کم ہوگا تو دودھ دینے والے مویشی دودھ کیسے دیں گے اور پیاس کی شدت سے جب وہ ہلاک ہوں گے تو ملک نہ صرف دودھ کی قلت کا بھی شکار ہو گا اور ملک کو گوشت کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ پینے کے پانی کی قلت اپنی جگہ پر اس سے ملک کی زراعت بھی بری طرح متاثر ہو گی۔چاول کی کاشت بھی کم ہوگی‘ قصہ کوتاہ پانی کی کمی کا بحران ملک کی معیشت کے لئے سم قاتل ہے۔ یہ ارباب اختیار کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے‘اس وقت بھی حکمت عملی سے کام نہ لیا گیا تو ملک مستقبل فریب میں مزید مشکلات کا شکار ہوگا۔
ان ابتدائی سطور کے بعد درج ذیل امور کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا۔افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا حکومتی فیصلہ ایک صائب فیصلہ ہے‘ بار بار اس قسم کے فیصلے کرنے کے بعد ان میں توسیع کرنا کوئی دانشمندانہ فعل نہیں‘اب جو چیز ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اس پر من و عن عمل درآمد ہو اور آئندہ کے واسطے ایسا ویزا سسٹم لاگو کیا جائے کہ جس سے پاکستان میں افغانیوں کی آمد و رفت پر کنٹرول ہو اور متعلقہ اداروں کو یہ پتہ چلتا رہے کہ جو افغانی پاکستان میں داخل ہوا ہے وہ ویزے کی معیاد کے بعد واپس اپنے
ملک چلا گیا ہے۔نہ جانے یوکرائن کے صدر کیوں اس انتظار میں ہیں کہ کب روسی صدر پیوٹن مرتے ہیں اور روس کے ساتھ ان کے ملک کی جنگ ختم ہوتی ہے اس ضمن میں جب سے پیوٹن روس کے صدر بنے ہیں مغربی میڈیا ان کی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہونے کی خبریں تواتر سے چھاپ رہا ہے امریکی صدر ٹرمپ اور یورپی یونین کے درمیان معاشی اور تجارتی پالیسیوں میں اختلاف کی خبریں منظر عام پر آ رہی ہیں‘ ٹرمپ کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی یورپی یونین کے ممالک پر زبردستی لاگو کرنا چاہتا ہے‘افہام و تفہیم کے الفاظ اس کی ڈکشنری میں نہیں ہیں اس کا انداز حکومت تحکمانہ ہے‘سابق امریکی صدر اور نائب صدر کے خلاف اس نے جو حالیہ سخت تادیبی اقدامات اٹھائے ہیں اس قسم کے اقدامات کی امریکہ کی سیاسی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