80

پشاو ریونیورسٹی میں ہڑتال

کافی عرصے سے طلباء کی ہڑتالوں کا سلسلہ کچھ رکا ہوا تھا ‘اسکی وجہ تو کوئی بھی ہو سکتی ہے مگر ہمارے خیال میں اسکی وجہ سیاسی جماعتوں کا ایک عرصے کا سکون ہے‘ پرویز مشرف کی حکومت سے لے کر نواز شریف کی حکومت تک سیاست میں وہ ہل چل نہیں رہی کہ جس سے طلباء کو سڑکوں پر آنا پڑتا اور دوسری بات کہ طلباء یونین پر پابندی نے بھی ماحول کو کافی پر امن رکھا۔ اسلئے کہ طلباء یونین طالب علموں کی نہیں ہوتیں انکا براہ راست تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہوتا ہے‘کوئی سیاسی جماعت اگر اقتدارمیں نہیں ہوتی تو وہ اپنے طالب علموں کی یونین کو ابھار دیتی ہیں اور پھر انکے مطالبات شروع ہو جاتے ہیں اور پھر ہنگامے شروع ہو جاتے ہیں طلباء کے مطالبات ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو محکمہ تعلیم یا یونیورسٹی حل کرنے کے قابل ہی نہیں ہوتے اور پھر سیاسی پارٹیاں ہمدردیوں کے ڈونگرے لئے میدان میں آ جاتی ہیں‘ہم چونکہ پشاور یونیورسٹی کے طالب علم رہے ہیں اسلئے جب بھی اس یونیورسٹی میں ہڑتالوں کی بات ہو تی ہے توہمیں بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے‘ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہڑتالیں کیوں ہوتی ہیں‘اسلئے کہ جب ایوب خان کی حکومت کیخلاف ہڑتالیں شروع ہوئی تھیں تو ہم اس یونیورسٹی میں ایم ایس سی فائنل کے طالب علم تھے۔ گو ہمارا ڈیپارٹمنٹ ہڑتالوں والا نہیں تھا مگر دیگر ڈیپارٹمنٹ اور کالجز آزاد تھے کہ جیسے چاہیں ہڑتال کریں ‘تاہم یہ ہڑتال کافی عرصے تک چلی اور جب ہم یونیورسٹی سے فارغ ہو کر عملی زندگی میں آئے تو تب معلوم ہوا کہ یہ ہڑتال ہمارے مطالبات کی نہیں تھی بلکہ یہ ایک بین الاقوامی سازش تھی۔

اور اس میں ہماری سیاسی پارٹیاں بھی شامل تھیں‘ اسی طرح ایک دفعہ ہماری طالب علمی کے زمانے میںیونیورسٹی آرڈیننس کیخلاف ہڑتالیں ہوئیں اس میں کسی بھی ہڑتالی لیڈر کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یونیورسٹی آرڈیننس ہے کیا بلا۔ صرف یہ بات تھی کہ ہم سے ڈگریاں چھین لی جائیں گی‘ اس ہڑتال میں بھی کوئی اور قوتیں ہی ملوث تھیں‘ابھی جو ہڑتال ہو رہی ہے اس میں فیسوں میں اضافے کو بہانہ بنا یا گیا ہے مگر ہم اس بات پر حیران ہیں کہ یونیورسٹی نے فیسوں میں کتنا اضافہ کیا ہو گا کہ اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنیوالے پچہتر فیصد طلباء ایسے ہیں کہ جو اپنی پرائمری جماعتوں میں بھی دو دو تین تین ہزار روپے ماہوار فیس دیتے رہے ہیں‘اسلئے کہ آج کل عموماً لوگ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں اور پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں کا حال سب کو معلوم ہے‘جہاں تک پشاور یونیورسٹی کا تعلق ہے تو اس میں چونکہ ایک سے زیادہ یونیورسٹیاں بن چکی ہیں اسلئے بھی پشاور یونیورسٹی کی آمدن بہت حد تک کم ہو چکی ہے اور ہر سال عملے کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جسکا بوجھ بھی یونیورسٹی سے اٹھانامشکل ہو چکا ہے اسلئے ہم یہ والدین سے التجا کریں گے کہ وہ اپنی یونیورسٹی کو بچانے کیلئے اس سے تعاون کریں‘اور جہاں تک طلباء کی ہڑتال کا تعلق ہے توجو شخصیتیں انکی حمایت میں سر گرم ہیں۔

ہمارا ان سے سوال ہے کہ کیا آپ جن اداروں میں پڑھ کر آئے ہیں وہاں کے طالب علموں کو بھی پرامن ہڑتال کا حق ملتا ہے‘جناب بلاول بھٹو صاحب سے میرا سوال یہی ہے کہ کیا آپ جن اداروں میں پڑھے ہیں وہاں آپ کا کوئی حق تھا یا نہیں‘ کیا آپ نے کبھی پرامن ہڑتال کا سوچا بھی تھا؟کیا صرف ہمارے ہی بچوں کوہڑتال کا حق دیا جا رہا ہے‘ میرا اسفند یار ولی صاحب سے بھی سوا ل ہے کہ کیا آپکو ایچی سن کا لج میں ہڑتال کا حق تھا ۔ کیا آپ کو ایک معمولی سے واقعہ پر کالج بدر نہیں کیا گیا تھا۔ کیا ڈسپلن صرف ان اداروں کا ہی حق ہے کہ جہاں بادشاہ تیا ر کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ ہمارے گورنمنٹ کے تعلیمی اداروں کہ جہاں ہم غریبوں کے بچے پڑھتے ہیں ان میں ڈسپلن کا کوئی تصور نہیں ہے۔ کیا کسی نے یہ بھی سنا ہے کہ ایچی سن کالج میں بھی کبھی ہڑتال ہوئی ہے‘کیا کبھی ایسے ادارے میں کہ جہاں ایلیٹ کلاس کے بچے پڑھتے ہیں وہاں کبھی ہڑتا ل ہوئی ہے‘ہڑتالوں کیلئے ہم غریبوں کے بچوں کو ہی کیوں چنا جاتا ہے‘آپ سیاست ضرور کریں مگر ہمارے بچوں کے سر پر نہ کریں‘ ہمارے بچوں کو حق دیا جارہا ہے کہ وہ ہڑتالیں کریں مگر اپنے بچوں کو یہ حق نہیں دیا جا رہا کیا ایچی سن کالج میں بھی کوئی سٹوڈنٹ یونین ہے ؟کیا ایسے کسی بھی ادارے میں کہ جہاں ایلیٹ کلاس کے بچے پڑھتے ہیں وہاں بھی کوئی سٹوڈنٹ یونین ہے یا یہ صرف ہمارے بچوں کیلئے ہی فرض ہے‘میری اپنے بچوں سے بھی التماس ہے کہ وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں۔