84

دارلحکومت سکیورٹی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سکیورٹی حکومت کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے‘ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے کیپیٹل افیئرز ڈویژن (کیڈ)کے خاتمے پر زیادہ آنسو نہیں بہائے گئے شاید اسلئے کیونکہ یہ عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہا ہے مگر پھر بھی دارالحکومت کو وزارت داخلہ کے کنٹرول میں دینے کے فیصلے پر نظرثانی ہونی چاہئے۔ پہلی وجہ تو وزارت داخلہ کی کارکردگی پر پڑنے والے منفی اثرات دیکھے بغیر اسکے بوجھ میں اضافہ کرنا دانشمندی نہیں ہے‘ امن و امان کی صورتحال اور داخلی سلامتی پر نظر رکھنا اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے قومی ایکشن پلان کا نفاذ پہلے ہی وزارت کے پاس موجود سنجیدہ اور بھاری ذمہ داری ہے‘ اسے اضافی ذمہ داریاں دینے سے لامحالہ طور پر یہ اپنی بنیادی ذمہ داریاں بھی ٹھیک سے ادا کرنے میں مشکلات کا شکار ہوگی‘ وزارت سے توقع ہے کہ وہ پاکستانی شہریوں کا بیرون ملک سفر اور غیر ملکی شہریوں کا سفرپاکستان آسان بنائے مگر واضح طور پر اس کی حکمت عملی رکاوٹ انگیز ہے اور یہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ کا قانونی طور پر متعین حدود سے ماوراء ہوکر استعمال کرتی ہے۔ پاکستان سے دیگر ممالک اور دیگر ممالک سے پاکستان انسانی سمگلنگ کنٹرول کرنے کے اقدامات ہوں یا بیرون ملک موجود پاکستانیوں کے مسائل سبھی کچھ غیر اطمینان بخش ہے۔1988-89ء سے اب تک کئی مرتبہ حکام کو جیل اصلاحات کا خیال آچکا ہے نتیجتاً وزارت کی الماریوں میں فائلوں کے انبار لگ چکے ہیں‘ سندھ میں چنہ رپورٹ پر کچھ ایکشن کے علاوہ مختلف کمیٹیوں کی سفارشات ابھی تک نفاذ کی منتظر ہیں۔

مجرموں کو معاف کرنے کی صدر کی آئینی طاقت اور قانون قصاص کے درمیان جو تصادم موجود ہے اسے کبھی بھی حل نہیں کیا گیا۔ سنٹرل پولیس بیورو جس کی ذمہ داریوں میں جرائم اور علم جرائم پر کوائف اکھٹا کرنا‘ مجرموں‘ خاص طور پر خواتین اور بچوں کو ہونیوالی سزا اور انکی بحالی پر تحقیق کرنا شامل ہے‘ وسائل اور عزم کی کمی کی وجہ سے بے یار و مددگار نظر آتا ہے‘ اسکے بعد شہریوں کی رجسٹریشن اور نادرا کی اس حوالے سے رہنمائی کرنا اورایف آئی اے کیلئے بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں شامل ہیں‘اگر ہم وزارت داخلہ کے عملے کے کندھوں پر موجود بوجھ کو دیکھیں تو انکی خامیوں پر تنقید کیساتھ ساتھ تھوڑی سی ہمدردی بھی ہونے لگتی ہے‘ وزارت داخلہ کے قلمدان میں ذمہ داریوں کے اضافے کے نتائج بھی متاثر کن نہیں ہیں‘اسے جبری گمشدگیوں سے نمٹنے کا ٹاسک دیا گیا تھا جو درحقیقت وزارت قانون و انصاف کو دیا جانا چاہئے تھا اور اسکا کریڈٹ بہت ہی کم ملا ہے‘ اس کے بعد بین الاقوامی این جی اوز اور سول سوسائٹی تنظیموں کو بھی وزارت داخلہ کے ماتحت کردیا گیا‘ جس فیصلے سے پاکستان کو بے انتہانقصان ہونیوالا ہے‘اب وقت ہے کہ جن امور کا سکیورٹی اور پولیسنگ سے براہ راست تعلق نہ ہو انہیں وزارت داخلہ پر ڈالنا بند کیا جائے‘۔

زارت داخلہ کی ذمہ داریوں میں امور اسلام آباد کے اضافے سے جو چیز کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ افشاں ہوتی ہے وہ دارالحکومت کی ضروریات سے عدم واقفیت ہے اور سکیورٹی ان ضروریات کا صرف ایک حصہ ہے۔ لگ بھگ آدھی صدی عمر رکھنے والا یہ شہر اب بھی زیرِ تعمیر ہے بھلے ہی اس کی کچھ ضروری بنیادیں رکھی جاچکی ہیں اور اس کے پرانے لیبلز جیسے کہ ڈپلومیٹک ولیج یا پھر حاضر سروس بیوروکریٹس کیلئے ریٹائرمنٹ کا ٹھکانہ جیسے اب اترتے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد اب سویلین اور ملٹری اداروں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ جی ایچ کیو کی اسلام آباد منتقلی کے بعد تینوں مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ہوں گے اور سول اور ملٹری انتظامیہ کے درمیان کم از کم زمینی فاصلہ تو کم ہو ہی جائیگا‘شہر پہلے ہی ملک کا قانون سازی اور انصاف کا دارالحکومت ہے ‘اسلام آباد کی ایک زندہ دل‘ آزاد اور متحرک بستی کے طور پر شناخت اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے گورننس کی ترقی پسند اور انسان دوست پالیسیوں کی تشکیل‘ جابرانہ عدم مساوات کے خاتمے‘ نظامِ انصاف کے سامنے تمام شہریوں کی برابری‘ اس کے تدریسی و ثقافتی و فنی مراکز کی جانب سے لوگوں کو زبان فراہم کرنے اور اسکے ماہرین تعمیرات کی ثقافتی ورثے کو جدید دور کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے اور وہ بھی اس قیمت پر جو وسائل کی کمی کے شکار لوگ برداشت کرسکیں‘اس سب میں دہائیاں‘ شاید صدی بھر لگ جائے مگر راستہ آج سے متعین کرنا ہوگا اور ترجیحات واضح طور پر طے کرنی ہوں گی‘کوئی ایک وزارت اس کام کو تن تنہا سرانجام نہیں دے سکتی‘ بہت کچھ اسلام آباد کے سیاسی نظام پر منحصر ہوگا‘ شاید اسے ایک طاقتور چیف کمشنر یا لیفٹیننٹ گورنر کی بطور سربراہ شہر ضرورت ہے‘دارالحکومت کے تمام امور کو ایک خصوصی ادارے کے سپرد کرنا چاہئے جس میں ہاؤسنگ‘ ٹرانسپورٹ‘ تعلیم‘ انسانی حقوق‘آرٹس اور ثقافت کے ماہرین شامل ہوں‘ ایسے ماہرین جو لوگوں کی ضروریات اور امنگوں کو سننے سے خوفزدہ نہ ہوں۔ (بشکریہ:ڈان۔ تحریر:آئی اے رحمان۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)