142

جیپ اور بلے کی باری

آنیوالے کل کا حال کوئی کیسے جان سکتا ہے صدیوں سے انسانی فطرت کی اس تشنگی کی تسکین کی ذمہ داری پیروں‘ فقیروں‘ عاملوں‘ نجومیوں اور قافیہ شناسوں نے سنبھال رکھی ہے ضروری نہیں کہ نیم خواندہ اور ضعیف الاعتقاد لوگ ہی درباروں اور درگاہوں پر منتیں ماننے اور چڑھاوے دینے جاتے ہوں‘ پڑھے لکھے ‘ نامی گرامی اور طاقتور لوگ بھی صاحبان کشف و کرامات کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرتے ہیں‘دنیا میں ہر جگہ منجم‘ زائچہ نویس‘ فال نکالنے والے اور دست شناس مل جاتے ہیں‘ کہیں زیادہ کہیں کم‘ بینظیر بھٹو مغربی یونیو رسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ہاتھ میں تسبیح رکھتی تھیں اور اپنے پیر کے ڈیرے پر حاضری بھی دیتی تھیں امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے مذہب پرستEvangelicals ووٹروں کی مدد سے صدارت حاصل کی آج کئی یورپی ممالک میں مذہب پرست قوم پرستوں کیساتھ ملکر حکومتیں بنا رہے ہیں جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کو بھی اب اپنی حکومت بچانے کے لئے قوم پرستوں سے اتحاد کرنا پڑ گیا ہے ۔

مذہب اور توہم پرستی کی سرحدیں کہاں ملتی ہیں اسکا معقول اور مستند جواب مذہبی سکالر ہی دے سکتے ہیں یہ موضوع کسی بھی ملک میں انتخابات کے موقع پرضرورزیر بحث آتاہے امریکہ میں نومبر 2016 کے الیکشن میں یہ مذہبی ووٹروں کی اہمیت کی وجہ سے طویل عرصے تک قومی مکالمے کا حصہ بنا رہا اسکی باز گشت آج بھی یہاں سماجی اور نفسیاتی علوم کے سیاق و سباق میں سنائی دے رہی ہے پاکستان میں یہ بحث و تمحیص جس تناظر میں ہو رہی ہے اسے حیرت انگیز کہا جا سکتا ہے دو ہفتے قبل پاکستان کے میڈیا پر عمران خان کے فرائیڈے سپیشل کو دئے گئے انٹرویو کا بڑا چرچا تھا خان صاحب نے یہ انٹرویو بنی گالہ میں ایک مغربی صحافی کو دیا تھااس بات چیت کے اختتام پر انہوں نے مہمان خاتون کو گھر کی ایک دیوار بتائی اور کہا کہ یہ انکی اہلیہ سے گفتگو کرتی ہے پھر انہوں نے خاتون صحافی کو گھر کے کسی کونے میں گوشت پڑا ہوا دکھایا اور کہا کہ اسے جنات کھاتے ہیں اسکے چند روز بعد خان صاحب اور انکی اہلیہ پاکپتن کے صوفی بزرگ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر کے مزار پر گئے وہاں دونوں میاں بیوی نے مزار کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکا یہ ویڈیو ٹیلیویژن اور سوشل میڈیا پر کئی دنوں تک زیر بحث رہی خان صاحب کی اس مذہب پرستی یا توہم پرستی پر ایک فکر انگیز تبصرہ ممتاز مذہبی سکالر خورشید ندیم صاحب نے پانچ جولائی کے کالم میں کیا ہے اسکا عنوان ہے ’’ گوجر خان سے پاک پتن تک‘‘ اسمیں لکھا ہے ’’ حال ہی میں سامنے آنیوالی ویڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران اب پوری طرح اپنے روحانی پیشوا کی گرفت میں ہیں۔

جہاں وہ سر رکھنے کو کہیں یہ سوچے سمجھے بغیر اپنا سر رکھ دیتے ہیں جیسے اور جس کونے میں بٹھا کر وہ دعا کرنیکا حکم دیں یہ ویسے ہی ہاتھ اٹھا دیتے ہیں‘‘ خورشید صاحب نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے ان سطور میں تذکیر و تانیث کی وضاحت نہیں کی مگر باقی کے کالم سے پتہ چلتا ہے کہ اشارہ ’’ پیرنی‘‘ ہی کی طرف ہے اب گھر کے اندر کی بات کالم نگار کو کیسے معلوم ہوئی یہ نہیں بتایا گیا ‘ مزید لکھتے ہیں ’’ یہ ایک عامل اور معمول کا تعلق ہے تصوف کی روایت میں بھی شیخ کے ساتھ اسی طرح کا رشتہ ہوتا ہے ‘ یہاں جواز نہیں پوچھا جاتا صرف اتباع کی جاتی ہے‘‘ اب کیا اس سوال سے صرف نظر کیا جا سکتا ہے کہ خان صاحب وزیر اعظم بننے کے بعدقومی امور کے فیصلے اپنے روحانی پیشوا کے احکامات کے مطابق کریں گے یا ریاستی امور کے ماہرین و مشاہیر کی بھی سنی جائیگی ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ شاہراہ دستور پر واقع وزیر اعظم کے دفتر میں طاقتور ریاستی اداروں کی اطاعت گزاری لازمی امر ہے اس جھرمٹ میں روحانی پیشوا کی جگہ کہاں ہو گی اسکا جواب نئی بیاض سیاست لکھنے والے ہی دے سکتے ہیں۔

