140

وزیراعظم کی پریس کانفرنس

وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں مزید مہنگائی کا عندیہ دیا ہے وہ حسب سابق آئی ایم ایف کے پاس جانے کا امکان بھی ظاہر کرتے ہیں ٗ عمران خان مہنگائی کی وجہ قرضوں کا حصول گردانتے ہیں جبکہ اس کے حل کیلئے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کو ضروری قرار دیتے ہیں دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق 8سے 10 ارب ڈالر کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جبکہ وزیر خزانہ اسد عمر اسکی تردید کر رہے ہیں ٗدریں اثناء ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 7.1رب ڈالر فراہم کرنے کی حامی بھرلی ہے اس مالی امداد کو توانائی ٗبنیادی ڈھانچے کی ترقی اور اداروں میں اصلاحات کیلئے استعمال کیا جائے گا پاکستان کی جانب بعض ممالک سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پیسے ہمارے بینکوں میں رکھیں وطن عزیز کی اکانومی سے متعلق مہیا اعداد و شمار یقیناًباعث تشویش ہیں تاہم انتظامی محکموں کی بدانتظامی اس سے بھی زیادہ قابل فکر ہے اس وقت قرضوں کا حجم28ہزار ارب ہے 90ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ہیں سرکلر ڈیٹ 1200ارب روپے ہے اکانومی پر اتنے بڑے بوجھ کیساتھ ملک کے اثاثوں کی حالت یہ ہے کہ صرف سٹیل ملز نے187ارب روپے دینے ہیں۔

جبکہ پی آئی اے360ارب روپے کی قرض دار ہے بیرونی قرضوں پر مزے جس نے اڑائے قومی اداروں کو جو منافع بخش تھے اربوں روپے کے قرض دار جس کسی کی بدانتظامی اور مداخلت سے ہوئے تاہم اسکا لوڈ اب پاکستان کے شہریوں کو برداشت کرنا ہے اس بوجھ میں بھی دولت مند محفوظ ہے جبکہ غریب اور متوسط شہری پس کر رہ گیا ہے اسے بنیادی شہری سہولتیں ملنا تو درکنار اب اپنے کچن کا خرچ چلانے کی فکر لگ گئی ہے ٗبجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں نے گرانی کی لہر کو مزید شدت دے دی ہے ٗمعیشت کی حالت کے تناظر میں حکومت کی مجبوریاں اپنی جگہ درست سہی تاہم مصنوعی مہنگائی اور ملاوٹ کو روکنے میں ذمہ دار اداروں کی کارکردگی براہ راست مرکز اور صوبوں میں برسر اقتدار حکومتوں کے مجموعی اقدامات پر سوالیہ نشان ثبت کر رہی ہے اکانومی کب بحال ہوگی اور ملک کب خود کفیل ہوگا اس سوال کو چھوڑ کر مرکز اور صوبوں میں وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے دفاتر میں مارکیٹ کنٹرول سیل قائم کرکے مہنگائی ٗملاوٹ ٗطلب و رسد جیسے معاملات کو دیکھنا ضروری ہے اس سے عام شہری کا ریلیف وابستہ ہے اور یہی عام شہری موجودہ صورتحال سے زیادہ متاثر ہے۔

ملک گیر صفائی مہم

وطن عزیز میں بڑے پیمانے پر صفائی مہم کا آغاز یقیناًقابل تعریف اقدام ہے اس مہم کا ثمر آور ہونا ذمہ دار اداروں کی کڑی نگرانی سے مشروط ہے صفائی مہم کا فائدہ صرف اسی صورت حاصل ہوسکتا ہے جب اس خصوصی مہم کے بعد روٹین میں صفائی کا معیار برقراررکھا جائے ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں صفائی کی صورتحال بلاک سیوریج نظام کے باعث زیادہ سنگین ہو چکی ہے نکاسی کا یہ سسٹم شاپنگ بیگز سے بلاک ہے جس کے نتیجے میں نالیاں اور گٹر ابل رہے ہیں صفائی مہم میں سیوریج سسٹم کو کلیئر کرنے کے ساتھ ضرورت شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہے ٗ خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ اس حوالے سے ہدایات جاری کر چکے ہیں تاہم ان پر عملدرآمد سے متعلق ذمہ دار محکمے کی حتمی رپورٹ کا انتظار ابھی کتنا باقی ہے اس سے متعلق کچھ نہیں بتایا جا رہا۔