فی الحال تو یہی نظر آرہا ہے کہ خان صاحب نے چار سال کی جہد مسلسل کے بعد نواز شریف‘ انکی صاحبزادی اور داماد کو اڈیالہ جیل پہنچا دیا ہے اب تیرہ جولائی کو لوگ میاں صاحب کے استقبال کیلئے لاہور ائیر پورٹ جائیں یا نہ جائیں خان صاحب کی وزارت عظمیٰ کے راستے میں کوئی بڑی رکاوٹ نظر نہیں آ رہی میر ظفراللہ جمالی 2002 میں بلوچستان سے صرف اپنی ایک سیٹ لیکر آئے تھے مگر گجرات کے چوہدریوں کی قاف لیگ اور پیپلز پارٹی کے پیٹریاٹ نے مل جل کرانہیں وزیر اعظم بنا دیاتھااس بار بھی ضرورت صرف ایک ہی سیٹ کی ہے اسکے ساتھ کچھ عمر رسیدہ جاگیر دار‘ کچھ قابل انتخا ب طالع آزما‘ کچھ فاٹا ‘ بلوچستان اور کراچی والے سب مل جل کر بھان متی کا کنبہ جوڑلیں گے رہی سہی کسر آزاد امید وار پوری کر دیں گے تحریک انصاف نے 2013 میں قومی اسمبلی کی انتیس نشستیں حاصل کی تھیں اسوقت نواز شریف اور زرداری دونوں میدان میں تھے اب ان میں سے ایک کو گیارہ برس کی قید با مشقت کا سامنا ہے اور دوسرے کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے ن حالات میں خان صاحب کی جماعت بڑی آسانی سے ساٹھ ستر سیٹیں نکال لے گی اسمیں اوپر بیان کر دہ بزر جمہروں کو شامل کر لیا جائے تو بات سو سے اوپر جا پہنچتی ہے اب پچیس جولائی کے آنے کی دیر ہے اس دن میاں صاحب اور انکی صاحبزادی جیل میں ہوں یا ضمانت پر رہا ہو کر گھر میں ہوں انہیں ہمدردی کا تھوڑا بہت ووٹ ضرور ملے گا مگر وہ اتنا نہ ہو گا کہ نون لیگ مرکز میں حکومت بنا سکے اب جیپ یا بلے میں سے کسی ایک کا آنا طے پا گیاہے خان صاحب نے اگراس دشت کی جادہ پیمائی میں بائیس برس لگائے ہیں تو چکری کے چوہدری صاحب بھی تو کم از کم تین عشروں سے میدان کار زارمیں موجود ہیں انکا تعلق ایک فوجی گھرانے سے ہے وہ تا دم تحریر کسی روحانی پیشوا کی گرفت میں بھی نہیں ہیں اور عامل ومعمول کے بندھنوں میں بھی نہیں جکڑے ہوئے ‘ ان میں افتاد طبع‘ مزاج کے غیض و غضب اور طبیعت کی برہمی کے آثار بھی صرف اسی وقت نظر آتے ہیں۔

جب بڑے میاں صاحب انکی نہیں سنتے اخباری اطلاعات کے مطابق اب تک جیپ کے قافلے میں سو سے زیادہ آزاد امیدوار شامل ہو چکے ہیں چوہدری صاحب نے جماعت بنائی نہ ٹکٹ دینے کے جھمیلوں میں پڑے اور نہ ہی کسی قابل انتخاب کے ہاتھ فضا میں بلند کر کے تصویر بنائی اسکے باوجود جیپوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ کسی بزرگ کے مزار پر بھی تشریف نہیں لے گئے ‘ پھولوں کی چادر بھی نہیں چڑھائی‘ نذرانہ بھی نہیں دیا اسکے باوجود مریدان وفا کیش کا ہجو م بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ خان صاحب کلین بولڈ ہو گئے ہیں وہ میدان میں موجود ہیں حق بھی انکا بنتا ہے بات صرف اتنی ہے کہ سیاست اور کارو بار دونوں میں نمبر دو کا ہونا ضروری ہوتا ہے آفات ناگہانی کا کچھ پتہ نہیں چلتا کسی بھی لمحے متبادل کی ضرورت پڑسکتی ہے اب پچیس جولائی نے صرف اتنی خبر دینی ہے کہ وکٹری سٹینڈ پر پہلی پوزیشن بلے کی ہو گی یا جیپ کی ہمیں ہر دو صورتوں میں ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑیگا کہ Politics is a world of imperfect choices یعنی سیاست ناقص انتخاب کی دنیا ہے یہ بات طے ہے کہ وزیر اعظم جو بھی ہوگا وہ صاحبان اختیار کے معیار پر پورا نہیں اترے گا اسکاانجام بھی سترہ راندۂ درگاہ وزیر اعظموں جیسا ہو گا یہ کوئی پیش گوئی نہیں ہماری تاریخ کا سبق ہے اس طرح کے جھگڑوں میں جلد یا بدیریوم حساب سر پر آ ن کھڑا ہوتا ہے یہ ملک اسی تنازعے میں دو لخت ہو چکا ہے اسکے حالات آج بھی نا گفتہ ہیں مگر طاقت اور اختیار ہر قیمت پر اپنے ہاتھ میں رکھنے والے ایک مرتبہ پھر کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں ہٹلر کو بھی سرحدوں پر کھڑے دشمنوں کی پرواہ نہ تھی ملک کے اندر کی بے چینی اور اضطراب بھی اس کیلئے کوئی اہمیت نہ رکھتا تھا آگے ہی بڑھتے رہنے کے علاوہ اسکے پاس دوسرا کوئی راستہ نہ تھا ان راستوں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آتا نفرت اور انتقام سب کچھ جلا کر بھسم کر دیتا ہے۔
فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی